کراچی 15 دنوں کے دوران 8 بم دھماکے 29 افراد ہلاک

قانون نافذکرنیوالے ادارے شہریوں کو پکڑنے میں مصروف،اصل ملزمان گرفت نہ آسکے


Staff Reporter May 06, 2013
8 بم دھماکوں میں ایک بھی دھماکاخود کش نہیں تھا، انٹیلی جنس نظام بری طرح ناکام ہوگیا. فوٹو فائل

KARACHI: روشنیوں کے شہرکراچی آگ و خون میں جل رہاہے لیکن قانون نافذکرنے والے ادارے اپنی کارکردگی دکھانے کی غرض سے بے گناہ افرادکوپکڑ کر ان کے قبضے سے بڑی تعدادمیں اسلحہ ودھماکا خیزموادبرآمد کرنے میں مصروف ہیں۔

پولیس،رینجرز اورسی آئی ڈی کے تمام ترآپریشن ناکام ثابت ہورہے ہیں، یہ اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ15روزکے دوران پولیس ورینجرز نے شہرکے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 536 افرادکوگرفتاروحراست میں لیالیکن انہی15 روز کے دوران دہشت گردوں نے بے خوف وخطر اور انتہائی اطمینان کے ساتھ آسانی سے8بم دھماکے کیے جن میں پیپلزپارٹی،متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں اورہمدردوں سمیت 29 افراداپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے جبکہ سیکڑوں زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،دوسری جانب اسی عرصے میں فائرنگ و پرتشددواقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداداس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

مذکورہ بم دھماکوں میں سے ایک بھی خود کش دھماکانہیں تھا ، تمام دھماکے پلانٹڈتھے لیکن پولیس ورینجرز کی''عقابی نگاہیں ''ان دہشت گردوں کوبم نصب کرتے ہوئے یا بارود سے بھری موٹرسائیکل کھڑی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکیں جس کا خمیازہ معصوم شہریوں کواپنی جان گنوانے اوراملاک کے نقصان کے طور پربھگتنا پڑا،قانون نافذ کرنے والے اداروں کاانٹیلی جنس نظام بری طرح ناکام دکھائی دے رہاہے،پولیس و رینجرز کے علاوہ سی آئی ڈی حکام بھی اپنی کارکردگی دکھانے میں پیش پیش رہتے ہیں،سی آئی ڈی نے زیادہ تر کالعدم تحریک طالبان کے کسی نہ کسی گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد یا مقامی کمانڈر کی ہی گرفتاری ظاہر کی اوران کے قبضے سے اسلحہ،دھماکا خیز مواد ، ڈیٹونیٹر، ٹینس بال بم اور نٹ بولٹ سمیت بم بنانے میں استعمال کیا جانے والا سامان بڑی مقدار میں دکھایا گیا ، ایسے مواقعوں پرپریس کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جاتاہے لیکن جب اتنی بڑی تنظیم کے دہشت گرد اور کمانڈر گرفتار ہورہے ہیں اورپھربھی شہرمیں دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کسی طور پربھی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی جس سے یہ بات صاف ظاہرہوتی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مصنوعی کارروائیوں میں ہی مصروف ہیں،اصل ملزمان یا توان کی نظروں سے اوجھل ہیں یا وہ ان پر ہاتھ ڈالنا ہی نہیں چاہتے۔

اعداد و شمار کے مطابق پولیس و رینجرزنے 20 اپریل کو 98 ملزمان ، 25 اپریل کو سی آئی ڈی نے 4 ملزمان ، 26 اپریل کو رینجرز نے 14 افراد ، 27 اپریل کو پولیس و رینجرز نے 37 ملزمان ، 29 اپریل کو 26 جبکہ سی آئی ڈی نے 3 ملزمان ، 30 اپریل کو پولیس و رینجرز نے 147 ، یکم مئی کو پولیس نے 137 ملزمان ، 2 مئی کو پولیس و رینجرز نے 35 ملزمان ، 3 مئی کو پولیس و رینجرز نے 19 افراد جبکہ سی آئی ڈی نے 5 ملزمان ، 5 مئی کو پولیس و رینجرز نے مشرکہ کارروائی کرتے ہوئے ڈیفنس سے 11 ملزمان گرفتار کیے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام کارروائیوں میں دعویٰ کرتے ہوئے ملزمان کے قبضے سے بڑی تعداد میں کلاشنکوف ، رپیٹر ، رائفلیں ، پستول ، ریوالور ، ہزاروں کارتوس و رائونڈ ، دھماکا خیز مواد ، نٹ بولٹ ، منشیات اور دیگر سامان برآمد کیا۔

دوسری جانب اسی عرصے میں 23 اپریل کو پیپلز چورنگی پر دھماکے میں 3 افرادہلاک اور 22 زخمی ہوئے ،25 اپریل کو نصرت بھٹو کالونی میں متحدہ قومی موومنٹ کے الیکشن آفس کے باہر دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے ، 26 اپریل کومومن آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کے الیکشن آفس کے باہر بم دھماکے میں 11 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ، 28 اپریل کوقصبہ کالونی میں چند منٹ کے وقفے سے2دھماکے میں ہوئے جس میں ایک شخص ہلاک اور 45 افراد زخمی ہوئے ، 28 اپریل کو ہی کلاکوٹ میں پیپلزپارٹی کے تحت منعقدہ کارنرمیٹنگ میں دھماکے سے 4 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ، 2 مئی کوبرنس روڈ پر متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی الکشن آفس سے متصل مسجدمیں دھماکا ہوا جس میں 9 افراد زخمی ہوئے جبکہ 4 مئی کو عزیز آبادمیں متحدہ قومی موومنٹ کے انتخابی دفتر کے قریب یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 3 افرادہلاک اور35زخمی ہوئے۔