پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور معاشی حالات

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آیند ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کمی کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


Editorial July 09, 2018
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آیند ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کمی کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل

نگران حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے' نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 4.26روپے فی لٹر سے کم ہو کر 95.24روپے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 6.37روپے فی لٹر سے کم ہو کر 112.94 اور لائٹ ڈیزل 5.54روپے کی کمی سے 75.37روپے فی لٹر ہو گیا اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 3.74روپے کی کمی کی گئی، اب اس کی نئی قیمت 83.36روپے فی لٹر ہو گئی ہے۔

پٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح 17سے کم کر کے 12فیصد کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ریونیو میں دس ارب روپے کمی کا تخمینہ ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آیند ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کمی کے معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چند روز پیشتر نگران حکومت نے 17دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو بار اضافہ کیا' پہلی بار پٹرول کی قیمت میں 4.26روپے جب کہ دوسری بار 7.54 روپے کا اضافہ کیا گیا جس سے حکومتی ریونیو میں تو خاطر خواہ اضافہ ہوا مگر اس کے معاشی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے اور آمدورفت کے اخراجات بڑھنے سے روز مرہ اشیا کی قیمتوں کا گراف بھی کئی گنا اوپر چلا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی سے مہنگی ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے یا نہیں۔ ماضی کے واقعات کے تناظر میں یہ کہنا مشکل امر نہیں کہ ایک بار جب اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے تو اس میں دوبارہ کمی نہیں ہوتی۔ نگران حکومت کے آتے ہی روپے کی قدر میں کمی ہوئی اور ڈالر 125روپے کے مساوی پہنچ گیا ' اس اضافے کو جواز بناتے ہوئے پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا جس سے نہ صرف مہنگائی کا نیا طوفان آ گیا بلکہ بیرونی قرضوں میں 350 ارب روپے کے اضافے کا بوجھ بھی عوام کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیا گیا۔

ڈالر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے لڑکھڑاتے معاشی انفرااسٹرکچر کے ستونوں کو مزید لاغر کر دیا' ایک جانب قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور ان کی ادائیگی کا مسئلہ حکومتی گلے کی ہڈی بن چکا تو دوسری جانب درآمدات میں نامناسب بڑھوتری اور برآمدات میں کمی سے جنم لینے والا تجارتی خسارہ ملکی ترقی کی راہ میں ناصرف رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے بلکہ ہر ترقیاتی منصوبے کی افادیت کو بھی پس منظر میں دھکیل رہا ہے۔

معاشی ماہرین ایک عرصے سے معاشی پالیسیوں کو درست راہ پر چلانے کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے ' وہ موجودہ صورت حال کو الارمنگ قرار دے رہے ہیں' ان کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بیرونی ادائیگیاں اور کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں' ماہانہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں زرمبادلہ کے ذخائر کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں جنھیں کم از کم تین ماہ کی درآمدات کے مساوی رکھنا لازمی امر ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف' ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدوں کے مطابق پاکستان اپنی کرنسی کی قیمت میں بتدریج کمی کرنے پر مجبور ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی معاشی بزرجمہروں نے عوامی اور ملکی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جس سے نہ صرف ملک قرضوں کی دلدل میں مزید دھنستا چلا گیا بلکہ عوام کے معاشی مسائل میں بھی بری طرح اضافہ ہوتا چلا گیا۔

درآمدات و برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق' زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں ہونے والی بتدریج کمی عالمی مارکیٹ میں روپے کی قدر کو غیرمستحکم کر رہی ہے جس نے ملکی معاشی نظام کو مزید کمزور کیا۔ ابھی تک حکومتی معاشی ماہرین کی جانب سے برآمدات میں اضافے اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے کے لیے کوئی پالیسی بھی مرتب نہیں کی گئی جس سے معاشی نظام میں بہتری کی امید بندھتی۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بیرون ملک تجارتی منڈیوں میں پاکستانی زرعی اجناس اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کو شدید چیلنجز درپیش ہیں اور دیگر ممالک ان منڈیوں میں تیزی سے چھا رہے ہیں۔ نگران حکومت نہ تو قرضہ لے سکتی ہے اور نہ ملکی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی معاشی پالیسی تشکیل دے سکتی ہے' یہ حالات تجارتی منڈیوں میں بے یقینی اور گومگو کی کیفیت پیدا کرنے کا محرک بن رہے ہیں۔

نگران حکومت معاشی مسائل کے حل کے لیے بہتر اقدامات نہیں کر سکتی تو اسے ایسے فیصلے بھی نہیں کرنا چاہیے جس سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں جس کا خمیازہ عوام اور آنے والی حکومت کو بھگتنا پڑے۔ بہرحال اب عام انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت کو مشکل معاشی حالات ملیں اور اسے ایسی معاشی پالیسی اختیار کرنی ہوگی جس کے بل بوتے پر ملک معاشی گرداب سے نکل سکے۔