دہشتگردی سے بچنے کیلیے انتخابی جلسہ سمندر میں کرنے کااعلان

پی ایس129کے امیدوارکی حلقے کے رہائشیوںکوپمفلٹس،پوسٹرزکے ذریعے دعوت.


Staff Reporter April 30, 2013
پی ایس129کے امیدوارکی حلقے کے رہائشیوں کو پمفلٹس، پوسٹرزکے ذریعے دعوت. فوٹو: فائل

آئندہ عام انتخابات میں سندھ سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس129 کے آزاد امیدوارعثمان غنی نے کراچی میں خوف اور دہشت کے باعث انتخابی مہم کو جاری رکھنے کے لیے سمندر میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جلسے میں شرکت کے لیے انھوں نے پمفلٹ کے ذریعے دعوت دی اور متعلقہ حلقے میں دیواروں پر پوسٹرز بھی چسپاں کیے، عثمان غنی کے مطابق حلقے میں پہلے سے موجود مضبوط امیدواروں کے مقابلے میں عوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے اور دہشت گردی کی ممکنہ واردات سے لوگوں کو بچانے کے لیے انھوں نے سمندر میں جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جلسے کے لیے 100 سے زائد کشتیوں اور شرکا کے لیے2000 سے زائد لائف جیکٹس کا بندوبست کیا گیا ہے۔ یہ لائف جیکٹس ان لوگوں کے لیے ہیں جو ماہی گیر نہیں جبکہ ماہی گیر اپنی لائف جیکٹس ساتھ لائیں گے۔



انھوں نے کہاکہ انھیں ماہی گیروں کا مکمل تعاون حاصل ہے اور اس جلسے میں جو شرکت کرے گا اس کی حفاظت کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ ایمرجنسی کی صورت میں میڈیکل بورڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ جلسے کا اہم مقصد انتخابی مہم کے علاوہ لوگوںکو ماہی گیروںکے مسائل کی طرف بھی متوجہ کرنا ہے۔ ماہی گیروں میں تعلیم کے شعور کو اجاگر کرنا، اسکولوں کا قیام اور ماہی گیری کے شعبے کو ترقی دینا ان کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سابق حکومت نے ماہی گیروں کے حقوق کے لیے کبھی سنجیدہ آواز نہیں اٹھائی۔

واضح رہے کہ صوبائی اسمبلی کے اس حلقے سے گذشتہ الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مظفرشجرہ کامیاب ہوئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار تھے۔ مذکورہ حلقے میں شامل ابراہیم حیدری کا شمار شہر کے پسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے اور یہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم مچھیروںکی پرانی بستی ہے۔ یہاں تعلیم کی شرح بھی بہت کم ہے۔ زیادہ تر لوگ ماہی گیر ہیں اور یہاں بسنے والے علاقائی پسماندگی کی شکایت کرتے ہیں۔