عدالتی فعالیت اور انتظامی قابلیت

اعلیٰ عدلیہ کے اقدامات نہ صرف اخلاقی، قانونی و آئینی بنیادوں پر جائز ہیں بلکہ قابل تعریف اور مستحسن بھی ہیں


خلیل احمد July 07, 2018
اعلیٰ عدلیہ کسی بھی غیر اخلاقی، غیر شرعی اور غیر قانونی معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے اور اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ فوٹو:انٹرنیٹ

چیف جسٹس آف پاکستان نے آئین پاکستان کے آرٹیکل (3)184 کی تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے عوام کے بنیادی حقوق اور عوامی مسائل سے متعلق معاملات پر ازخود نوٹس لے کر واقعی بہت بہادری اور جرات مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں پہلا سوال یہ ہے کہ چیف جسٹس کے اٹھائے گئے اقدامات کی آئینی و قانونی حیثیت کیا ہے؟ اخلاقی و شرعی حیثیت کیا ہے؟ ایسے فیصلوں سے قانون کی تشریح کس سمت میں جائے گی اور قانونی نظریات اور تصورات پر کیا اثر پڑے گا، اور پاکستان کی آئینی و قانونی تاریخ میں ان فیصلوں کی کیا اہمیت ہوگی؟ اس ضمن میں دوسرا سوال یہ ہے کہ اس سے عوام کی زندگی کتنی سہل اور آسان ہوگی؟ عوام کی سماجی اور معاشی حالت پر کیا اثر پڑے گا، قانون کی حکمرانی کا تصور کس حد تک عملی صورت اختیار کرے گا اور کس حد تک ناانصافی اور ظلم کو روکا جا سکے گا؟ یہ دونوں سوال اپنی جگہ اہم ہیں، مگر موجودہ حالات میں دوسرا سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

اگرچہ جدید نظام حکومت کے تحت ہمارے ملک میں اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم آئین میں کر دی گئی ہے جسے قانونی زبان میں separation of power یا اختیارات کی علیحدگی کہا جاتا ہے، مگر اختیارات کے ناجائز اور حد سے بڑھ کر استعمال کو روکنے کے لیے ایک اور تصور موجود ہے جسے check and balance کہتے ہیں؛ تاکہ کوئی بھی ادارہ اپنی حدود سے تجاوز کر کے قانون اور انصاف کا قتل نہ کرے۔ آئین کا آرٹیکل (3)184 اسی تصور پر مبنی ہے جس کے تحت اعلیٰ عدلیہ انتظامیہ کو قانون کے دائرے میں لا سکتی ہے اور ماورائے آئین و قانون اقدامات کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اگر ہم انتظامیہ کی کارکردگی، عوام کی تباہ شدہ معیشت و معاشرت اور آئین پاکستان تینوں کو بیک وقت زیرِ غور لائیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اعلیٰ عدلیہ کے اقدامات نہ صرف اخلاقی، حب الوطنی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر، بلکہ قانونی و آئینی بنیاد پر بھی جائز ہیں بلکہ قابل تعریف اور مستحسن ہیں۔

اسی ضمن میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ازخود نوٹس کن کن مسائل میں لیا جا سکتا ہے، کیونکہ ایک ریاست کے تقریباً تمام مسائل کا تعلق کسی نہ کسی طرح عوام کے ساتھ ہوتا ہے، اس میں کسی نہ کسی فرد کا یا گروہ کا کوئی نہ کوئی بنیادی حق زیر بحث ہوتا ہے۔ کیا کوئی ایسے معاملات بھی ہیں جہاں سپریم کورٹ ازخود نوٹس نہیں لے سکتی؟ اس سوال پر قانونی بحث ہو سکتی ہے، لیکن اگر شریعت، اخلاقیات اور سماجی فلاح و بہبود کے تصور کو مد نظر رکھا جائے تو پھر اعلیٰ عدلیہ کسی بھی غیر اخلاقی، غیر شرعی اور غیر قانونی معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے اور اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

آئینی و قانونی لحاظ سے بے شمار ایسے معاملات ہیں جہاں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کرسکتی اور موجودہ حالات میں سپریم کورٹ اپنی حدود سے تجاوز بالکل نہیں کر رہی، کیونکہ جن معاملات کو زیرِ بحث لایا گیا اور جن پر ازخود نوٹس لیا گیا ہے، اس میں براہ راست ان بنیادی عوامی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہے جو آئین پاکستان نے عوام کو دیے ہیں، اور جس کی حفاظت کی ذمہ داری اعلیٰ عدلیہ کو دی ہے۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک کوئی ایسا نوٹس نہیں لیا، جس میں انتظامیہ یا حکومت کے قانونی اختیارات چھینے گئے ہوں۔

دوسری طرف انتظامیہ یعنی حکومت کی کارکردگی، قابلیت اور اہلیت کا جائزہ لیا جائے تو قانون، اخلاقیات، اصول پسندی، انصاف اور انسانی ہمدردی کے جنازے ہی اٹھتے نظر آتے ہیں۔ سیاستدانوں کی بصیرت، دوراندیشی، حکمت اور سیاسی و اخلاقی بلوغت کا معیار تو ان کی حرکات و سکنات اور تقاریر سے عیاں ہے۔ ان کی ایک ایک جنبش زبان اور ایک ایک قدم سے ذہنی پسماندگی اور اخلاقی پستی آشکار ہوتی ہے۔ خود غرضی، خود پسندی اور مال و زر سے محبت کا یہ عالم کہ اپنی خواہشات کی تکمیل میں آڑے آنے والی ہر شے انہیں نا پسند ہے، چاہے وہ ملک کا آئین و قانون ہو یا اللہ کی دی ہوئی شریعت و اخلاقیات۔ دھن دولت جمع کرنے میں کوئی رکشے والا، ٹیکسی والا، کوئی اداکار، کوئی فنکار یا کمی کمین بھی مدد کرے تو اس کی جگہ ان کے دل میں ہوگی، وہ انہیں 20 کروڑ عوام سے بھی زیادہ عزیز ہے؛ لیکن اگر کوئی ان کے سامنے قانون اور اخلاقیات کی بات کرے تو انسان بھی نہیں ہے۔

اندازہ کیجیے کہ یہ مسلمان ہیں، یہ اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والوں کا حال ہے، یہ قرآن کی تلاوت کرنے اور کعبتہ اللہ کا حج و عمرہ کرنے والوں کی دیدہ دلیری ہے۔ ایسے حالات میں بندگان خدا کو بارگاہ خداوندی میں شکر ادا کرنا چاہیے کہ کسی کو تو اللہ نے توفیق دی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے کتابی تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ سیاسی حکومت اور بیوروکریسی دونوں اس قدر گھامڑ، بے حس اور بے ضمیر ہو چکے ہیں کہ انسانی ہمدردی میں لوگوں کی مدد کرنا تو دور وہ اپنے آئینی، قانونی اور اخلاقی فرائض کو ہی فراموش کر چکے ہیں، اور خود کو اس دھرتی کا حقیقی مالک سمجھ بیٹھےہیں۔ انتہائی اہم اور نازک سرکاری عہدوں پر تعیناتی میں قانون و ضوابط پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ حد درجہ احتیاط اور سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ملکی مفاد اور وقار کو ٹھیس نہ پہنچے مگر کم ظرفی اور خود غرضی و جہالت کی انتہا دیکھیے کہ جتنا بڑا عہدہ اتنی بڑی غفلت اور کم عقلی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

قانون و انصاف کے تقاضے تو اس وقت پورے ہوتے ہیں جب ایک معمولی سرکاری عہدے پر بھی تمام تر قانونی لوازمات کو پورا کر کے بھرتی کی جائے، مگر یہاں اس ملک میں تو مطلق العنانی اور شہنشاہیت کا یہ عالم ہے کہ یہاں وزراء اس بنیاد پر لگائے جاتے ہیں کہ وہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے کتنے قریبی ہیں یا کتنے خوشامدی اور غلام ہیں۔ غیر ملکی سفیروں کی تعیناتی ہو یا یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کی تقرری، ہائر ایجوکیشن کے چئیرمین کا معاملہ ہو یا بجلی کے شعبہ کے سربراہان ہوں، پی آئی اے کا چئیرمین ہو یا پی ٹی وی کا، پیمرا کا چیئرمین ہو یا پی سی بی کا، کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں بڑے اور کلیدی عہدوں پر میرٹ اور انصاف کی روشنی میں قابل، دیانت دار، پیشہ ور اور ملک و ملت سے مخلص افراد کو لگایا گیا ہو۔

عدالتی فعالیت کی جو بحث اس وقت قانونی ماہرین میں چھڑ چکی ہے، اس کے دو رخ ہیں۔ ایک تصویر تو یہ ہے کہ ان دانشوروں اور قانون دانوں میں سے چند ایک لوگ ایسے ہیں جو اس معاملے کو صرف قانونی نکتہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کی بھی پھر دو قسمیں جو دو مختلف قانونی تصورات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو ہی اول و آخر سمجھتے ہیں اور پارلیمنٹ کو قانون سازی میں آزاد سمجھتے ہیں جو کہ مغربی فلفسہ قانون ہے، مگر حقیقت میں سارے مغرب میں بھی ایسا تصور نہیں ہے؛ وہاں بھی اس پر بے شمار نظریاتی و عملی اختلافات موجود ہیں۔

دوسرا طبقہ مذہب اور شریعت کو بنیادی قوانین و اخلاقیات کا سرچشمہ سمجھتا ہے اور ہر وہ عمل و قانون جو شریعت و مذہب یا اخلاقیات کے خلاف ہو گا، وہ ناجائز اور ناقابل عمل سمجھتا ہے۔ تصویر کے دوسرے رخ میں وہ متعصب اور بکے ہوئے دانشور، قانون دان اور اہل قلم و اہل زبان ہیں جو عدالتی اقدامات کو اپنے مالکوں اور آقاؤں کے خلاف سازش اور انتقام سمجھ کر انھیں غلط قرار دے رہے ہیں۔ ان بدبختوں کے نزدیک وہ قانون اور عدالتی فیصلے جائز اور تقریباً شرعی ہیں جو ان کے مخالفین کے خلاف آئے ہیں، مگر ان کے خلاف آنے والے تمام عدالتی فیصلے کالا قانون ہیں اور سازش ہیں۔ ایسے کاسہ لیس اور درباری ہر دربار میں ہوتے ہیں اور انہی کی وجہ سے ہی شیطان صفت لوگ برسر اقتدار آتے ہیں؛ کیونکہ یہی چاپلوس اور خوشامدی اپنے محسنوں کے لیے عوام کی ذہن سازی کرتے ہیں۔

اللہ ہمیں ایسے ضمیر فروش علماء، دانشوروں، قانون دانوں اور اہل قلم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔