سابق ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس پلاٹوں کی نقلی نیلامی پر دوبارہ گرفتار

12جون کوملزم کی رہائی کاحکم نامہ جیل پہنچایا گیا تھا تاہم جیل میں ہی ملزم کو ایک اور انکوائری میں گرفتار کیا گیا۔


Staff Reporter June 15, 2018
دیگرملزمان میں ناصرکابہنوئی رضا اورجاوید احمدشامل،ملزمان نے قومی خزانے کو2ارب روپے کا نقصان پہنچایا،نیب۔ فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو نے 2 ارب روپے مالیت کے 50 قیمتی پلاٹس کو جعلی نیلامی کے ذریعے من پسند افراد کو الاٹ کرنے کے الزام میں سابق ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس کو ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا۔

نیب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے ناصر عباس کو سینٹرل جیل کراچی سے حراست میں لیا گیا جبکہ دیگر ملزمان کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا، گرفتار شدگان میں جاوید احمد عرف جاوید کھانچا اور رضا قزلباش شامل ہیں۔

جاوید احمد کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ریٹائرڈ افسر تھے ناصر عباس نے انھیں دوبارہ ملازمت دی اور اپنے پرسنل سیکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا اور وہ ناصر عباس کے مرکزی فرنٹ مین کے طور پر جعلی نیلامی اور پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں مکمل طور پر ملوث رہے جبکہ تیسرے ملزم رضا قزلباش سابق ڈی جی کے ڈی اے ناصر عباس کے برادر نسبتی ہیں اور وہ تقریباً 20 کروڑ روپے مالیت کے پلاٹس کو ناصر عباس کے بحاف پر غیرقانونی الاٹمنٹ کرانے کا الزام ہے۔

رضا قزلباش نہ صرف پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہیں بلکہ وہ ناصر عباس کی ناجائز آمدن کو قانونی ظاہر کرنے اور بیرون ملک منتقل کرنے میں ملوث ہیں نیب نے تمام ملزمان کو احتساب عدالت میں پیش کرکے ان کا 27 جون تک جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔