غلط سرکاری پالیسیاں ہر سال سیکڑوں نرسیں ملازمت کے لیے بیرون ممالک چلی جاتی ہیں

پاکستان میں 76ہزار244نرسیں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں،ایک زیر تربیت نرس کوماہانہ 6ہزار روپے اعزازیہ دیاجاتا ہے


Staff Reporter May 13, 2013
نرسوں کو سرکاری ملازمت کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، 8ڈاکٹرو ں پر صرف ایک نرس ہے۔ فوٹو: فائل

دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والا نرسنگ کا شعبہ پاکستان میں پستی کا شکار ہے، 3سال تک سرکاری سطح پرتعلیم وتربیت حاصل کرنے والی نرسوںکو تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی ملازمتیں فراہم نہیں کی جاتیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہرسال سیکڑوں نرسیں ملازمت کیلیے بیرون ممالک کا رخ کرلیتی ہیں جبکہ ان نرسوںکو3 سال تک تعلیم وتربیت صوبائی حکومت فراہم کرتی ہے جوانھیں ماہانہ اعزازیہ بھی ادا کرتی ہے، ایک زیر تربیت نرس کوماہانہ 6ہزار روپے اعزازیہ دیاجاتا ہے جبکہ سرکاری ہاسٹل میں رہائش بھی مفت فراہم کی جاتی ہے اس طرح حکومت کے ایک نرس پر3 سال کے دوران 3لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں اس کے باوجود ان نرسوں کو سرکاری سطح پر ملازمتیں نہیں دی جاتی ہیں ، سرکاری سطح پرتعلیم وتربیت حاصل کرنے والی نرسیں سرکاری ملازمت نہ ملنے پر نجی اسپتالوں میں ملازمت اختیارکرلیتی ہیں اس طرح حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے نقصان کاسامناکرنا پڑرہا ہے۔

جبکہ ان تربیت یافتہ نرسوں کی خدمات دوسرے اسپتالوں کوفراہم کردی جاتی ہیں،اس سے قبل زیرتعلیم نرسوں کاماہانہ اعزازیہ 1500 روپے تھا تاہم حکومت نے ماہانہ اعزازیہ میں اضافہ کرکے 6ہزار روپے کردیا، شعبہ نر سنگ میں ز یرتعلیم طالبات عدم تحفظ کا بھی شکار ہوتی ہیں، مختلف مسائل سے دوچار ہونے کے باوجودبھی اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں، تعلیم وتربیت مکمل کرنے کے باوجود بھی انھیں سرکاری ملازمت کے حصول میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔



زیر تعلیم نرسوں کو تعلیم کے دوران اپنی ڈیوٹیاں بھی اداکرنا پڑتی ہیں اورکسی پرچے میں فیل ہو جانے کی صورت میں ان کا ماہانہ اعزازیہ بھی بندکردیا جاتا ہے لیکن اس دوران ان طالبات سے اسپتالوں میں بدستورڈیوٹیاں لی جاتی ہیں جس کے با عث انھیں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،پاکستان میں 972 بڑے اسپتال، 4842ڈسپنسریاں ، 5374 بنیادی صحت کے مراکز ،909میٹرنٹی اور چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کام کررہے ہیں تمام صحت کے مراکز میں 149201ڈاکٹرز، 10958 ڈینٹسٹ اور 76244نرسیں فرائض انجام دے رہی ہیں جبکہ ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی تعداد 108137 ہے، آبادی کے تناسب سے 1206افراد کے لیے ایک ڈاکٹر، 16426افراد پر ایک ڈینٹسٹ اور 1665افرادکے لیے ایک بسترمختص ہے، اس وقت پاکستان میں 8 ڈاکٹرو ں پر صرف ایک نرس ہے اور حکومت کے پاس کوئی ایسا منصوبہ نہیں جس سے بڑی تعداد میں تربیت یافتہ نرسیں اور پیرامیڈیکل اسٹاف تیار ہو ۔