عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کی جیت

عام انتخابات 2013کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔


Editorial May 13, 2013
مسلم لیگ (ن) نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں واضح برتری حاصل کر لی ہے. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: عام انتخابات 2013کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ اب یہ بات یقینی ہے کہ وہ مرکز اور پنجاب میں حکومت بنائے گی' وہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ قومی سطح پر تحریک انصاف بھی ایک بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس امر کے امکانات ہیں کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گی۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے اور وہ یہاں کسی دوسری سیاسی جماعت کے سہارے کے بغیر صوبائی حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت کو برقرار رکھا ہے۔ خیبر پختون خوا میں صوبائی سطح پر تحریک انصاف سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔اے این پی کو خیبر پختونخوا میں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا' اس کے سربراہ اسفند یار ولی' مرکزی رہنما غلام احمد بلور' اعظم ہوتی اور میاں افتخار الیکشن ہار گئے۔ ق لیگ بھی کوئی بڑا معرکا مارنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، چوہدری پرویز الٰہی قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب رہے۔اس طرح رخصت ہونے والی مخلوط حکومت میں شریک جماعتیں عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہیں' صرف ایم کیو ایم ہی اپنی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اسے عوام نے اعتماد بخشا ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے انتخابات میں کامیابی کے بعد مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں مبارکباد دینے کے لیے جمع ہونے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بہت گالیاں سنیں' ہمیں بہت برا بھلا کہا گیا مگر میں سب کو معاف کرتا ہوں اور سب کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی دعوت دیتا ہوں۔ میاں محمد نواز شریف کا یہ رویہ انتہائی قابل ستائش ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بھی میاں محمد نواز شریف کا طرز عمل انتہائی مدبرانہ رہا اور انھوں نے اپنے مخالفین کے خلاف سب و شتم کے بجائے اپنی سابق حکومتی کارکردگی اور اپنا مستقبل کا لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے جیتنے کے بعد بھی اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف محاذ آرائی کے نئے در کھولنے کے بجائے انھیں مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی' لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے آؤ میز پر بیٹھو۔

پاکستان کو اس وقت لوڈشیڈنگ' مہنگائی' امن و امان کی روز افزوں بگڑتی صورتحال اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی اوراس کے اتحادی اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے نہ صرف گھریلو زندگی متاثر ہوئی بلکہ تجارتی، صنعتی اور زرعی شعبے کو بھی بحران کا سامنا رہا۔ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اقتصادی شعبے میں انقلابی تبدیلیاں نہ لا سکی ۔ انتخابی مہم کے دوران مختلف حوالوں سے اس پر کرپشن کے الزامات بھی لگتے رہے۔ عدلیہ سے محاذ آرائی نے بھی اس حکومت کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ حکومت کراچی' کوئٹہ اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

بڑھتے ہوئے افراط زر اور پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی نے بھی ملکی معیشت کو شدید ضربیں لگائیں۔ بہتری کے حکومتی دعوؤں کے باوجود ملکی معیشت بحران سے نہ نکل سکی۔ اس تمام صورت حال نے عوام کی سوچ میں تبدیلی پیدا کی۔ پی ٹی آئی نے تبدیلی اور انقلاب کا نعرہ لگایا تو عوام کی ایک بڑی تعداد کا جھکاؤ اس کی جانب ہو گیا۔ مگر پی ٹی آئی مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کے مضبوط قلعے میں شگاف نہ ڈال سکی اورسونامی کی لہریں اس کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس مڑ گئیں۔ چونکہ مسلم لیگ ن کی سابق حکومتوں کی کارکردگی عوام کے سامنے تھی اس لیے انھیں امید تھی کہ مسلم لیگ ن ملک کو اس بحرانی کیفیت سے نکال کر ترقی کے نئے در وا کر سکتی ہے۔ یہی عوامی امید تھی جس نے پیپلز پارٹی کو مرکز' پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مسترد کر دیا ۔ میاں محمد نواز شریف کو ان تمام مشکلات کا بخوبی ادراک ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران سیاسی مخالفین کی جانب سے ہونے والے سب و شتم کے ہر حملے کو یکسر معاف کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دے دی ہے۔ انھوں نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستان کو مشکلات سے نکالیں اور عوام کی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔ نواز شریف نے اپنے اس مثبت رویے سے ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی ایک بڑے لیڈر ہیں اور وہ مستقبل میں محاذ آرائی کے بجائے تمام جماعتوں سے مل کر چلنا چاہتے ہیں تاکہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں اور وہ یکسو ہو کر ان مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں جس کے لیے انھیں مینڈیٹ ملا ہے۔ میاں محمد نواز شریف کے دوستانہ رویے سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ وہ مستقبل میں انتقامی سیاست کے بجائے مفاہمانہ اور لچک دار طریقہ کار اپنائیں گے اور وہ تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ نواز شریف کی جیت کے بعد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انھیں مبارکباد دی اور جواباً میاں محمد نواز شریف نے بھی مولانا فضل الرحمن کو ان کی جیت پر مبارکباد دی۔ اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آ سکتی ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی میاں محمد نواز شریف کو الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ عالمی سطح پر بھی نواز شریف کی جیت کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ٹیلی فون پر نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ بہترین تعلقات کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی فون پر نواز شریف کو مبارکباد دی۔ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور دیگر ممالک کے حکمرانوں نے بھی میاں محمد نواز شریف کو مبارکباد دی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کا موجودہ مفاہمانہ بیان اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے قومی پالیسی بنانے کے خواہاں ہیں۔ مسلم لیگ ن کی متوقع حکومت کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ داخلی محاذ پر دہشت گردی کو کنٹرول کرنا اور معیشت کو سنبھالا دینا ہے' خارجی سطح پر بھارت کے ساتھ تعلقات کو نارمل سطح پر لانا' امریکا اور یورپ کو مطمئن کرنا اور اسلامی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھنا۔ امید ہے کہ نئی حکومت ان چیلنجوں سے بخوبی عہدہ برآہو جائے گی۔