عام انتخابات 2018ء کے لیے ضابطہ اخلاق جاری

سیاسی جماعتیں، امیدوار یا پولنگ ایجنٹ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔


Editorial June 15, 2018
سیاسی جماعتیں، امیدوار یا پولنگ ایجنٹ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔ فوٹو: فائل

چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں جمعرات کو الیکشن کمیشن میں عام انتخابات 2018ء کے لیے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز' آئی جی پیز' سیکریٹری دفاع اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے شرکت کی۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کی طرف سے عام انتخابات 2018ء کے لیے انتخابی ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار نظریہ پاکستان، قومی سالمیت کے خلاف خیالات کا اظہار بھی نہیں کر سکتا، سیاسی جماعتیں، امیدوار یا پولنگ ایجنٹ الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے، سیاسی جماعتوں یا امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بدنام کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔

اسی طرح انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں، امیدوار اور پولنگ ایجنٹس سیکیورٹی اہلکاروں سے تعاون کریں گے، سیاسی جماعتیں، امیدوار اور انتخابی عملہ کسی بھی شہری کو انتخابی عمل سے الگ نہیں رکھیں گے، سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی عمل میں خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کریں گے اور کسی سرکاری ملازم یا افسر سے معاونت طلب نہیں کریں گے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی مہم کے دوران اور پولنگ کے دن اسلحے کی نمائش اور پولنگ اسٹیشنز کے قریب ہوائی فائرنگ اور آتشبازی پرپابندی ہو گی، نگران وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزراء انتخابی مہم میں شرکت نہیں کر سکتے، ضابطہ اخلاق کے مطابق پولنگ سے48گھنٹے قبل انتخابی مہم ختم کر دی جائے۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018کے لیے تمام پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر فوج تعینات کر نے کا فیصلہ کیا،20 ہزار کے قریب حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے ، بیلٹ پیپرز کی چھپائی پاک فوج کی زیر نگرانی کرائی جائیگی، فوج کی طرف سے پرنٹنگ پریسوں پر فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں گے ۔سیاسی لیڈروں کی سیکیورٹی صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہو گی۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء کے لیے سیکیورٹی پلان 2013ء کے انتخابات کے دوران پیش آنے والے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیا ہے۔ سب سے اہم بات انتخابات کا شفاف اور منصفانہ ہونا ہے تاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات لگا کر سارے انتخابی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش نہ کر سکے۔ شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی نمائندوں کا انتخاب جمہوری عمل کے تسلسل کو حقیقی معنوں میں برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہو گا۔