چیمپئنز ٹرافی پاکستان کو انگلینڈ میں دہری آزمائش کا سامنا

کوئی ٹیم فیورٹ نہیں،پلیئرزنے ذمہ داری نبھائی تو جیت سکتے ہیں (مصباح) سفرکا آغاز فتح سے کرنا چاہتے ہیں(واٹمور).


Sports Reporter May 14, 2013
لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے چیف کوچ ڈیوواٹمور اور کپتان مصباح الحق میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کررہے ہیں۔ فوٹو: ریاض احمد/ایکسپریس

ISLAMABAD: چیمپئنز ٹرافی کے دوران پاکستانی ٹیم کو انگلینڈ میں دہری آزمائش کا سامنا ہوگا، دنیا کی ٹاپ ٹیموں کے خلاف صف آرا ہونے کے ساتھ تنازعات سے بھی خود کو بچانا ہوگا۔

سیکیورٹی آفیسر کے ساتھ ایک 'خفیہ آنکھ' بھی سرگرمیوں پر نظر رکھے گی،کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ 8 ملکی ٹورنامنٹ میں کوئی بھی فیورٹ نہیں، تمام کھلاڑیوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی تو ہم ٹرافی جیت سکتے ہیں، انگلش کنڈیشنز کو خاص طور پر مد نظر رکھتے ہوئے اسکواڈ منتخب کیا،کوچ ڈیو واٹمور نے کہا کہ ہم اپنے سفر کا آغاز ہی فتح سے کرنا چاہتے ہیں، ٹیم متوازن اور انتہائی مضبوط ہے، ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ نے کہا کہ تمام پلیئرز کو خبردار کردیا ہے کہ یہ حساس ٹور ہے، سب سختی سے ڈسپلن پر عملدرآمد کریں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کی لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ سے اسکاٹ لینڈ روانگی پیر اور منگل کی درمیانی شب شیڈول تھی، اسکواڈ کو براستہ دبئی، گلاسگو پہنچنا ہے، منتخب پلیئرز میں مصباح الحق (کپتان)، محمد حفیظ، ناصر جمشید، عمران فرحت، کامران اکمل، عمر امین، اسد شفیق، شعیب ملک، سعید اجمل، عبدالرحمان، وہاب ریاض، جنید خان، محمد عرفان، احسان عادل اور اسد علی شامل ہیں، ٹیم آفیشلز میں چیف کوچ ڈیو واٹمور، فیلڈنگ کوچ جولین فاؤنٹین، منیجر نوید اکرم چیمہ، کرنل وسیم سیکیورٹی منیجر و دیگر شامل ہیں۔ پاکستان کیلیے یہ ٹور خصوصی اہمیت کا حامل ہے، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے ساتھ2،2 ون ڈے میچز کھیلنے کے بعد ٹیم انگلینڈ پہنچے گی یہ وہی ملک ہے جہاں2010 میں اسپاٹ فکسنگ کا ایسا اسکینڈل سامنے آیا جس نے پاکستانی کرکٹ کے درودیوار ہلاکر رکھ دیے تھے۔

اس کے نتیجے میں تین کھلاڑی سلمان بٹ، آصف اور عامر جیل کی ہوا کھانے کے بعد اب بھی پابندی کی سزا بھگت رہے ہیں، اس لیے اس بار پاکستانی ٹیم کو صرف میدان میں مضبوط ترین ٹیموں سے مقابلہ ہی نہیں کرنا بلکہ تنازعات سے بھی بچنا ہوگا، اس سلسلے میں سیکیورٹی آفیسر کے ساتھ اس ٹور میں ایک 'خفیہ آنکھ' بھی کھلاڑیوں پر نظر رکھے گی، اس کام کیلیے ایک خاص فرد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس بارے میں روزنامہ 'ایکسپریس' 13 اپریل کو ہی رپورٹ دے چکا ہے،کھلاڑیوں کو روانگی سے قبل بھی برائیوں سے بچنے کیلیے خصوصی لیکچر دیے گئے۔ پیر کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے بات چیت میں کپتان مصباح الحق نے کہا کہ ایبٹ آباد میں تربیتی کیمپ کے دوران تمام پلیئرزکے اکٹھا ہونے سے بہت فائدہ ہوا، وہاں کا موسم انگلینڈ سے مطابقت رکھتا تھا جس سے ہمیں ٹریننگ کا اچھا موقع ملا۔

 



انھوں نے کہاکہ کیمپ میں فزیکل ٹریننگ کے ساتھ بولنگ اور فیلڈنگ پر کافی زور دیا گیا جس کے اچھے نتائج سامنے آئیںگے، کپتان نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں کسی ٹیم کو فیورٹ قرار نہیں دیا جاسکتا جس نے اچھا پرفارم کیا جیت اسی کا مقدر بنے گی۔ انھوں نے کہا کہ عمر گل کی کمی محسوس ہوگی تاہم جنید خان اور محمد عرفان نے حالیہ دنوں میں اچھا پرفارم کیا اور مجھے امید ہے کہ وہ چیمپئنز ٹرافی میں بھی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انھوں نے کہاکہ اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے خلاف میچز سے کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے گی ، بیٹنگ کوچ کے آنے سے بھی ٹیم کو فائدہ ہوگا جو بھی اچھی بات بتائے وہ ٹیم کیلیے بہتر ہے۔

ایک سوال پر مصباح نے کہاکہ ابتدائی کھلاڑیوں کے جلد آؤٹ ہونے سے مڈل آرڈر پر دباؤ آجاتا ہے اس مسئلے پر ہم نے کافی کام کیا، عبدالرزاق اور شاہد آفریدی کے نہ ہونے سے نوجوان کھلاڑیوں کی ذمہ داری بڑھ گئی تاہم مجھے امید ہے کہ وہ مایوس نہیں کریں گے اور توقعات پر پورا اتریں گے۔کوچ ڈیو واٹمور نے کہا کہ ہم ہمیشہ کسی بھی سیریز یا ٹورنامنٹ میں اپنے سفر کا آغاز کامیابی سے کرنا چاہتے ہیں،چیمپئنز ٹرافی میں بھی اسی کیلیے کوشش کریں گے،انھوں نے کہا کہ ہماری ٹیم کافی متوازن اور مضبوط ہے ہم نے اس ٹورنامنٹ کیلیے اچھی تیاری کی ہے۔ منیجر نوید اکرم چیمہ نے کہاکہ 2010 میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے تناظر میں قومی ٹیم کا دورئہ انگلینڈ نہایت اہمیت کا حامل ہے ،کھلاڑیوں کو کسی بھی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے سختی سے منع کر دیا، خصوصاً نئے کھلاڑیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ توجہ کھیل پر مرکوز رکھیں ۔