پولیس نے انتخابات کیلیے گاڑیاں جبراً قبضے میں لینی شروع کردیں

کئی مقامات پر5روز سے گاڑیوں میں سوار مسافروں کو سڑکوں پر اتارا جا رہا ہے.


Staff Reporter May 10, 2013
کئی مقامات پر5روز سے گاڑیوں میں سوار مسافروں کو سڑکوں پر اتارا جا رہا ہے۔ فوٹو عائشہ میر

پولیس کی جانب سے انتخابات کیلیے مال بردار گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو جبری قبضے میں لینے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

شہر اور سپر ہائی وے پر مختلف مقامات پر گاڑیوں میں سوار مسافروں کو سڑکوں پر اتار کر گاڑیاں متعلقہ تھانوں میں لے جانے کا سلسلہ5دنوں سے جاری ہے، کئی مقامات پر گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور پولیس میں تکرار کے بعد پولیس بھاری رشوت لے کر گاڑیوں کو چھوڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، شہریوں نے شہر میں پولیس کی جانب سے گاڑیوں کو جبری طور پر قبضے میں لینے اور ان گاڑیوں کے مالکان سے بھاری رشوت لینے کے واقعات کا آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔



شہر کے مختلف علاقوں اور سپر ہائی وے سے کراچی اور جامشورو پولیس نے انتخابات کے موقع پر پولیس کے اہلکاروں کو مختلف پولنگ اسٹیشنوں اور متعلقہ علاقوں میں پہنچانے کیلیے پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کو پکڑنے کا سلسلہ انتخابات سے5 روز قبل ہی شروع کردیا تھا ، کاٹھور کے مقام پر پولیس نے ایک مقامی اخبار کے شہزور ٹرک کو روک کر ڈرائیور سے زبردستی چھیننے کی کوشش کی تاہم کافی دیر تک سمجھانے کے باوجود ٹرک کے ڈرائیور نے اہلکاروں کو مبینہ طور پر رشوت دیکر اپنی جان چھڑائی، پولیس زبردستی پکڑی جانے والی گاڑیوں میں سوار مسافروں کو بھی سڑکوں پر ہی اتار کر ان گاڑیوں کو تھانوں میں لے جایا جارہا ہے۔