سیاسی صورتحال قومی بیانیہ کی ضرورت

شفاف الیکشن پر تحفظات اور خدشات سر اٹھا چکے ہیں لہذا دیکھنا یہ ہے کہ اس چیلنج سے نگراں حکومت کیسے عہدہ برآ ہوتی ہے۔


Editorial July 08, 2018
شفاف الیکشن پر تحفظات اور خدشات سر اٹھا چکے ہیں لہذا دیکھنا یہ ہے کہ اس چیلنج سے نگراں حکومت کیسے عہدہ برآ ہوتی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ملکی سیاسی قائدین سابق وزیراعظم نواز شریف کے وطن واپس آنے کے اعلان پر فوکس کیے ہوئے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف کی کہانی اور بقا کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی اس کا آغاز ہونا ہے اور یہ آئندہ ملکی سیاسی صورتحال کے حوالوں سے سوالات اٹھا سکتی ہے۔

بعض سیاسی مبصرین کے نزدیک معاملہ پنجاب میں سنگین قوم پرستانہ سیاسی دھچکوں کا ہے جو سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا کے سیاسی مسائل سے مختلف ہے اور اشرافیہ، اربن شہری شعور اور ن لیگ کے سیاسی منحرفین سے نئے مفاداتی گیم پلان کی تکمیل سے مشروط ہے، کسی کا کہنا ہے کہ اسے ناقابل یقین داخلی سیاسی کروٹ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ آگے جا کر نواز بیانیہ شہباز شریف کے سیاسی لائحہ عمل سے متصادم ہوئے بغیر اپنی عملیت پسندی اور جارحانہ پیش قدمی کا تعین زمینی حقائق اور سٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن قوتوں کے محاصرہ کے جوابی اقدام پر مبنی ہو گی، اسی سے آئندہ کے پاور سٹرکچر، سویلین عسکری تعلقات سمیت اپوزیشن اور مین اسٹریم سیاسی اتحادیوں کے مستقبل کی صورت گری کا منظرنامہ تشکیل پائے گا، اسے جمہوری قوتیں جمہوری سسٹم کی بالادستی کے لیے فیصلہ کن مزاحمت کا نام دینا چاہتی ہیں تاہم ضرورت قومی بیانیہ کی اصولی فتح کی ہے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو فیصلے کا سیاسی فائدہ ہو گا اور لوگ سمجھیں گے کہ انھیں برے وقت میں چھوڑنا نہیں چاہیے۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے متعلق فیصلے پر ردعمل اعتدال کے ساتھ آنا چاہیے، ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلے کو بھارتی میڈیا نے عمران خان کے لیے سازگار اور مسلم لیگ ن کے لیے انتخابات کے حوالے سے دھچکا قرار دے دیا۔

ایک بھارتی نیوز چینل سی این بی سی ٹی وی18اور زی ٹی وی نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کے لیے بڑا دھچکا ہے، انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں اثر انداز ہو گا ۔

ایک اطلاع کے مطابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات و قانون و انصاف بیرسٹر علی ظفر نے نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ پر فوری عملدرآمد کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت فلیٹس کی قرقی کے لیے پیر سے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری ذمے داری ہے فیصلہ پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ حسن اور حسین نواز کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا غیر ملکی شہری کا پراسیس مختلف ہوتا ہے اور پاکستانی شہری کو پاکستان لانا آسان ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بھی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ اسحاق ڈار کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ مفرور ہیں، ان کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

ادھر جمعہ کو نواز شریف نے لندن میں اپنی پریس کانفرنس میں دوٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کا رخ موڑنے کے جرم پر انہیں سزا ملی ہے، مگر جیل سے جدوجہد جاری رکھیں گے، فیصلے کے بعد انھیں جو قانونی اور آئینی حقوق حاصل ہیں وہ سب کے سب استعمال کرینگے۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے کہاکہ ڈاکٹروں سے بات کے بعد واپسی کا ٹکٹ بک کرائینگے۔ میاں نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ کنفرم ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے قربت اور اس کی سرپرستی کے الزام کے باوجود نوازشریف کو ماضی میں بھی سیاسی مخالفین کی جانب سے مختلف نوعیت کی عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، بھٹو مخالف ٹرینڈ کی طرح اب نواز مخالف سیاسی روش اپوزیشن کے ترکش کا سب سے تیر بہدف نسخہ ہے، خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ایک بار پھر وطن واپسی کے لیے حتمی تاریخ میں ناکامی نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو کنفیوژن کا شکار کر دیا ہے۔

ایون فیلڈ فیصلہ پر ماہرین قانون سمیت سیاسی و مذہبی حلقوں کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے، ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنانے پر رد عمل دیتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو اگر وطن واپسی پر گرفتار کرنا چاہیں تو کیا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ واپس نہیں آئے تو انھیں دیگر طریقوں سے بلانے کی کوشش کی جائے گی، انھوں نے عدالت کی جانب سے فیصلے کو مسلسل موخر کرنے پر کہا کہ یہ عمل انتہائی غیر معمولی تھا، فیصلہ بہت تنازعات کا شکار ہوا اور اس پر تنازع کھڑا ہو گا، سینئر قانون دان بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ ایسی کوئی شق نہیں کہ الیکشن قریب ہوں تو فیصلہ نہ سنایا جائے۔

ایک ٹی وی گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سزا سنائی گئی ہے، قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر کو سپریم کورٹ سے براہ راست رجوع پر آئین کے آرٹیکل187 کے تحت ریلیف مل سکتا ہے، بصورت دیگر ملزمان کو10 دن میں نیب کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنا ہو گا، ہائیکورٹ میں ضمانت کی رٹ پٹیشن کے لیے بھی ان کی گرفتار ی ضروری نہیں، سیاسی اور انتخابی گہماگہمی اور عدالتی فیصلہ کے تناظر میں نواز شریف کو سزا کے فیصلے پر تحریک انصاف کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، پی ٹی آئی کارکنوں کے جشن، بھنگڑے اور ڈھول کی تھاپ رقص کے ساتھ مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت نے غلط وقت پر ایک بڑا فیصلہ دیا جس سے ایک سیاسی جماعت کو فائدہ ہو رہا ہے۔ احتساب عدالت کے فیصلہ کی روشنی میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر نہ صرف حالیہ بلکہ آئندہ کے دو عام انتخابات میں بھی حصہ نہیں لے سکیں گے تاہم ان کے پاس احتساب عدالت کے فیصلہ کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں اپیل دائر کرنے پر ریلیف ملنے کی صورت میں الیکشن لڑنے کا آپشن موجود ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یو کے ایڈووکیسی کی سربراہ ریچر ڈیویزٹیکا نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو محفوظ پناہ گاہ مہیا نہ کرے، ان کا کہنا تھا کہ یہ امتحان ہے کہ برطانوی حکومت کرپشن کے پیسے کے خلاف کریک ڈاؤن میں کتنی سنجیدہ ہے۔ بہر حال ن لیگ کو سیاسی بقا اور آئندہ الیکشن میں بریک تھرو کے لیے نواز شریف اور مریم نواز کی جلد آمد کا انتظار ہے، ن لیگ کا سفینہ ''ڈیول اینڈ دی ڈیپ سی'' گرداب میں پھنسا ہے، ادھر شفاف الیکشن پر بہت سے تحفظات اور خدشات سر اٹھا چکے ہیں لہذا دیکھنا یہ ہے کہ اس چیلنج سے نگراں حکومت کیسے عہدہ برآ ہوتی ہے۔ یہ واقعی ملکی سیاست کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔