نگراں وزیراعظم نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے پررپورٹ طلب کرلی

ویب ڈیسک  بدھ 13 جون 2018
زلفی بخاری دو روز قبل عمران خان کے ہمراہ  عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہیں فوٹو: فائل

زلفی بخاری دو روز قبل عمران خان کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہیں فوٹو: فائل

اسلام آباد: نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں اور ان کا نام  ای سی ایل میں شامل ہے۔ زلفی بخاری دو روز قبل عمران خان کے ہمراہ نور خان ایئر بیس سے عمرے کی ادائیگی کے لیے جانا چاہتے تھے لیکن ایف آئی اے حکام نےزلفی بخاری کو روک دیا تھا۔

وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام نے مبینہ دباؤ پر زلفی بخاری کو سفر کی اجازت دے دی تھی۔ معاملہ میڈیا میں آنے پر نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک نے وزارت داخلہ سے زلفی بخاری کے سعودی عرب جانےکی رپورٹ طلب کرلی۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ زلفی بخاری کوان کا نام ای سی ایل میں ہونے سے آگاہ کر دیا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ ایئرپورٹ نہ آئیں، زلفی بخاری کو سفر سے روکنے پر ایف آئی اے حکام پر دباؤ ڈالا گیا، ایف آئی اے حکام کو زلفی بخاری سے وطن واپسی کا بیان حلفی لینے کا کہا گیا، ایف آئی اے حکام کے انکار پر وزارت داخلہ سے رابطہ کیا گیا، وزارت داخلہ نے انہیں چھ دن کیلئے سعودی عرب جانے کی تحریری اجازت دی۔

دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع کے مطابق زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں نہیں بلکہ بلیک لسٹ میں شامل ہے۔ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ایکٹ ایک بار بھی نام نکالنے کی اجازت نہیں دیتا، بلیک لسٹ میں نام ڈالے جانے کی مدت پوری ہونے پر ہی نکل سکتا ہے یاعدالت اس کا حکم دیتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی پورٹ ہوکر آنے والے پاکستانیوں کے نام پانچ سال کے لئے بلیک لسٹ میں ڈالے جاتے ہیں اور جعلی پاسپورٹ بنوانے پر بھی نام بلیک لسٹ میں ڈالاجاتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔