الیکشن جیتنے کے لیے منفی ہتھکنڈوں کااستعمال دنیابھرمیں ہوتا ہے

عمران زمیں بوس ہوئے تومخالفین کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی، چاہنے والے سسک اٹھے


Net News May 12, 2013
عمران زمیں بوس ہوئے تومخالفین کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی، چاہنے والے سسک اٹھے فوٹو: فائل

پاکستان کے سیاسی افق پر اپنی دیرینہ موجودگی کا اچانک احساس دلانے والے عمران خان جب اپنی ہنگامہ خیز انتخابی مہم کے عروج کے دوران زمیں بوس ہوئے تو گویا بھونچال آگیا۔

دوسری جانب مخالفین کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی تو چاہنے والوں کے سرپر آسمان ٹوٹ پڑا۔ اس حادثے کے بارے میں ملی جلی آرا سامنے آئیں۔ بہرحال، یہ امر مسلمہ ہے کہ دنیامیں جہاں جہاں انتخابات ہوتے ہیں، وہاں جیتنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں نیز کچھ اتفاقات بھی کارفرمارہتے ہیں جو کبھی متعلقہ امیدوار کیلیے نعمت بن جاتے ہیں اور کبھی ملال! انتخابی معرکہ آرائیوں میںمخالف کو زیرکرنے کیلیے منفی اور غیراخلاقی ہتھکنڈوں کا استعمال صرف ہمارے یہاں ہی نہیں ہوتا بلکہ مہذب اور ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک بھی اس حوالے سے ہم سے پیچھے نہیں۔

2012کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے عوام کے سامنے رومنی کو اپنی دنیامیں مگن ایک ایسے بدمزاج دولت مند کے طورپر پیش کیا جو جدیدعورت کو 18ویں صدی میں دھکیل دینا چاہتاتھا۔ اوباما کے حامی بائیں بازو کے میڈیانے بھی اس بدنما خاکے میں خوب رنگ آمیزی کی، اوباما کی آبنوسی رنگت اس پر مستزاد تھی۔ تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کے ووٹرز کو امریکا کے پہلے سیاہ فام صدر کے خواب نے یوں مسحور کیاکہ انھیں اوباما کے آگے رومنی نہایت بدنما لگتا...اس کے باوجود رومنی کی جیت کے آثار نمایاں تھے۔

کیونکہ معیشت زبوںحالی کی بدترین اور بیروزگاری کی شرح بلندترین سطح پر تھی۔ ایسی منفی کارکردگی کے بعد کوئی صدر دوسری مدت کے لیے منتخب نہیں ہوپاتا۔ پھرجب تمام مستند انتخابی پنڈت اور معتبرسروے رومنی کی جیت کااعلان کررہے تھے تو انھیں شکست کیسے ہوئی؟ اس کا جواب ہے، ووٹرزفراڈ! اخبار کولمبس ڈسپیچ کے مطابق اوہایو میں ہر پانچواںووٹر ووٹ ڈالنے کا اہل نہ تھا۔ ریاست کی کم ازکم دوکاؤنٹیز میں ووٹرز کی تعداد، ووٹ ڈالنے کے اہل بالغوں کی تعداد سے کہیں زیادہ تھی۔ ایک کاؤنٹی میں 100قانونی اہل ووٹرز پر 109 رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں۔

اوہایو کی88کاؤنٹیز میں سے31میں ووٹرز رجسٹریشن کا تناسب90فیصد ہے جسے ماہرین انتہائی مشکوک قرار دیتے ہیں۔ اوباما حیرت انگیز طورپر کلیولینڈ کے21اضلاع میں 100فیصد ووٹ لے اڑے۔ اور جن مقامات سے انسپکٹرز کو غیرقانونی انداز میں ہٹایاتھا وہاں سے 99فیصد ووٹ حاصل کرلیے۔ جو کچھ ہوا اور جس طرح ہوا، مٹ رومنی کف اڑانے کے سوا کچھ نہ کرسکے۔ جولائی1996میں جب روس میں انتخابات کی تیاریاں عروج پر تھیں، بورس یلسن کو شکست کا خوف سہمائے دے رہا تھا۔ گرمی میں مسلسل اضافے کے پیش نظر یلسن کو خدشہ تھاکہ گرمی سے بیزار اور سردی کے خوگر اسکے رہائشی حلقے کے باشندے انتخابات والے دن تک وہاں رکنے کی زحمت نہیں کریں گے اور ٹھنڈے علاقوں کو کوچ کر جائیں گے۔ روسی صدر کو ہرقیمت پر یہ عارضی نقل مکانی روکنی تھی۔



یلسن نے اس کا بہت دلچسپ حل نکالا۔ روس میں کوئی پروگرام برازیلین سوپ 'ٹروپیکینکا' سے زیادہ مقبول نہیں ہوا۔ اسے سرکاری نیٹ ورک پر ڈھائی کروڑناظرین نہایت شوق سے دیکھتے ہیں۔ الیکشن قریب آتے ہی اس انوکھے اعلان نے ناظرین کو حیرت ومسرت سے دوچار کردیا کہ ٹروپیکینکا کی3قسطوں پر مشتمل طویل دورانیے کی آخری قسط الیکشن کے دن صبح8بجے سے11بجے کے دوران نشر ہو گی۔ اس اعلان نے گرمی سے پریشان، گھر چھوڑنے کو تیار بیٹھے ووٹرز کے لیے اس کے سوا کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کہ وہ پولنگ ڈے تک گھر میں رک کر اپنے پسندیدہ پروگرام کا انتظار کریں۔ کچھ عرصے بعد31دسمبر1999 کو روسی صدر کے اس اعلان نے سب کو حیران کردیاکہ وہ وزیراعظم ولادیمر پوتن کے حق میں مستعفی ہورہے ہیں۔

اپنی تقریر میں یلسن نے اعتراف کیاکہ انھوں نے جوکچھ کیا، غلط کیا اور معافی مانگتے ہوئے کہاکہ نئی صدی میں داخل ہونے کیلیے روس کوتازہ دم رہنماؤں کی ضرورت ہے۔1980 کے انتخابات میں رونالڈریگن اور جمی کارٹر کے درمیان کانٹے کامقابلہ تھا۔ دونوںکے مابین روایتی مناظرے کی نوبت الیکشن سے ایک ہفتہ قبل آئی۔ اس سلسلے میں جمی کارٹر نے اپنی حکمت عملی یعنی سوالات وجوابات اور اہم نکات ایک نوٹ بک میں درج کر لیے تھے۔ مناظرے سے قبل نوٹ بک کھوگئی اور ریگن کے ہاتھ لگ گئی۔

ریگن نے یہ نوٹ بک استعمال کرنیکا فیصلہ کیااور اس میں درج سوالات وجوابات کی روشنی میں مناظرے کی تیاری کرلی۔ مناظرے میں جمی کارٹر کو یہ بے خبری لے ڈوبی کہ ریگن ان کی حکمت عملی سے پوری طرح واقف ہیں۔ ریگن نے ان کے سوالوں کے جوابات خوب ٹھونک بجاکر اور اپنے مخصوص شگفتہ وبرجستہ انداز میں دیے۔ اس مناظرے نے جمی کارٹر کی شہرت کو تہس نہس کرکے ریگن کو اتنی مقبولیت عطا کی کہ وہ انتخابات جیت گئے۔

مقبول خبریں