امریکی اقتصادی پابندیاں اورایرانی حکمت عملی

اب بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ امریکا اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکے گا۔


Editorial July 02, 2018
اب بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ امریکا اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکے گا۔ فوٹو:فائل

KARACHI: میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایرانی قیادت اس امر پر غور و فکر کر رہی ہے کہ امریکا کی طرف سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے اثرات سے ملکی معیشت کو بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں تاکہ ایرانی تیل کی برآمدات کی راہ ہموار رکھی جا سکے۔

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں چالیس فیصد تک کمی واقع ہو گئی جس پر ایرانی تاجروں کی طرف سے زبردست احتجاج کیا گیا۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے موقع پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف کرنا ہے۔

امریکا چاہتا ہے کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہو جائیں اور اس نظام کو ناکام بنا دیں۔ لیکن صدر ٹرمپ سے پہلے چھ امریکی صدور بھی ایسی کوشش کر چکے ہیں لیکن ان سب کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب تازہ صورتحال کے بعد صدر حسن روحانی نے پارلیمنٹ اور عدلیہ کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کی ہے اور امریکی پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ممکنہ مشکلات پر قابو پانے کے اقدامات پر بات چیت کی۔

امریکی حکومت کی طرف سے ایران کے خلاف جو اقدامات کیے جا رہے ہیں ان سے ایرانی معیشت کے لیے بہت سے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ایرانی قیادت کوشش کر رہی ہے کہ ملک کی خود کفالت کی صورتحال زیادہ متاثر نہ ہو نیز امریکی پابندیوں کے منفی اثرات پر کامیابی سے قابو پایا جا سکے۔ ایرانی حکومت اور پارلیمنٹ نے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو ایرانی تیل کے خریداروں کی فہرست کا مفصل جائزہ لے گی اور یہ دیکھے گی کہ کون سے ملک امریکی پابندیوں کے خوف سے متاثر نہیں ہوتے اور ایرانی تیل کا استعمال بند کرنے سے انکار کر دیں گے۔

اس ضمن میں ممکن ہے کہ ایران کی طرف سے ان ملکوں کو کچھ رعایتی پیکیج بھی پیش کیے جائیں۔ علاوہ ازیں متذکرہ کمیٹی تیل کے نئے خریداروں کو تلاش کرنے کی کوشش بھی کرے گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلی بار جب ایران پر زیادہ سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں بہت سے ایسے ممالک بھی تھے جو تیل کی شدید ضرورت کے محتاج تھے اس لیے وہ اپنے ذرایع سے بھی ایرانی تیل کو خفیہ طریقے سے حاصل کرتے رہے تھے جس سے امریکا کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگانے کا پورا مقصد حاصل نہ ہو سکا تھا۔

اب بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ امریکا اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکے گا۔ بہرحال اس ساری صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دو ملکوں کے درمیان محاذ آرائی کا نقصان متعلقہ ملکوں کے عوام کو پہنچتا ہے' امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے میں امریکا بالادست قوت ہے لہٰذا اس تنازعے سے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں' اس کی ذمے داری امریکا پر ہی عائد ہوتی ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی پالیسی میں تبدیلی کرکے کے اس معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے جو اوباما انتظامیہ اور ایران کے درمیان طے پا چکا ہے۔