مسرتوں اور چیلنجوں کا حسیں سنگم

اس بار سیاسی گہماگہمی میں اہل وطن اور دنیا کے شائقین فٹبال کو فیفا کے عالمی کپ کے مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔


Editorial June 15, 2018
اس بار سیاسی گہماگہمی میں اہل وطن اور دنیا کے شائقین فٹبال کو فیفا کے عالمی کپ کے مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

دنیا ایک گلوبل ولیج ہے، اور پاکستان اس کا ایک ناگزیر حصہ۔ اس ایک اصطلاح جدیدنے دوریوں کو قربتوں میں بدل دیا ہے۔

آج مملکت خداداد نے اپنی تاریخ کے سات عشروں کا سفر طے کیا ہے، ابھی فلاحی اسلامی مملکت کی شاید منزل نہیں آئی، مگر کارواں کو اسی منزل کی تلاش ہے، ماہ رمضان کے رحمت، مغفرت اور نجات کے عشرے اہل وطن نے عبادات میں گزارے، پورے ماہ صیام میں اہل ایمان تزکیۂ نفس اور اپنی خواہشوں کے گھوڑوں کو زیر دام لانے کی وجدانی قوتیں استعمال میں لائے، چینلز نے ماہ رمضان کے حوالہ سے شاندار روحانی پروگرام نشر کیے، دینی تعلیمات سے ناظرین کو روشناس کرایا، علمائے کرام اور نئی نسل کے اینکرز نے مذہبی پروگرام نہایت سلیقہ، متانت اور فکری و مسلکی ذمے داریوں کے ساتھ پیش کیے، اس بار ان پروگروموں میں عدالتی حکم کے مطابق غیر شرعی اور تجارتی طرز عمل اور مارکیٹنگ کی عمومی آزاد روی سے اجتناب برتا گیا۔

جس سے پروگراموں کی افادیت اور مقصدیت دوچند ہوئی، قوم اب عید کی تیاریوں کو فائنل ٹچ دے چکی ہے، بلاشبہ عید تو بچوں، لڑکیوں اور نوجوانوں کی ہوتی ہے لیکن قومی تہوار ایک آئینہ ہوتے ہیں جس میں قوم اپنے کردار، قول وفعل، زندگی کے معیار، محرومیوں، مسرتوں، اخلاقی پستیوں اور سیاسی ناکامیوں کا بھرپور جائزہ لے سکتی ہے، عید مومنوں، محنت کشوں ، امیروں اور غریبوں کو خوشیوں کے مشترک ورثہ سے فیضیاب کرتی ہے، عوام ایک لڑی میں پروئے ہوئے دانے بن جاتے ہیں اور پاکستانیت کی زنجیر انھیں ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر کردیتی ہے۔

یہی سبق اور پیغام عیدالفطر کا ہونا چاہیے، جو اس بار اپنی غیر معمولی اور تلاطم خیز سیاسی تاریخ کے انوکھے موڑ پر کھڑے پاکستانیوں کے دل ودماغ کو معطر کردے تو بات بن جائے، اس بے یقینی کا خاتمہ ہو جس سے ملک دوچار ہے۔

حقیقت میں قوم ایک نئی تاریخ رقم ہوتا دیکھ رہی ہے، سیاست کی کایا پلٹ گئی ہے، 2018 کے انتخابات نصف النہار پر ہیں، نگراں حکومت اور وفاقی کابینہ کی نظریں شفاف الیکشن پر مرکوز ہیں، اہل فکرونظر نگرانوں سے مطمئن ہیں، مگر صدائیں بلند ہورہی ہیں کہ آزادانہ انتخابات کے لیے وہ اپنا حقیقی کردار ادا کریں، کسی قسم کی جانبداری کا کوئی تاثر یا الزام نگرانوں کے دامن کو داغدار نہ کرے، کیونکہ الیکشنوں کی روایات ہمارے یہاں کبھی شفاف نہیں رہی۔

بعد از انتخابات دباؤ یا دھاندلی سے پاک حق رائے دہی کے اصولوں اور مسلمہ جمہوری دعوؤں کی تکذیب کی گئی، بہر حال آج پاکستان بدلا ہوا ہے، اس کی ریاستی رٹ چینلج کرنے والے دہشتگرد سین سے غائب اور کہیں دور و نزدیک اپنی کمیں گاہوں میں شکست کی تصویر بنے بیٹھے یا روپوش ہیں، ہماری افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملکی سالمیت اور قومی یکجہتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان ہی قربانیوں کے طفیل عوام کو نئے انتخابات کا سنہری موقع ملا ہے تاکہ وہ روشن ضمیری کے ساتھ اپنا ووٹ بلا خوف وخطر استعمال کرسکیں۔

میڈیا کی ملک گیر کوریج نے شعور کے اجالے پھیلائے ہیں، حکمرانی قدم قدم پر چیلنج ہورہی ہے۔ معاشرہ کے ان ٹچ ایبلز پر عدالتی اور احتسابی گرفت مضبوط کی جارہی ہے، نگراں کابینہ نے چاروں صوبوں میں نئے چیف سیکریڑی اور آئی جی تعینات کرنے کے احکامات کی منظوری دی ہے، سپریم کورٹ پرویز مشرف کووطن واپس آنے اور عدالت کے سامنے پیش ہونے کا الٹی میٹم دے چکی ہے، غداری کیس میں خصوصی عدالت قائم کی گئی ہے۔

اسی سپریم کورٹ نے شیخ رشید کے خلاف نااہلی کے درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں اہل قراردیا ہے جس پر ہلچل مچی ہوئی ہے، لکن عدلیہ کے احکامات سنجیدگی سے لیے جارہے ہیں اور ان کی تعمیل بھی ہورہی ہے، کہیں گردنوں میں تناؤ ضرور ہے، پی ٹی آئی کے سربراہ عمراں خان بھی سیاسی کیریئر کے غیر معمولی طوفانوں سے نمٹ رہے ہیں، ان کے خلاف ریحام خان کتاب جب کہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری افتخار محمد سیتاوائٹ کیس دوبارہ منظر عام پر لارہے ہیں، انھوں نے عمران کے کاغذات نامزدگی کو اسی بنیاد پر چیلنج بھی کیا ہے۔

نواز شریف، شہبار شریف اور مریم نواز سمیت شریف خاندان مقدمات کے گرداب، سیاسی بقا، مستقبل کے اندیشوں اور خاندانی کشمکش سے چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے، عدلیہ کے حکم پر موبائل فون کمپنیوں نے 100روپے کے کارڈ پر100روپے کا بیلنس دینے کا اعلان کیا ہے، یہ عید گفٹ ہے۔ صارفین کو انصاف ملا ہے۔ ادھر سیاسی کلچر اور منافقت اور جھوٹ پر مبنی سماجی اور فکری رویوں میں مغالطوں کے بھرم ٹوٹ گئے ہیں، ماضی کی ساری سیاسی روایتیں دم توڑتی نظر آتی ہیں، ووٹرز کی نگاہ ملک کی بظاہر بدلتی ہوئی تقدیر پر ہے، وہ زبردست اشتیاق اور پرجوش طریقے سے اپنی سیاسی جماعت کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کو بے تاب ہیں۔

جمہوریت نے بلا کی جست لگائی ہے، ریاست و حکومت وقت کی للکار کی زد میں ہیں، آزاد میڈیا نے عام پاکستانی کو شعور، حساسیت، جذباتیت اور جوش جنوں کے نئے تجربوں سے آشنا کیا ہے، اب کوئی سچ کو چھپانے کی پوزیشن میں نہیں، اسٹیٹس کو ٹوٹنے کے دن قریب بتائے جاتے ہیں، حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے مابین گھمسان کا رن پڑا ہے، پرانی سیاست گری واقعی خوار ہے، ملکی سماج خود کو بدلنے پر مجبور ہے، ووٹرز اپنے ضمیر کی عدالت میں 25جولائی کو حاضر ہوں گے۔ جمود شکن عدالتی فعالیت عروج پر ہے، سیاست دان نئے انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، امیدواروں کے کاغذات نامزدگیوں کی سکروٹنی جاری ہے، بڑے سرگرم سیاسی رہنما اور کارکن ڈیفالٹر قرار پائے۔

اس سیاسی اتھل پتھل کے تناظر میں کروڑوں فرزندان توحید نے رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹیں، روزے رکھے، ضروت مندوں کو مخیر حضرات نے شہر در شہر افطاریاں کرائیں، سحری بھی، ساتھ ساتھ عید کی شاپنگ بھی جاری رکھی، روزہ داروں نے حسب توفیق صدقات، زکوۃ، فطرہ اور خیرات میں کوئی کمی نہیں کی، ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں 5 ارب کا راشن اور 3 ارب کے عید تحائف بانٹے گئے، موٹر وے پولیس نے انٹر سٹی بسوں کے اضافی کرائے مسافروں کو واپس دلوائے اور بس مالکان پر جرمانے عائد کیے۔

عید پر خریداری اعصاب شکن بھی تھی، غریب طبقات مہنگائی کا رونا روتے رہے، مگر ملک میں پرامن ماحول کے باعث عید کی خریداری کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے، چینلز نے یہ بھی دکھایا کہ عید کے لیے ہر طرف انسانی مسرتوں کا میلہ لگا ہوا ہے، قومی تہواروں میں بچے جوان، بوڑھے، خواتین جوق در جوق شرکت کرتے ہیں۔ بقول مرزا غالب بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے۔ عیدالفطر عالم اسلام میں یکجہتی، ملی یگانگت، قومی استقامت، شناخت اور قومی کردار کی تعمیر وتشکیل کا ایک کرسٹل کلیئر آئینہ ہے۔

معروف قول ہے کہ انقلاب بھی مجبور و محروم اور غریب و پچھڑے ہوئے لوگوں کا فیسٹیول ہے، اسی طرح عید کے موقع پر بھی اہل پاکستان کے محنت کشوں کو اپنے بے نام دکھوں کی عارضی فراموشی کے حسین اور دلکش لمحے مہیا ہوتے ہیں۔

اس بار سیاسی گہماگہمی میں اہل وطن اور دنیا کے شائقین فٹبال کو فیفا کے عالمی کپ کے مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں، دنیا کے نامور کھلاڑی اس مقبول ترین کھیل سے روس کے لاکھوں مقامی جب کہ ٹی وی چینلز کے ذریعہ کروڑوں شائقین عالم میچز سے لطف اندوز ہوں گے۔یہ میلہ 15 جولائی کو ختم ہوگا۔ تاہم دعا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں جس مذہبی جوش وخروش سے فلاحی تنظیموں نے ملک کے لاکھوں ضرورت مندوں کی دستگیری کی اللہ تبارک تعالیٰ ارباب حکومت کو بھی توفیق دے کہ وہ وطن عزیز کو فلاحی ریاست میں بدلنے کے دیرینہ خواب کی حسیں تعبیر دکھلا دے۔