بنگلہ دیشی ٹریبونل نے برطانیہ میں مسلمان برادری کے رہنما کی گرفتاری کا حکم دیدیا

چوہدری معین الدین پریونیورسٹی کے 18اساتذہ،صحافی اورمصنفین کے اغوا، ان پرتشدد اور ان کے قتل کے الزامات ہیں، حکومتی وکیل


AFP May 02, 2013
چوہدری معین الدین برطانیہ میں کئی اسلامی تنظیموں میں بڑے عہدوں پر فائذ رہ چکے ہیں اور وہ برطانیہ میں مسلم کونسل آف بریٹن کے بانی بھی ہیں، فوٹو: بی بی سی

بنگلہ دیش میں حکومتی ٹریبونل نے بنگلہ دیشی نژاد برطانوی مسلمان چوہدری معین الدین اور ایک امریکی شہری اشرف الزمان خان کو 1971 کے واقعات میں مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

چوہدری معین الدین برطانیہ میں کئی اسلامی تنظیموں میں بڑے عہدوں پر فائذ رہ چکے ہیں اور وہ برطانیہ میں ''مسلم کونسل آف بریٹن'' کے بانی بھی ہیں۔ 1971 میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت معین الدین صحافت کے شعبے سے منسلک تھے، بنگلہ دیشی ٹریبونل کے مطابق معین الدین البدر نامی ایک ملیشیا تنظیم کے اہم رکن تھے اور وہ جماعت اسلامی سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ حکومتی ٹریبونل نے انہیں 1971 کے واقعات کا مجرم ٹھہراتے ہوئے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

حکومت کے وکیل زیاد المعلوم نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ معین الدین پر 16 الزامات عائد کئے گئے ہیں جن میں یونیورسٹی کے 18 اساتذہ، صحافی اور مصنفین کے اغوا، ان پر تشدد اور ان کے قتل کے الزامات شامل ہیں۔ ٹریبونل کی تحقیقاتی ایجنسی کے سربراہ عبدالحنان نے بتایا کہ معین الدین نے 1971 میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے بعد ملک چھوڑ دیا تھا۔

دوسری جانب لندن میں معین الدین کے وکیل نے ٹریبونل کے اس فیصلے پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ معین الدین ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت بھی ان کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کے فیصلے پر شاید انہیں بنگلہ دیشی حکومت کے حوالے کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو۔

حکومتی ٹریبونل نے ایک امریکی شہری اشرف الزمان خان کو بھی 1971 کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی بھی گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں، حکومت کے وکیل سید حیدر علی کا کہنا ہے کہ اشرف الزماں خان ان دنوں نیو یارک میں مقیم ہیں اور 1971 میں وہ بھی البدر ملیشیا میں شامل تھے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے یہ ٹریبونل 1971 کے واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے لئے قائم کیا تھا لیکن اس میں دی جانے والی سزاؤں پر بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی جماعت اسلامی نے دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ہمراہ جانبداری اور سیاسی بنیادوں پر فیصلے کرنے کا الزام عائد کیا ہے، ٹریبونل کے فیصلوں پر کئی دنوں تک جاری رہنے والے احتجاج میں رواں سال 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔