الیکشن التوا کے بے بنیاد خدشات

ترمیم کے بعد فاٹا کو خیبرپختونخوا کے میں ضم کر دیا گیا ہے


Editorial June 27, 2018
ترمیم کے بعد فاٹا کو خیبرپختونخوا کے میں ضم کر دیا گیا ہے۔فوٹو: فائل

نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے کہا ہے کہ شفاف اور پرامن الیکشن کرانا نگراں حکومت کی ذمے داری ہے جب کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ الیکشن کے دوران ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ پیرکو وزیراعظم ہاؤس میں نگراں وزیراعظم ناصرالملک سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات میں سیکیورٹی صورت حال سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملک کی دو اہم شخصیات کے اس تجدید عہد کے بعد کہ انتخابات وقت پر ہونگے اور فوج الیکشن کے دوران انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون فراہم کریگی، کم از کم انتخابات کے التوا کی افواہوں یا قیاس آرائیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے ، نہ کسی جانب سے ایسی دانستہ جسارت یا کوئی منفی حربہ استعمال ہو جس سے الیکشن کے التوا کی چہ مگوئیوں کو تقویت مل سکے جو کسی طور جمہوری اور انتخابی عمل کے لیے مفید نہیں، بلکہ سیاسی قائدین اپنی سیاست کے ساتھ ساتھ اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابی ادارہ اور نگراں حکام کو انتظامی اور اسٹریٹجیکل مشکلات میں ڈالنے سے گریز سب کا اولین آپشن ہونا چاہیے۔

جولائی میں سخت گرمی میں ووٹر گھر سے نہیں نکلے گا لیکن الیکشن کمیشن نے عام انتخابات ملتوی کرانے سے متعلق متحدہ قبائل پارٹی کی درخواست مسترد کر دی ہے جب کہ دوسری جانب فاٹا کی صوبائی نشستوں پر بھی نگراں حکومت کی نگرانی میں الیکشن کرانے کے مطالبے پر متحدہ قبائل پارٹی کا اسلام آباد میں احتجاج گزشتہ آٹھ روز سے جاری ہے۔ تناؤ کی کیفیت ہے، فاٹا انضمام کے حوالہ سے بھی تحفظات کی گونج سنائی دیتی ہے، جب کہ انضمام ایک تاریخی اقدام ہے ۔ واضح رہے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فاٹا کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ایک ساتھ انتخابات کرانے کے معاملہ پر متحدہ قبائل پارٹی کی درخواست کی سماعت کی ، متحدہ قبائل پارٹی کے وکیل فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ آئینی ترمیم کے بعد فاٹا کو خیبرپختونخوا کے میں ضم کر دیا گیا ہے۔

فاٹا میں عام انتخابات کے لیے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہے، عام انتخابات کے دوران فاٹا کی پندرہ فیصد نشستوں پر الیکشن نہیںکرائے جا سکتے۔جسٹس(ر)ارشاد قیصر نے کہا اب شیڈول جاری ہو چکا ہے، کیا آپ الیکشن میں تاخیر چاہتے ہیں؟بیرسٹر فروغ نسیم کاکہنا تھاپورے ملک میں الیکشن ہو رہا ہے، صرف فاٹا کو محروم کرنا آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہوگی، وکیل نے دلائل میں کہا کہ گرمی بہت ہے، ٹرن آؤٹ بھی کم رہے گا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے برجستہ ریمارکس دیے کہ اگر ہم الیکشن سردیوں میں لے جائیں تو سرد علاقوں والے لوگ نہیں نکل سکیں گے، اس منطق کے سامنے مزید بحث لایعنی ہوگی۔ دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چوہدری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو معطل کیے بغیر منصفانہ، صاف اور شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے جب کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سندھ کی جانب سے نگران سیٹ اپ اور آئی جی سندھ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ادھر نگران وفاقی وزیراطلاعات، نشریات، قانون،انصاف و پارلیمانی امور بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن التواء کا کوئی خدشہ نہیں ہے عام انتخابات کا انعقاد 25جولائی کو ہی ہو گا۔

آرمی چیف نے کہا کہ الیکشن کے دوران ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ نگراں وزیراعظم نے کہاکہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے فوج کا کردار اہم ہوگا۔ نگراں وزیراعظم نے پیرکو عام انتخابات 2018 کے انتظامات اور تیاریوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیرداخلہ اعظم خان، وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری رضوی، وزیراعلیٰ سندھ فضل الرحمن، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان، وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری، وزیراعظم کے سیکریٹری سہیل عامر، سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح محمد، خزانہ، داخلہ اور دفاع ڈویژنزکے سیکریٹریوں، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی تفصیلات بھی بیان کیں جو امیدواروں، پریذائیڈنگ افسران اور پولنگ اسٹاف، انتخابی فرائض کے لیے تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، ملک بھر میں انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے مقامی اور غیر ملکی میڈیا اور انتخابی مبصرین کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے فوج کی معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزارت دفاع نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکار دینے کی حامی بھر لی ہے، انتخابات کی تیاریاں اب حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، بیلٹ پیپرزکی چھپائی کا مرحلہ شروع ہونے کو ہے ، 27 جون سے تینوں پرنٹنگ پریس پرسیکیورٹی کے لیے فوج تعینات کیا جائے، چھپائی اور ترسیل فوج ہی کی نگرانی میں ہوگی۔ یوں الیکشن پراسیس فل گیئر میں آچکا ہے۔اس وقت التوا کے شوشے چھوڑنا قطعاً ملکی مفاد میں نہیں ہے۔