بھارت میں قید پاکستانیوں کی رہائی

انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی بے گناہ قید شہریوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔


Editorial June 21, 2018
انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی بے گناہ قید شہریوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

بھارت سے رہائی پانے والے 6پاکستانی جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے' واہگہ بارڈر پہنچ گئے جہاں انھیں بھارتی حکام نے رینجرز کے حوالے کر دیا۔ نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے کے مطابق اب بھی چار بچوں سمیت 52پاکستانی شہری بھارتی جیلوں میں قید ہیں جن کی سزائیں مکمل ہوچکی اور وہ رہائی کے منتظر ہیں' ترجمان پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کے مطابق ان میں 37مچھیرے بھی شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے مچھیروں اور سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر افراد کا غلطی سے سرحد پار کر جانا ایک معمول ہے' بعض اوقات مچھیروں کی ایک تعداد زیادہ سے زیادہ مچھلیوں کی تلاش میں دور نکل جاتی اور بھارتی فورسز کے ہتھے چڑھ جاتی جنھیں گرفتار کرکے جیلوں میں قید کر دیا جاتا ہے۔

غریب طبقے سے تعلق رکھنے کے باعث ان کی شنوائی بھی جلد نہیں ہو پاتی اور وہ اپنی سزا مکمل کرنے کے باوجود جیلوں میں پڑے رہتے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ غلطی سے سرحد پار کر جانے والے شہریوں یا بزرگان دین کے مزارات کی زیارت کے لیے بھارت جانے والے چند ایک افراد کو بھارتی حکام جاسوس قرار دے کر گرفتار کر لیتے اور انھیں شدید تشدد کا نشانہ بناتے جس کے باعث کچھ افراد اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بھارت میں قید پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے پاکستانی حکام زیادہ دلچسپی نہیں لیتے اور ان کے تساہل پسندانہ رویے کے باعث پاکستانی شہری مدتوں جیلوں میں پڑے قید کاٹتے رہتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی بے گناہ قید شہریوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے' دوسری جانب دونوں ممالک کی حکومت کو بھی غلطی سے سرحد پار کرنے والے افراد کو گرفتار کرکے سزائیں دینے اور طویل عرصہ تک قید رکھنے کے بجائے ان کی فوری رہائی کا انتظام کرنا چاہیے۔ اس وقت بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کی فوری رہائی کے لیے پاکستانی حکام کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔