سی پیک منصوبہ خدشات کا خاتمہ ناگزیر

کسی بھی ملک و قوم کی تاریخ میں ایسے مواقع شاید ہی آتے ہیں جیسا شاندار موقع پاکستان کو ملا ہے۔


Editorial July 06, 2018
کسی بھی ملک و قوم کی تاریخ میں ایسے مواقع شاید ہی آتے ہیں جیسا شاندار موقع پاکستان کو ملا ہے۔ فوٹو: فائل

چائنا پاک اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، ماہرین اس منصوبے کو پاکستان کی معیشت کے لیے آکسیجن قرار دے رہے ہیں، جس سے توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد اور روز گار کے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ بلاشبہ یہ راہداری پاکستان وسطی ایشیا، چین اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے کا کوریڈور ہے۔

سی پیک کے اس فائدہ مند پہلو کو دیکھتے ہوئے پاکستان مخالف قوتیں مستقل منفی پروپیگنڈے میں مصروف عمل ہیں جس کے باعث عوام خاص کر بلوچستان میں کئی خدشات اور تحفظات جنم لے رہے تھے لیکن بدھ کو بلوچستان میں سی پیک کے حوالے سے ہونے والے سیمینار میں نگراں وزیراعلیٰ علاؤ الدین مری نے کہا ہے کہ چین نے سی پیک پر بلوچستان کے خدشات دور کردیے ہیں جو کہ ایک خوش آیند امر ہے۔ نگراں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سی پیک کے بارے میں چائنیز حکومت اور صوبائی حکومت کو کچھ خدشات ضرور تھے جو آج کے سیمینار میں قونصل جنرل چین وانگ شونگ نے دور کردیے۔

قونصل جنرل چین وانگ شونگ نے بھی کہا کہ پاکستان اور چین کے پرانے دوستانہ تعلقات ہیں جس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں سرمایہ کاری کریں۔ بلاشبہ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ پاک چین دوستی سمندر سے زیادہ گہری اور ہمالیہ سے زیادہ بلند ہے۔ پچھلے کئی عشروں سے متعدد بار دونوں ممالک نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ یہ دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے ۔

چین آج بھی پاکستان کی ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ چین کی طرف سے شاہراہ ریشم کی تعمیر میں بے مثال اعانت اور دفاعی تعاون کے حوالے سے پاکستان بھی چینی تعاون کا معترف رہا ہے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایسا پلیٹ فارم ہے جو دونوں ممالک نے طویل مدت تک تعاون کے لیے بنایا ہے جس سے نہ صرف چین اور پاکستان کی عمومی ترقی کا عمل تیز ہوگا بلکہ باہمی روابط کے ذریعے پورے خطے اور دیگر ممالک میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔

سی پیک اکیسویں صدی کا اہم ترین اقدام ہے۔ کسی بھی ملک و قوم کی تاریخ میں ایسے مواقع شاید ہی آتے ہیں جیسا شاندار موقع پاکستان کو ملا ہے۔ صائب ہوگا کہ کسی بھی منفی سوچ کو عوام میں پنپنے نہ دیا جائے کیونکہ ملک دشمن عناصر مستقل گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ اس عظیم منصوبہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تمام تر منفی پروپیگنڈوں اور خدشات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔