وال چاکنگ کیخلاف قانون کا ڈرافٹ تیار کرلیا ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ

صدر، گلبہار، ایم اے جناح روڈ، شاہراہ پاکستان کی دیواروں پر اشتہارات کی بھرمار ہے


Staff Reporter May 05, 2013
صدر، گلبہار، ایم اے جناح روڈ، شاہراہ پاکستان کی دیواروں پر اشتہارات کی بھرمار ہے۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹرسید ہاشم رضا زیدی نے کہا ہے کہ وال چاکنگ ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے اور ا س سے نمٹنے کیلیے موثر قانون تجویز کیا گیا تاکہ شہر کا چہرہ مسخ کرنے والے افرادکو سخت سزا دی جاسکے۔

یہ بات انھوں نے شہر میں صفائی ستھرائی، بیوٹیفکیشن اور خصوصاً وال چاکنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک ایسا قانون لایا جائے جس میں دیواروں ،گھروں اور عمارتوں پر وال چاکنگ کرنے والوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے اور سزا دی جاسکے، انھوں نے بتایا کہ اس قانون کا ڈرافٹ تیا رکرلیا گیا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی اکثر و بیشتر دیواروں سے وال چاکنگ کے خاتمے کی مہم چلاتی رہتی ہے، اس معاملے کی رو ک تھام کیلیے شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ بھی کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بڑی بڑی شاہراہوں کے دونوں اطراف سے وال چاکنگ مٹانا بلدیہ عظمیٰ کراچی اور مختلف علاقوں میں واقع چھوٹی سڑکوں اور گلیوں سے وال چاکنگ مٹانا ڈسٹرکٹ میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ذمے داری ہے، جنھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے وال چاکنگ کو مٹائیں تاکہ شہر کے چہرے پر داغ کے مترادف یہ وال چاکنگ ختم ہوسکے، انھوں نے کہا کہ کراچی بین الاقوامی شہر ہے اور یہاں دنیا کے مختلف ممالک سے وفود اور سیاح آتے ہیں وال چاکنگ کے باعث انہیں انتہائی برا تاثر ملتا ہے اور شہر کا امیج خراب ہوتا ہے۔



انھوں نے کہا کہ یہ وہ افراد اور ادارے ہیں جو سستی شہرت چاہتے ہیں اور حکومت اور بلدیاتی اداروں کو ان کے ان اقدامات سے نقصان پہنچتا ہے، انھوں نے کہا کہ بل بورڈز، سائن بورڈز اور دکانوں پر لگائے جانے والے بورڈز سے بلدیہ عظمیٰ کراچی فیس وصول کررہی ہے جبکہ وال چاکنگ کے ذریعے اشتہارات اس زمرے میں نہیں آتے، انھوں نے کہا کہ دیواروں پر لکھے ہوئے اتائی ڈاکٹروں، حکیموں اور جعلی عاملوں کے اشتہارات اخلاق سے گرے ہوتے ہیں جن سے بچوں اور خواتین کے ذہنوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

صدر، تین ہٹی، گلبہار، پٹیل پاڑہ، ایم اے جناح روڈ، شاہراہ پاکستان اور فیڈرل بی ایریا وہ علاقے ہیں جہاں ان اشتہارات کی بھر مار ہے، ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ یہ تعلیم یافتہ، باشعور اور شہر سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے، میں شہریوں سے گزارش کرونگا کہ جب وہ وال چاکنگ کرتے ہوئے کسی کو دیکھیں تو پولیس کو اس کی اطلاع دیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ وال چاکنگ کرنے والوں کا یہ قدم پورے معاشرے کیلئے ناقابل برداشت ہے اور اس سے شہر کاامیج بری طرح متاثر ہوتا ہے اور شہر کی خوبصورتی میں بھی کمی آتی ہے۔