الیکشن کا بگل بج گیا ہے

مسئلہ صرف انتخابی شفافیت تک محدود نہیں بلکہ پارلیمنٹ تک رسائی کے پارلیمانی راستے کا بھی ہے۔


Editorial June 29, 2018
مسئلہ صرف انتخابی شفافیت تک محدود نہیں بلکہ پارلیمنٹ تک رسائی کے پارلیمانی راستے کا بھی ہے۔ فوٹو: فائل

الیکشن اپیلٹ ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے آبائی حلقے این اے 57 مری سے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انھیں اس حلقے سے الیکشن لڑنے کے لیے تاحیات نااہل قرار دیدیا، اب انھوں نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کردی۔

ادھرتحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے کاغذات بھی مسترد ہوگئے تھے لیکن جمعرات کو انھیں ہائیکورٹ نے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے ، متعدد دیگر امیدواروں کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں جب کہ مولانا احمد لدھیانوی، اعجازچیمہ، سائرہ افضل تارڑ آفتاب شیرپاؤ ودیگر کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دیدی گئی ہے، واضح رہے اپیلٹ ٹربیونلزمیعاد ختم ہونے پر تحلیل ہوگئے۔اب جن کے بھی کاغذات مسترد ہوئے ہیں انھیں عدالت عالیہ سے ہی رجوع کرنا پڑے گا یا پھر سپریم کورٹ جانا پڑے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ الیکشن اپیلٹ ٹریبونل فیصلہ کے سیاق وسباق سے طرز حکومت کی ممکنہ اور یقینی شفافیت کے دائرہ کار میں اب امیدواروں کی پاک دامنی ، کردار کی صلابت ، راست گوئی اور اصول پسندی کے تمام اوصاف بھی آگئے ہیں۔

مسئلہ صرف انتخابی شفافیت تک محدود نہیں بلکہ پارلیمنٹ تک رسائی کے پارلیمانی راستے کا بھی ہے جس کے لیے امیدواروں کے لیے درست اثاثوں کے اعلان میں مصلحت، گریز پائی، جھوٹ یا اخلاقی قدروں کی پامالی اور آرٹیکل 62-63 کے اطلاق یا اس کے خطرہ کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں، چنانچہ اپیلٹ ٹریبونل کے فیصلہ کے ارتعاش نے بھی غیر معمولی طور پر سیاسی حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کے جج جسٹس عباد الرحمان لودھی نے سابق وزیر اعظم مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کے حلقہ این اے57 مری سے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل62(1)fکے تحت نااہل قرار دینے کے8 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں قرار دیا کہ شاہد خاقان عباسی سابق وزیر اعظم رہے ہیں، وزیر اعظم دنیا میں پاکستان کا چہرہ ہوتا ہے ایسے چہرے شفاف ہونے چاہئیں،بہرحال اس فیصلے کے بارے میں ہائیکورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ فواد چوہدری کے فیصلے کو سامنے رکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ خاقان عباسی کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔

دوسری طرف سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن اپیلٹ ٹربیونل انھیں نااہل قرار نہیں دے سکتا وہ اس فیصلہ کو چیلنج کر رہے ہیں، شاہد خاقان کے مطابق کاغذات نامزدگی فارم میں انھوں نے کوئی چیزاور حقائق نہیں چھپائے،ایسے فیصلوں سے انتخابات مشکوک بنائے جارہے ہیں۔

ادھر شاہد خاقان کی تاحیات ناہلی کے فیصلہ کا ارتعاش لندن میں بھی محسوس کیا گیا، مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی شہباز شریف،شاہد خاقان عباسی سمیت پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں موجودہ سیاسی امور پر مشاورت کی گئی جس میں نواز اور مریم نواز کی جلد وطن واپسی کے بارے میں غور کیا گیا۔

اپیلٹ ٹربیونل کی اپیلوں پرسماعت مکمل ہونے کے ساتھ ہی کاغذات نامزدگی کے حوالے سے ایک اور مرحلہ ختم ہوگیا ہے اورالیکشن کمیشن امیدواروں کی نظر ثانی فہرست جاری کی جائے گی۔ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ادھرسابق وزیرِخارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لیتے ہوئے الیکشن 2018ء میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر شاہد خاقان عباسی کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قراردیا گیا فیصلہ ہائیکورٹ سے بھی برقرار رہتا ہے تووہ الیکشن لڑ ہی نہیں سکتے، ان کے جہاں بھی کاغذات نامزدگی جمع ہیں وہ غیر موثرہونگے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان نے کوئی ڈیکلیریشن مس کیا ہی نہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ارباب اختیار الیکشن ہونے دیں جو قریب آرہے ہیں جب کہ امیدواروں کے سروں پر کثیر جہتی تلوار بھی لٹک رہی ہے ، وہ شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔

ادھر عمومی طور پر یہ تاثر ہے کہ احتساب ون وے ہو رہا ہے ،اس لیے صورتحال کی اصلاح ناگزیر ہے ورنہ انتخابات کی اعتباریت متاثر ہوگی۔بہرحال اس قسم کے فیصلے بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اب عام انتخابات کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے'جن لوگوں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں ان کے پاس قانونی آپشنز موجود ہیں ' اس کے ساتھ ساتھ الیکشن لڑنے والے امیدواروں کو بھی کاغذات نامزدگی مکمل کرتے ہوئے تمام قانونی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے اور کاغذات نامزدگی کے فارم کو بھی درست طریقے سے پر کرنا چاہیے تاکہ الیکشن کمیشن پر بھی دباؤ نہ آئے۔ اب الیکشن کا بگل بج چکا ہے لہٰذا تمام پارٹیوں کو اپنی الیکشن مہم پر توجہ دینی چاہیے۔