سی پیک سے متعلق افواہوں کے سدباب کی ضرورت

قومی منصوبہ ہے جس سے تمام صوبوں کو برابر کے فوائد حاصل ہوں گے


Editorial June 27, 2018
قومی منصوبہ ہے جس سے تمام صوبوں کو برابر کے فوائد حاصل ہوں گے۔ فوٹو: فائل

سی پیک منصوبہ نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، امید ظاہر کی جارہی ہے کہ سی پیک منصوبوں سے پاکستان ایک مرتبہ پھر معاشی طور پر ایک مضبوط ملک بنے گا، ان منصوبوں سے ملک میں توانائی بحران پر قابو پایا جاسکے گا، معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی، سی پیک منصوبے کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچتے دیکھنے کی خواہش پر محب وطن پاکستانی کی ہے، اس سلسلے میں گزشتہ روز کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام ''سی پیک میں میڈیا کا کردار'' کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مقررین کی جانب سی کئی روشن نکات پر اظہار خیال کیا گیا۔

نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا بالکل صائب تھا کہ سی پیک منصوبے کی کامیابی کے لیے لیگل فریم ورک تشکیل دینے اور منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ریگولیٹری باڈی قائم کرنے کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی جس میں اس منصوبے کی سیکیورٹی، منصوبے کے فوائد عوام تک پہنچانے کے لیے کرپشن اور دیگر سماجی برائیوں کو ختم کیا جائے گا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے جس سے تمام صوبوں کو برابر کے فوائد حاصل ہوں گے لیکن اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ منصوبہ کے مخالفین اور بیرونی عناصر جو نہیں چاہتے کہ پاک چین دوستی کے باعث بننے والا یہ عظیم منصوبہ جس سے خطے کے دیگر ممالک میں مستفید ہوں گے، کامیابی سے ہمکنار ہوں وہ مستقل پروپیگنڈے میں مصروف ہیں جس کے باعث عوام میں بھی تشویش اور ابہام کی کیفیات پیدا ہورہی ہیں۔

صائب ہوگا کہ اس سلسلے میں وفاق و صوبائی ادارے ایک پیج پر کھڑے نظر آئیں، منصوبے سے متعلق ذہنی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد و اتفاق ضروری ہے تاکہ منصوبہ مخالف دشمنوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کا سدباب کیا جاسکے۔ سیمینار میں چینی سفیر لی جیان زا نے بھی سی پیک منصوبوں کے حوالے سے پاکستان میں پائے جانے والے خدشات اور افواہوں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ یہاں پر چینی قیدی لیبر بھیجی گئی ہے، پاکستان کو چین اپنی کالونی بنائے گا، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جائے گا، چین نے پاکستان کو استعمال شدہ کول پاور پلانٹس دیے ہیں جس سے پاکستان میں آلودگی میں اضافہ ہوگا۔

منصوبے کے ذریعے پاکستان کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جائے گا، نیز اسی قسم کے دوسرے خدشات سے متعلق چینی سفیر نے واضح کہ ان باتوں کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں ہے۔ دوسری جانب اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ منصوبوں میں شفافیت لانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تفصیلات اور اعداد و شمار میڈیا کے ذریعے عوام میں زیر بحث لائے جائیں، میڈیا عوامی آگاہی کے لیے اپنی ذمے داریاں بخوبی نبھا رہا ہے، سی پی این ای نے بھی قومی منصوبوں کے حوالے سے غلط فہمیاں ختم کرنے کے لیے جو سیمینار منعقد کیا وہ قابل ستائش ہے۔ اس جہت میں آیندہ بھی کوششیں جاری رکھیں جائیں۔