5 دن میں 6 بم دھماکے پولیس سربراہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا

پولیس کی سربراہی دوبارہ حاصل کرنیوالے ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود کی تعیناتی کے 5 دن میں 50 افراد زندگی کی بازی ہارگئے.


Staff Reporter April 29, 2013
ٹارگٹڈ آپریشن دکھاوا بن گئے،پولیس قیام امن میں ناکام ہوگئی،سابقہ کارکردگی کے باوجود اقبال محمود کی تعیناتی حیران کن ہے، ذرائع۔ فوٹو: فائل

کراچی پولیس کی سربراہی دوسری بار حاصل کرنے والے اقبال محمود کی تعیناتی کے صرف 5 روز کے دوران 6 بم دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر قتل و غارت گری کی وارداتوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکناں اور پولیس اہلکاروں سمیت 50 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 155 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

ہیں،شہر میں دہشت گردی کی حالیہ لہر نے کراچی پولیس کے سربراہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جبکہ وہ شہر میں امن کے قیام میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں،پولیس کے ٹارگٹڈ آپریشن صرف دکھاوا بن گئے ہیں،23 اپریل کو ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی اقبال محمود کو دوسری بار کراچی پولیس کا سربراہ تعینات کیا گیا اسی روز پیپلز چورنگی کے قریب متحدہ قومی موومنٹ کے الیکشن آفس کے پاس ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں متحدہ کے 3 کارکنان جاں بحق جبکہ 23 افراد زخمی ہوگئے،24 اپریل کو شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔



25 اپریل کو نصرت بھٹو کالونی میں متحدہ قومی موومنٹ کے الیکشن آفس کے باہر موٹر سائیکل میں نصب بم کا دھماکا ہوا جس میں متحدہ کے 6 کارکن زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 10 افراد زخمی ہوئے جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں 6 افراد قتل کردیے گئے، 26 اپریل کو مومن آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور انتخابی امیدوار بشیر جان کے الیکشن آفس کے قریب رکشے میں نصب ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں11 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ50 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

27 اپریل کو قصبہ کالونی ڈھائی نمبر پر متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر کے قریب اور مسجد و امام بارگاہ علی رضا کے سامنے 2 دھماکے جبکہ لیاری کمہار واڑہ میں پیپلزپارٹی کے امیدوار عدنان بلوچ کی کارنر میٹنگ میں دھماکا ہوا ، تینوں دھماکوں میں مجموعی طور پر 5 افراد ہلاک اور 75 افراد زخمی ہوگئے اسی روز فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں پولیس کانسٹیبل سمیت11 افراد موت کی وادی میں جا پہنچے،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس کی دوسری بار سربراہی حاصل کرنے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی اقبال محمود کی سابقہ کارکردگی کو نظر انداز کر کے انھیں دوبارہ تعینات کرنا حیران کن عمل ہے۔