دہشت گردی کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارم

آئندہ عام انتخابات کو پرامن ماحول میں منعقد کرنے کے لیے فوج اور ایف سی بلوچستان میں 15 روزہ ٹارگٹڈ آپریشن کرے گی۔


Editorial April 29, 2013
دشمن کے پاس خود کش بمبار، بم دھماکے ، بارودی مواد اور چھپ کر واردات کرنے کامکمل نیٹ ورک موجود ہے. فوٹو اے ایف پی

آئندہ عام انتخابات کو پرامن ماحول میں منعقد کرنے کے لیے فوج اور ایف سی بلوچستان میں 15 روزہ ٹارگٹڈ آپریشن کرے گی۔ ہوم سیکریٹری اکبر حسین درانی نے صحافیوں کے گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آپریشن انتخابات سے 10 روز قبل شروع کیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ پولنگ اسٹیشنز پر فوج تعینات نہیں کی جائیگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ فوج کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے طلب کیا جا رہا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں اور ان کے حامیوں کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ 6500 فوجی، 17 ہزار ایف سی اہلکار، 28 ہزار پولیس اہلکار اور 15 ہزار لیوی اہلکار صوبے کے تمام 30اضلاع میں تعینات کیے جائیں گے، کوئیک رسپانس یونٹ انتخابی عملہ اور ووٹرز کو تحفظ دے گی۔

بلاشبہ انتخابات کے التوا یا انھیں منسوخ کرانے کے لیے دہشت گردی اور قتل و غارت کا جو مصنوعی طوفان اٹھایا گیا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ٹارگٹڈ آپریشن کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا، بلوچستان کی صورتحال چونکہ پنجاب، کراچی اور خیبرپختونخوا کی بہ نسبت خاصی مخدوش اور شورش زدہ ہے اس لیے وہاں فوج کی ہر پولنگ اسٹیشن پر تعیناتی سے گریز بھی عملیت پسندی کے تحت مناسب فیصلہ ہے۔ اس وقت قوم کو ان غضبناک ، مشتعل اور انتخاب دشمن قوتوں کا سامنا ہے جو نگراں حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو مرعوب اور سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہر انتہا تک جانے کا عندیہ دے رہی ہیں، ان سے دو دو ہاتھ کرنے کا طریقہ وہی ہے جو عسکری انداز کار کے مطابق ٹیکٹیکل اور اسٹریٹجیکل ہو۔

دشمن کے پاس خود کش بمبار، بم دھماکے ، بارودی مواد اور چھپ کر واردات کرنے کامکمل نیٹ ورک موجود ہے اور اس کی ہلاکت خیز سرعت ، مستعدی اب ڈھکی چھپی نہیں ۔ اس لیے آپریشن ٹارگٹڈ ہونے کے باوجود بندوبستی علاقوں ،قبائلی بیلٹ، کہساروں اور ان کے دامن سے لے کر گنجان آباد شہروں اور کچی آبادیوں کے ہر اس گوشے میں جاری رہنا چاہیے جہاں سے نکل کر دہشت گرد اچانک حملہ کرنے کی پوزیشن میں آجاتے ہیں، یہ لوگ جھڑپ اور آمنے سامنے کی لڑائی نہیں لڑ رہے بلکہ بزدلانہ کارروائی کرکے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں۔

ارباب اختیار دہشت گردی کے تسلسل کو مد نظر رکھیں ۔ ان کے بڑھتے قدم فوری نہ روکے گئے تو انتخابات کے ایک دو دن پہلے وہ قیامت برپا کرنے کی الم ناک وارداتوں سے ووٹرز کو دہشت زدہ کرسکتے ہیں ۔جس کا عملی ثبوت وہ پشاور اور کوہاٹ میں امیدواروں کے انتخابی دفاتر ، صوابی میں اے این پی کے جلسے اورکوئٹہ میں امیدوار کی کارنر میٹنگ میں بم دھماکوں میں11افراد کوہلاک اور 52 کو زخمی کرکے دے چکے ہیں۔ اب تخریب کاری بھی شروع ہوگئی ہے، ایس ایس پی جامشورو کے مطابق نامعلوم افراد نے لاہور سے کراچی جانیوالی عوام ایکسپریس پر فائرنگ کردی ۔ خیر پور میں گمبٹ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے سے ٹریک کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔

نوابشاہ میں بھی بخشو جمالی ریلوے پھاٹک کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا جس سے ٹریک کا دو فٹ حصہ اڑ گیا ۔ کراچی سے آنے والی ہزارہ ایکسپریس لیٹ ہونے کے باعث حادثے سے بچ گئی۔ ایک اور واقعہ کے بعد کراچی سے پنجاب جانے اور آنے والی ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک لیا گیا۔ بم ڈسپوزل عملے کے مطابق بم ڈھائی کلو وزنی اور دیسی ساختہ تھا جس کے باعث ریلوے کی 4 فٹ پٹری کو نقصان پہنچا۔حکام ان سارے واقعات کے الم ناک نتائج کو سامنے رکھیں ، چنانچہ مجوزہ آپریشن اس لیے بھی منفرد، بروقت ،نتیجہ خیز اور اتنا فیصلہ کن ہونا چاہیے کہ باطل قوتوں اور طالبان کی دو عملی کا بھانڈا بھی پھوٹے اور ٹارگٹڈ آپریشن انتہا ئی بے رحمانہ ہو کہ 11مئی سے پہلے ہی دہشت گردوں کی ہوا اکھڑ جائے اور وہ اتنی ہی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہوں جتنی وہ اب تک گراچکے ہیں۔

اسی کو حقیقی ٹارگٹڈ آپریشن سمجھا جائے گا جو ریاستی بالادستی کو قائم کرکے دم لے۔ بلاشبہ بلوچستان میں آپریشن کا فیصلہ نیشنل پارٹی (مینگل)، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام سمیت قوم پرست اور قومی سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران سیکیورٹی خدشات کی شکایت کے باعث کیا گیا جب کہ خضدار اور قلات میں پولیس کو شکایات ملی تھیں کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور لشکربلوچستان امیدواروں اور ووٹروں کو دھمکیاں دے رہی ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسند گروپوں نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے انتخابی امیدواروں اور ان کے حامیوں پر حملوں کا اعلان کر رکھا ہے۔

سیاسی جماعتیں بلوچوں کے زیراثر علاقوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ پریشان ہیں۔ تاہم خوش آئند اطلاع یہ بھی ہے کہ کوئٹہ میں انتخابی مہم زور پکڑ رہی ہیں، تمام جماعتوں کے امیدوار عسکریت پسندوں کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے پولیس اور ایف سی کی سیکیورٹی میں کارنر میٹنگز کا انعقاد کر رہے ہیں ۔اس جرات پر ان سیاسی پارٹیز کو سلام پیش کرنا چاہیے۔ضرورت تمام سیاسی جماعتوں کی ایک مشترکہ دہشت گردی مخالف پلیٹ فارم پر آنے کی ہے، انتخابی مہم الزام تراشی سے بھی ہٹنی چاہیے کہ ملک پر قیات نازل کی جانے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ یہ حکمت وتدبر سے دشمن کو زیر کرنے کا وقت ہے۔

یہ بات کوش آئند ہے کہ پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے ملک کے متعدد علاقوں میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کے دوران مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران نے کہا ہے کہ دہشت گردنیا پاکستان بنانے کے لیے 13 دن کی مہلت دے دیں۔ یہ اپیل بادی النظر میں تحریک طالبان پاکستان سے کی گئی ہے۔مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاست دان دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوجائیں۔

بلاشبہ دہشت گردی کا دباؤ اس قدر ہولناک ہوچکا ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر اپنی انتخابی مہم چلانے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ کیونکہ دھماکوں اور بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں90 فیصد انتخابی مہم شدید متاثر ہوئی ہے۔ ایک طرف کراچی میں دھماکوں کے خلاف متحدہ اور پی پی کی اپیل پر سندھ بھر میں سوگ منایا گیا جب کہ دوسری جانب یہ دلچسپ صورت پیدا ہوئی ہے کہ کراچی میں پے درپے دہشت گردی کے واقعات نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے ۔

ایم کیو کے ایم کے رہنما رضا ہارون نے تجویز پیش کی ہے کہ انسانی جانیں بچانے کے لیے الیکشن کے التوا میں کوئی حرج نہیں۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں پارٹیوں کی جانب سے دہشت گردی اورالیکشن کے حوالے سے مشترکہ لائحہ جلد عمل طے کیا جائے گا۔ ادھرایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین نے صدرآصف علی زرداری اور اے این پی کے صدراسفند یار ولی سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے اعتدال پسند جماعتوں کے مابین اتحاد اوراتفاق کو اشد ضروری قراردیا ہے اورعام انتخابات سے متعلق اہم معاملات کے بارے میںفیصلوں کے لیے تینوں جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی پراتفاق کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی نے کہا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کا تحمل دہشت گردوں کی بڑی ناکامی ہے۔ بہت ہی اچھی مثال ہے اب اس تحمل کو نگراں حکومت اور سیکیورٹی پر مامور اداروں کی طاقت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کی وارداتوں کے ٹیمپو،ردھم اور حکمت عملی کوتہس نہس کیے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔

طالبان کا ن لیگ ، جماعت اسلامی،تحریک انصاف اور جے یو آئی کو نشانہ نہ بنانے کا اعلان اور یہ لالی پاپ کہ ٹارگٹ نہ کی جانے والی جماعتوں سے بھی خیر کی توقع نہیں در حقیقت سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی سازش ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔دہشت گردی کے خلاف یہ سب کی مشترکہ جنگ ہونی چاہیے۔