شہر میں انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج

بدانتظامی پر دوبارہ انتخاب کا جواز نہیں،درخواست گزار،عدالت نے نوٹس جاری کردیے۔


Staff Reporter May 14, 2013
جعلی ووٹ بھگتائے گئے،بدترین دھاندلی کی گئی،انتخابات متنازع ہوگئے درخواست گزار فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے کراچی میں امکانی طور پر دوبارہ انتخابات روکنے کیلیے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو 20 مئی کیلیے نوٹس جاری کردیے ۔

جبکہ کراچی کی19قومی اور41 صوبائی نشستوں کے انتخابات کاالعدم قرار دینے کی درخواست خارج کردی،دائر درخواستوں کی سماعت جسٹس مقول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی، مولوی اقبال حیدر ایڈووکیٹ نے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن ،صوبائی الیکشن کمشنر اور چیف سیکریٹری کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے این اے 244، این اے 250 سے انتخابات میں حصہ لیا،کراچی کے اکثر حلقوں میں پولنگ کا بروقت آغاز ہوگیا تھا۔



جبکہ این اے250 پر بدانتظامی کی شکایات پر 43 پولنگ اسٹیشنوں پر ری پولنگ کا حکم جاری کیا گیا ہے،بعض جماعتوں نے ٹھوس وجوہات کے بغیر انتخابات کا بائیکاٹ کیا،شہریوں نے ایم کیو ایم کو منتخب کیا، شہر میں دوبارہ انتخابات کے مطالبے کا کوئی جواز نہیں،الیکشن کمیشن کو دوبارہ انتخابات کرانے سے روکا جائے، عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد مدعا علیہان کو 20 مئی کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں،ٖانسانی حقوق کے کارکن اقبال کاظمی نے موقف اختیار کیا کہ کراچی کی 19قومی اور41 صوبائی نشستوں کے 2873 پولنگ اسٹیشنوں پر جعلی ووٹ بھگتائے گئے۔

شہر کے بعض علاقے نوگو ایریا بن گئے تھے،بدترین دھاندلی پر کئی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا، انتخابات متنازع ہوگئے ہیں لہٰذا کالعدم قراردے کر ری پولنگ کرائی جائے،عدالت نے قراردیا کہ انتخابی عمل سے متعلق الیکشن ٹریبونل میں درخواست دائر اور عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت امیدوار انتخابی نتائج کو چیلنج کرسکتا ہے،درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی گئی۔