انڈین اولمپک پر پابندی کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا

قائم مقام صدر اور آئی او سی کے بھارتی رکن نے آئندہ ہفتے لوزانے میں انتہائی اہم اجلاس میں شرکت سے انکارکردیا۔


Sports Desk May 10, 2013
قائم مقام صدر اور آئی او سی کے بھارتی رکن نے آئندہ ہفتے لوزانے میں انتہائی اہم اجلاس میں شرکت سے انکارکردیا. فوٹو: وکی پیڈیا

انڈین اولمپک ایسوسی ایشن پر پابندی کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا،قائم مقام صدر وی کے ملہوترا اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے بھارتی رکن رندھیر سنگھ نے آئندہ ہفتے لوزانے میں ہونے والے انتہائی اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس کی وجہ عالمی باڈی کی جانب سے کئی دیگر بھارتی اسپورٹس آفیشلز کو بھی میٹنگ میں دعوت دینا بتائی گئی ہے،بھارت کی اولمپک موومنٹ میں دوبارہ واپسی کے لیے ہونے والے15مئی کے اجلاس سے صرف 6دن قبل دو اہم آفیشلز کی عدم شرکت نے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں، میٹنگ میں اسپورٹس منسٹری کا ایک وفد بھی شرکت کرنے والا تھا۔ ملہوترا اور رندھیر کے بائیکاٹ کا فیصلہ آئی او اسی اعلان کے ایک دن بعد عمل میں آیا، جس میں اس نے پہلے سے جمع کرائی گئی فہرست میں شامل چار ارکان کے ساتھ جنرل سیکریٹری ہاکی انڈیا نریندرا بٹرا اور جھاڑکنڈ اولمپک ایسوسی ایشن کے آر کے آنند کو آئی او اے وفد میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

آئی او سی چیف جیکس روگ کو خط میں ملہوترا نے لکھاکہ میں معطل شدہ آئی او اے کے ساتھ عالمی باڈی کے روابط شروع ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شرکت سے انکار کررہا ہوں، انھوں نے کہا کہ آئی او سی کے لوزانے اجلاس کے اسکرپٹ میں تبدیلی کی وجہ سے میں آپ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ میں نہیں آئوں گا، میں3 مئی 2013 کو لکھا گیا خط بھی واپس لیتا ہوں جس میں وفد کے ناموں کا ذکر کیا گیا تھا۔ ملہوترا نے مشترکہ اجلاس میں چار افراد کا نام بھیجا تھا،ان میں تارلوچن سنگھ، ایس رگوناتھن اور این راما چندرن شامل تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ دیگر ارکان شیڈول کے مطابق اجلاس میں شرکت کریں گے۔



ایک خط میں رندھیر نے بھی آئی او سی کو اجلاس میں شرکت سے معذوری کے بارے میں لکھا،اگرچہ انھوں نے وجہ نہیں بتائی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اجلاس میں بٹرا اور آنند کو بلانے پر ناراض ہیں۔ گذشتہ بدھ کو آئی او سی نے ایک خط میں تصدیق کی تھی کہ مذکورہ دونوں افرادآئی او اے اور وزارت کھیل نمائندوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ گذشتہ دسمبر میں متنازع اسپورٹس کوڈ کے تحت انتخابات کرانے پر آئی او اے کو معطل کرنے کے بعد ملہوترا ہی آئی او سی سے رابطے کا واحد ذریعہ تھے، انھوں نے کہا کہ تنازع حل کرنے کیلیے مجھے ایک چھوٹے وفد کے ساتھ لوزانے بلایا گیا تھا لیکن یہ سازش ہے کہ آئی او سی نے خود ہی نومنتخب لیکن معطل آئی او اے کے سفارش شدہ وفد کے چند نام شامل کرلیے، اس کا مطلب ہے کہ کمیٹی نے اپنی دلیل کو تبدیل اور براہ راست بات چیت کیلیے آئی او اے کے عہدیداران کو تسلیم کرلیا جسے اس نے ہی معطل کیا تھا۔ ملہوترا نے آئی او سی سے کہاکہ ورلڈ باڈی ان تمام خطوطکو بھی واپس لے جوگذشتہ 4 دسمبر کو آئی او اے کی معطلی کے بعد سے مجھے لکھے گئے تھے۔