اثاثوں کی جاری تفصیلات اہم پیش رفت

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔


Editorial June 21, 2018
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ فوٹو : فائل

ملکی انتخابی نظام میں موجود اسقام اور ساختیاتی اصلاحات کے فقدان پر کافی عرصہ سے بحث جاری ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قائدین نے اپنا سارا وقت باہمی اختلافات اور بلیم گیم میں گزارا اور انتخابی اصلاحات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تاہم گزشتہ روز نگراں وزیراعظم اور دیگر نگراں وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی جو اطلاعات میڈیا میں آئیں وہ خاصی چشم کشا تھیں جنھیں شفاف الیکشن کی سمت نگرانوں کی طرف سے بلاشبہ تازہ ہوا کا ایک جھونکا قراردیا جاسکتا ہے، یہ پیش رفت اہمیت کی حامل ہے۔

الیکشن کمیشن اور ریاستی اداروں نے اس ضمن میں پورا ہوم ورک کیا اور آیندہ الیکشن کے حوالہ سے اہم حقائق پہلی بار انتخابی افق پر نمودار ہوئے ہیں جو فرسودہ سیاسی رویوں اور مذموم سیاسی تکلفات سے مثبت انحراف کی علامت ہیں۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ منگل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے اثاثوں کی تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک کے نام پر پاکستان میں 14جائیدادیں موجود ہیں جب کہ وہ، ان کی اہلیہ سنگاپور اور برطانیہ میں جائیدادوں کی مالک ہیں۔

دستاویزات کے مطابق نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصرالملک نے اپنے اثاثوں میں سوات میں 8 مختلف اراضیاں ، جو گفٹ ظاہر کی گئی ہیں، ان میں 45 دکانیں بھی شامل ہیں جب کہ پشاور کی اراضی والد کی جانب سے تحفہ ظاہر کی گئی ہے، نگران وزیراعظم کے پاس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 3 پلاٹس ہیں، ان میں سیکٹر ڈی12اور جی14میں ایک، ایک کنال کے رہائشی پلاٹ جب کہ بحریہ انکلیو اسلام آباد میں 2 کنال کے پلاٹ کی قیمت 1 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد ہے۔

ان جائیدادوں کے باوجود نگران وزیراعظم 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقروض نکلے ہیں ، ناصرالملک کے ا ثاثوں میں31 لاکھ روپے کے زیورات اور65 لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر بھی شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے پاس70 لاکھ مالیت کا گھر ہے، نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس 9 لاکھ 30 ہزار روپے کے کیش، پرائزبانڈز ہیں۔

1کروڑ روپے کا بینک بیلنس ہے، نگران وزیراعلیٰ پنجاب 2کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں جب کہ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد کا اسلام آباد میں 1 کروڑ97 لاکھ روپے مالیت کا گھر ہے، ان کے پاس15لاکھ 25 ہزار روپے مالیت کا پلاٹ ہے ، ان پلاٹوں کی مالیت انتہائی کم ظاہر کی گئی۔ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے جی14اسلام آباد میں ایک کنال کے پلاٹ کی مالیت 4لاکھ روپے ہے۔

ان کے پاس جی17 اسلام آباد میں ایک کنال پلاٹ کی مالیت صرف69 ہزار روپے ظاہر کی گئی، اسلام آباد میں80 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ ہے، اس کے علاوہ ان کے پاس 35لاکھ روپے کیش، ایک کروڑ 27 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے۔ نگران وزیراعلیٰ کے پی کے کے پاس23 ہزار روپے کے پرائز بانڈز بھی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک کروڑ31لاکھ روپے کی سالانہ آمدن بتائی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک کی انتخابی تاریخ میں مذکورہ اثاثوں کا اعلان نئے جمہوری عوامل کی پیش قدمی کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ ماضی کے بیشتر جمہوری اور آمر حکمراں لکیر کے انتظامی فقیروں کی طرح آتے اور جاتے رہے قوم کونجات دہندوں کی نرگسیت میں مبتلا کیا گیا، ووٹ کی حرمت خاک میں ملتی رہی اور ڈان بہتا رہا۔

کہا جاتا ہے کہ سیاسی اشرافیہ، انتخابی ادارے ، ریاستی مشینری اور اسٹیبلشمنٹ خود کو احتساب اور جوابدہی کے کسی شفاف سسٹم کے پابند نہیں سمجھتے تھے، ایک رعونت تھی جو جمہوری نظام کی رگوں میں گندے خون کی طرح دوڑتی پھرتی تھی، یہی وجہ ہے کہ شفاف اور جوابدہ جمہوری اور قانون کی حکمرانی ہمیشہ سے دیوانے کا خواب ہی رہی مگر اب حالات بدل چکے ہیں، نگراں انتظامیہ نے صائب روایت کی بنیاد رکھی ہے ۔ سماجی اور معاشی منظرنامہ بدلا جانا ناگزیر ہوگیا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ نگران حکومت کے دیگر وزرائے اعلیٰ اور وزراء نے الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل نہیں کیا۔ ناصرالملک، شمشاد اختر، اعظم خان، دوست محمد اور حسن عسکری کے علاوہ کسی نے تفصیلات نہیں دیں۔ الیکشن کمیشن نے نگران وزرائے اعلیٰ اور کابینہ کو یاد دہانی کا خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خط میں فوری طور پر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا کہا جائے گا۔ذرایع کے مطابق حلف اٹھانے کے 3 روز کے اندر اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہوتا ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حلف ناموں اور ظاہر کیے گئے اثاثوں کی اصل مالیت بھی مارکیٹ ویلیو کے مطابق جانچ پڑتال کے مراحل سے گزاری جانی شرط ہے، الیکشن کمیشن سیاسی اشرافیہ اور فیوڈل سیاسی شخصیات ، بظاہر عوامی سیاست دانوں اور بااثر ایلکٹ ایبلز کے لائف اسٹائل کا تقابل ان کی آمدن سے کرے جو میچ نہیں کرتے۔

اس حقیقت کو بعض سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایلکٹ ایبلز نے ووٹر کو یرغمال بنالیا ہے، اب جب کہ الیکشن کمیشن بغیر کسی ہچکچاہٹ کے امیدواروں کی معلومات عام کرنے اور اثاثوں اور حلف ناموں کی معلومات اور اعترافات کو اپنی سرکاری ویب سایٹ پر ڈالنے کا اصولی فیصلہ کرچکا ہے اس لیے اسکروٹنی ہمہ گیر و نتیجہ خیز ہونی چاہیے۔