محمود آباد اور عزیز آباد بم دھماکوں میں مماثلت ہے پولیس

دھماکے میں تباہ ہونے والی گاڑی کا مالک محمد نفیس تفتیش کیلیے رینجرز کے حوالے، تفتیش میں اہم پیش رفت نہ ہوسکی


Staff Reporter May 10, 2013
پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ گاڑی کا مالک محمد نفیس ولد محمد انیس تاحال حراست میں ہے جس سے پوچھ گچھ کا عمل جاری ہے. فوٹو: راشد اجمیری / ایکسپریس

محمود آباد بم دھماکے کا مقدمہ سر کار کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ۔

ا یس ایچ او بلوچ نصرین الدین شاہ کے مطابق بم دھماکے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 7ATA ، ایکسپلوزو ایکٹ 3/4اور 324 سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، انھوں نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد سیمنٹ کے بلاک میں سرخ رنگ کار کے نیچے نصب کیا تھا، موبائل فون کے ذریعے دھماکا کیا گیا ، بم دھماکے میں 2 سے ڈھائی کلو دھماکا خیز مواد استعمال کیا تھا ۔

جس میں بال بیرنگ اور نٹ بولڈ بھی شامل تھے،بم دھماکا گزشتہ دنوں عزیز آباد ہونے والے بم دھماکے سے مماثلت رکھتا ہے ، انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے کرنے کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا کیونکہ بم دھماکے کے جائے وقوع کے قریب کوئی اہم عمارت یا کسی سیاسی جماعت کا دفتر موجود نہیں تھا۔



انھوں نے بتایا کہ جس مقام پر دھماکا ہوا وہاں سے تقریباً 4 سے ساڑھے4گھنٹے پہلے سیاسی جماعت کی ریلی گزری تھی جبکہ جائے بم دھماکا سے ایک کلو میٹر دور عید گاہ چوک سیاسی جماعت کا جلسہ ہونا تھا جو دھماکے کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں تباہ ہونے والی سرخ رنگ کی گاڑی کے مالک محمد نفیس ولد محمد انیس کلیئرنگ اینڈ فاروڈنگ کا کام کرتا ہے اور پی آئی ڈی سی کے قریب دکان ہے،نفیس نے 6 ماہ قبل ہی اپنے ایک دوست سے83 ماڈل کی اسٹار لیٹ گاڑی 93 ہزار روپے میں خریدی تھی اور مذکورہ گاڑی3 روز سے اس ہی مقام پر کھڑی ہوئی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ گاڑی کا مالک محمد نفیس ولد محمد انیس تاحال حراست میں ہے جس سے پوچھ گچھ کا عمل جاری ہے اور مزید تفتیش کے لیے رینجرز حکام کے حوالے کردیا گیا ہے،بم دھماکے کے انویسٹی گیشن افسر راجہ خالد نے ایکسپریس کو بتایا کہ تاحال کیس کی تفتیش میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی ۔