پرانی سبزی منڈی پربینک میں5کروڑ38لاکھ روپے کی ڈکیتی

ملزمان خفیہ کیمروں کی فوٹیج بھی لے گئے، بینک میں تعینات گارڈاوراسکے4ساتھی ملوث ہیں


Staff Reporter May 01, 2013
ملزمان خفیہ کیمروں کی فوٹیج بھی لے گئے، بینک میں تعینات گارڈاوراسکے4ساتھی ملوث ہیں فوٹو: فائل

پرانی سبزی منڈی کے قریب نجی بینک سے مسلح ملزمان5کروڑ38 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہو گئے،ملزمان فرار ہوتے ہوئے بینک میں لگے خفیہ کیمروں کی فوٹیج اپنے ساتھ لے گئے۔

واردات میں بینک میں تعینات نجی سیکیورٹی کمپنی کاگارڈ اور اس کے4ساتھی ملوث ہیں،آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے بینک ڈکیتی کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری طور پررپورٹ طلب کر لی ،واردات میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے پنجاب پولیس اطلاع کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیو ٹاؤن تھانے کی حدود پرانی سبزی منڈی چاندنی چوک پر واقع نجی بینک سے5ملزمان عملے کو یر غمال بنا کر5 کروڑ 38 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوگئے ، ملزمان فرار ہوتے ہوئے بینک میں لگے سی سی فوٹیج کیمروں کی ریکارڈہونے والی فوٹیج کی سی ڈیزبھی اپنے ساتھ لے گئے ، ایس ڈی پی اونیو ٹاؤن ڈی ایس پی ناصر لودھی نے ایکسپریس کو بتایا کہ واردات میں بینک میں تعینات نجی سیکیورٹی کمپنی کا گارڈ شیخ محمد طاہر اور اس کے4ساتھی ملوث ہیں۔

ملزم شیخ محمد طاہر مکان نمبر4گلی نمبر2نزد ٹوکے والاچوک محلہ اکرام پورہ نزد اکرام پارک شیر شاہ روڈ شاد باغ لاہور کا رہائشی ہے اور گزشتہ ایک سال سے نجی سیکیورٹی کمپنی کی طرف سے مذکورہ نجی بینک میں تعینات تھااور نائٹ ڈیوٹی کرتا تھا ، مذکورہ نجی بینک بڑی برانچ ہے جس کے باعث علاقے کی دیگر برانچوں سے رقم سبزی منڈی برانچ میں آجاتی تھی جہاں سے گنتی ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک جاتی تھی،گزشتہ روز ملزم وقت سے پہلے ڈیوٹی پر آگیا تھا۔



جس وقت وہ آیاتو پبلک ڈیلنگ بند ہو چکی تھی بینک کا عملہ پیسوں کی گنتی میں مصروف تھا ، شام 7بجکر 20منٹ پر ملزم نے بینک کادروازہ کھول کر اپنے4ساتھیوں کو اندر بلایا جنھوں نے وہاں موجود دوسرے سیکیورٹی گارڈ محمد اقبال سے اسلحہ چھین کر اسے اوربینک کے دیگر عملے کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور گنتی شدہ رقم جو تھیلوں میں تھی لے کر چلے گئے۔

ملزمان7 بجکر50منٹ پر بینک سے باہر نکل کر مرکزی گیٹ پر تالا ڈال کر فرار ہوگئے، ڈی ایس پی ناصر لودھی نے بتایا کہ ملزمان کے فرار ہونے کے بعد بینک منیجرخورشید خان نے سیکیورٹی بیل بجائی جس پر فورنکس سیکیورٹی کمپنی کا عملہ موقع پر پہنچا اور علاقہ پولیس کو واردات کی اطلاع دی جس پر پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایس ایس پی سی آئی ڈی راجہ عمر خطاب موقع پر پہنچ گئے،پولیس نے جائے وقوع سے شواہد جمع کیے اور بینک کے عملے سے بیانات لیے جبکہ فنگر پرنٹ ایکسپرٹ کے مدد سے ملزمان کے فنگر پرنٹ بھی لیے مذکورہ بینک ڈکیتی رواں سال کی سب سے بڑی اورگیارہویں بینک ڈکیتی ہے ۔

ایس ایس پی راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ اس سے پہلے ہونے والی رواں سال کی بینک ڈکیتیوں میں سے زیادہ تر چکوال گروپ کے ملزم ہیں انھوں نے شبہ ظاہر کیا کہ مذکورہ بینک ڈکیتی میں ملوث مرکزی ملزم طاہر نے ملازمت حاصل کرتے وقت سیکیورٹی کمپنی میں اپناجو شناختی کارڈ جمعہ کرایا ہوگا اس پر اس کے گھر کا ایڈرس صحیح درج نہیں ہوگا تاہم ملزم قانون سے بچ کر بھاگ نہیں سکتا جلد ہی پکڑا جائے گا۔نیوٹائون پولیس نے بینک ڈکیتی کا مقدمہ الزام نمبر 153\12 بینک منیجر خورشید خان کی مدعیت میں درج کرلیا۔