ڈالر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

نگراں حکومت نے آتے ہی ایک ڈالر121 روپے کے مساوی کردیا۔


Editorial June 13, 2018
نگراں حکومت نے آتے ہی ایک ڈالر121 روپے کے مساوی کردیا۔

دوسری مسلسل جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے رخصت کیا ہوئی کہ ، جب کہ عوام پر ستم بالائے ستم ڈھاتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 4.26 روپے اضافہ کرتے ہوئے، یہ عندیہ دیا کہ اب مہنگائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے جس میں عوام خس وخاشاک کی طرح اڑجائیں گے۔ کیونکہ راتوں رات ڈالر مہنگا ہونے سے بیرونی قرضوں میں 350 ارب کے اضافے کا بوجھ عوام پر ہی لادا جائے گا۔

سچ تو یہ ہے کہ تقریبا پون صدی ہونے کوآئی ہے ہم قرض کی مے پیتے آئے ہیں، سود پر قرضے در قرضے اور پھر قرضے اتارنے کے لیے مزید قرضے۔ عادی قرض خواہوں کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ تازہ مثال لیجیے کہ چھ ماہ میں ڈالر کے ریٹ پندرہ روپے مزید بڑھ گئے ہیں یوں سمجھیں یہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا اشارہ ہے۔ معاشی ماہرین نے اس صورتحال کو الارمنگ قرار دیا ہے،ان کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ بیرونی ادائیگیاں اورکم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر بنے ہیں، ماہانہ ایک ارب ڈالرکی ادائیگیاں زرمبادلہ ذخائرکوکم کررہی ہیں، جنھیں کم از کم 3ماہ کی درآمدات کے مساوی رکھنا ہے۔ اس ساری صورتحال کو عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کچھ یوں بیان کیا ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدے کے مطابق پاکستان کرنسی کی قدر میں بتدریج کمی کر رہا ہے۔

نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر ماضی میں اسٹیٹ بینک کی گورنر رہی ہیں اور ان کے دور میں بھی ڈالرکی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیے جانے کے بجائے اوپن مارکیٹ میں طلب ورسد کی بنیاد پر قیمت طے کیے جانے پر زیادہ زور دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ماہرین معیشت اور بالخصوص تمام وزیرخزانہ جن کا تعلق چاہے جمہوری حکومتوں سے رہا ہو یا پھر آمرانہ حکومتوں نے انھوں نے ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جس سے نہ صرف ملک قرض کی دلدل میں مزید دھنستا چلا گیا بلکہ عوام کی قوت خرید بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے نمایندے کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں اچانک قیمت بڑھانے سے اوپن مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔

ہمیں ایک پالیسی اپنانی چاہیے یا تو ڈالرکی قیمت کو اسٹیٹ بینک ریگولیٹ کرے یا پھر اْسے اوپن مارکیٹ پرچھوڑ دیا جائے۔ ہر وزیرخزانہ اپنی ہی منطق لے کرآتا ہے کہ معیشت کو مزید بحران میں مبتلا کر کے چلا جاتا ہے ۔ دراصل درآمد و برآمدات کے درمیان نمایاں فرق، زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں بتدریج کمی نے امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر کوغیرمستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، بلکہ ملکی معیشت کو مزید کمزورکیا ہے۔ کیا ہم اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے کوئی تجارتی پالیسی مرتب کی ہے جواب نفی میں آتا ہے۔ جن ممالک میں ہماری زرعی اجناس برآمدات کی صورت میں جاتی تھیں، ان تجارتی منڈیوں پر بھارت کا قبضہ ہوچکا ہے۔ملک میں ٹیکسائل کی منافع بخش صنعت بحران کا شکار ہوکر دم توڑ گئی، لیکن کسی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

ایک ماہر معاشیات کے بقول امریکی ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ ملک کا بے قابو تجارتی خسارہ اس کی اصل وجہ ہے جو36 ارب ڈالر سے تجاوزکرچکا ہے اور اسی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائرتیز رفتاری کے ساتھ گرتے جارہے ہیں، نگراں حکومت نہ تو قرضہ لے سکتی ہے اور نہ ہی پالیسی سازی جس کے سبب مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال بڑھتی جارہی ہے ۔جب حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو تو کم ازکم نگراں حکومت کو ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے ڈالرکی قیمت کو مزید پر نہ لگیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںمیں اضافہ بھی مہنگائی بم گرانے کے مترادف ہے،کم ازکم نگراں حکومت سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ یوں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرے گی،کیونکہ اشیائے خورونوش سے لے کر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ کرلیا جاتاہے اور اس اضافے کو روکنے یا اس پرقابو پانے کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات حکومتی سطح پر نہیں اٹھائے جاتے ہیں۔ اب تو مہنگائی کی شرح میں سالانہ یا ششماہی کی بنیاد پر بلکہ مہینے اور ہفتے کی بنیاد پر اضافہ ہوتا ہے، جب کہ تنخواہوںمیں برسوں اضافہ نہیں ہوتا۔ بیرون ممالک میں مقیم لاکھوں محنت کش پاکستانی جو رقوم اپنے وطن بھیجتے ہیں ۔

اس سے ملکی معیشت اور ملکی خزانے کو کافی سہارا ملتا تھا لیکن اب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں سے ان محنت کشوں کی جبری بے دخلی کے باعث یہ سلسلہ بھی ختم ہوتا نظر آرہا ہے جو ملکی معیشت پر کاری ضرب کے مترادف ہے، مرے پر سو درے کے مصداق ڈالرکے ریٹ میں مزید اضافے کا خطرہ ہے کہ آیندہ دنوں میں مہنگائی میں ہوشربا حد تک مزید اضافہ ہوگا ۔عوام تو لاوارث ہیں انھیں کون پوچھتا ہے، مہنگائی نے تو ان کی کمر پہلے توڑ دی ہے، اب تو وہ بستر مرگ پر پڑے آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔ وینٹی لیٹر پر پڑی معیشت کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے اقدامات کی فوری ضرورت ہے، لہٰذا ایسے اقدامات سے گریزکیا جائے جو عوام کا بھرکس نکالنے کا سبب بنیں ۔