ورائٹی شو یا عہدِ جدید کی جاہلیت

عقل و خرد کی انتہا کو پہنچے والدین اپنی اولاد کو ظاہراً جدیدیت جبکہ حقیقتاً غلامی کی زنجیروں میں جکڑتے دکهائی دیتے ہیں


حمنہ بخاری August 05, 2018
عقل و خرد کی انتہا کو پہنچے والدین اپنی اولاد کو ظاہراً جدیدیت جبکہ حقیقتاً غلامی کی زنجیروں میں جکڑتے دکهائی دیتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

''ہمارے اسکول میں ورائٹی شو ہے، آپ بھی چلیے میرے ساتھ،'' یہ بات وہ پچهلے کئی دن سے متعدد بار دہرا چکی تهی اور ہر بار میرا جواب نہ میں ہی تها۔

''ارے بهئی! مسئلہ کیا ہے؟''

وہ اپنا ازلی ضدی انداز لیے تمام تیار شدہ دلائل کے ساتھ مجهے راضی کرنے کےدرپے تهی۔ ہار ماننا تو اس نے کبھی سیکها ہی نہ تها۔

لیکن... لیکن مسئلہ ورائٹی شو میں شرکت کا تها۔ بخدا میں نے زمانہ طالب علمی میں بهی کبھی کسی ورائٹی شو میں شرکت نہیں کی۔

''میں آپ کی ٹکٹس لے آئی ہوں، آپ کو ہر صورت میرے ساتھ چلنا ہوگا اور بس! میں کہہ چکی اب...''

میرے لب کهلنے سے پہلے ہی وہ فیصلہ کن انداز میں بولی۔

یوں تو وہ میری شاگردہ تهی مگر عمر میں زیادہ فرق نہ ہونے کے سبب بے تکلفی اس قدر تهی کہ ہمارا تعلق استاد شاگرد سے کہیں زیادہ دوستانہ لگتا۔ پھر کچھ خاندانی دوستی اور محلے داری کا بھرم بھی تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭


''ادهر آئیے، جلدی سے... مجھے آپ کو کچھ دکهانا ہے،'' وہ میرے گهر کے داخلی دروازے پر بنی راہداری میں کھڑی مجھ سے مخاطب ہوئی۔

''اتنی بهی کیا جلدی ہے؟ اندرآجاؤ،'' میں نے کہا۔

''نہیں یار! امی سے نظربچا کر آئی ہوں۔ آپ کو ورائٹی شو کی تصاویر دکهانا تهیں۔''

ہفتے کے روز ورائٹی شو تها اور اتوار کے روز ہی وہ اپنے موبائل فون کے ساتھ میرے گهر پرتهی۔

گهر کا مرکزی دروازہ نیم باز تها... شام کا سورج ڈھل رہا تھا، بے چینی اس کے چہرے پر عیاں تھی۔

''اندر آجاؤ ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔''

''نہیں... ہم یہیں ٹھیک ہیں،'' وہ بے ساختہ بولی۔

میرے بے حد اصرار کے بعد بهی جب وہ اندر نہ آئی تو میں اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی کمرے میں لے آئی۔

ورائٹی شو پر ساتھ نہ جانے سے وہ مجھ سے خفا ضرور تهی۔ مگراس کی خفگی کبھی ایک دن سے زیادہ طویل نہ ہوپائی؛ اور یہی وجہ تھی کہ اس وقت وہ میرے ساتھ میرے کمرے میں تھی۔

وہ پیٹ کی بہت ہلکی تهی سو جب تک مجھے سب کچھ بتا نہ دیتی، چین نہ لیتی تهی۔ وہ اکثر چهٹی کے دن بهی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر میری طرف آجایا کرتی اور اس وقت بھی وہ خاصی بے چین تھی، گویا ایک ہی سانس میں روداد سنانے کا عزم کیے ہوئے تھی۔

''یہ دیکھیے ہماری گروپ فوٹو،'' اس نے موبائل میری طرف بڑهاتے ہوئے کہا۔

تصویر پر ابھی نظر پڑی ہی تھی کہ مجهے میرا وجود شرمندگی سے زمین میں گڑتا ہوا محسوس ہوا۔

وہ تمام سہیلیاں گہرے گلے پہنے (جو کمر کے خدوخال کو واضح کرتے ہوئے ایک چوتهائی کمر کو عریاں کررہے تھے) کھلے بال کندهے پر پهیلائے ہوئے تھیں۔ حدیقہ اور اس کے گروپ کی ہر ساتھی وکٹری کا نشان بنائے پوز دے رہی تهی۔

میری نظریں ابھی تصویر پر ہی تھیں کہ وہ پھر سے گویا ہوئی، ''اور پتا ہے! میں نے ڈانس پرفارمنس بھی کی،'' وہ معصومیت سے سب بتا رہی تھی اور میری آنکهیں نہ ختم ہونے والی حیرت سے اب تک اسی تصویر کو دیکھ رہی تھیں۔ اس نے روداد شروع کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے گروپ کی ''میں ناگن ہوں، میں ناگن ہوں'' گانے پر ڈانس پرفارمنس تهی۔

''لیکن پھر پرفارمنس کے دوران ہم بہت پرجوش ہوگئے اور ہم نے لیٹ کر سانپ کی طرح بل کهاتے ہوئے اسٹیپ کیے، اس لیے ہمارا ڈانس سینسر ہوگیا،'' پھر وہ افسردگی سے کہنے لگی، ''پرنسپل نے ویڈیو بهی ڈیلیٹ کردی اور ڈانٹ بهی بہت پڑی قسم سے۔''

وہ جس انداز میں روداد بتارہی تهی اس میں شرمندگی کا کوئی عنصر شامل نہیں تها، وہ اتنی بڑی بات اتنی بے باکی سے کہہ گئی۔

ایک لمحے کو مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ وہی حدیقہ ہے جس کے معصوم چہرے کو میں نے ہمیشہ بڑے سلیقے سے حجاب میں لپٹے دیکها تھا۔ بڑی سی چمکتی خوبصورت آنکهیں اور گلابی رنگت لیے وہ چہرہ، جب حجاب کے حصار میں محصور ہوتا تو حیا و خوبصورتی کا بہترین امتزاج محسوس ہوتا۔ اب بهی وہ میرے سامنے حجاب اوڑهے بیٹهی تهی مگر وہ چہرہ اب میرے لیے معصومیت و جاذبیت کهو چکا تها کیونکہ حیا سے جهکی نگاہوں کو اب زمانے کی نظر سے نظر ملانا آچکا تها۔

حدیقہ پچهلے چار سال سے میرے پاس ٹیوشن پڑھ رہی تهی۔ اس کے گهر کا ماحول ذرا کهلا تها۔ ٹاپ جینز پہننا تو اس کےلیےمعمولی سی بات تهی۔ مگراتنی بے باکی سے گفتگو کرتے ہوئے میں اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ آج وہ اپنے کارنامے پر بے حد مسرور تهی، ورنہ بارہا کیپری سے نیم باز ہوتی ٹانگوں پر اشارے سے متوجہ کرنے پر بهی وہ کیپری کو نیچے سرکا کر ستر پورا کرنے کی کوشش کرتی۔

مجهے اس کی ڈانس پرفارمنس کی روداد سن کر بڑا دهچکا لگا۔

حیرت بهی شاید حیرت کے پیمانے کو چهوتے ہوئے آگے بڑھ گئی تهی، کیونکہ میں چار سال کی رفاقت میں اس بے باک رائے کا کہیں ہلکا سا عکس بهی محسوس نہیں کرپائی تهی۔

''کہاں کهو گئیں آپ؟'' حدیقہ نے موبائل فون ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔

''ن ن نہیں... کہیں نہیں!'' میں نے چونکتے ہوئے کہا۔

''تو پهر بتائیے کیسی لگیں ہماری تصاویر؟'' داد طلب لہجے میں اس نے پوچها۔

میں نے جواباً شکوہ بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکها تو وہ بن کہے میرا جواب سمجهتے ہوئے اٹھ کهڑی ہوئی۔ میں مناسب الفاظ میں مذمت بیان کرنا چاہتی تهی مگر اسی اثنا میں اپنے آنسو صاف کرتی وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔

حدیقہ تو جاچکی تھی مگر میں گہری سوچ میں ڈوب گئی کہ ہماری نوجوان نسل کےلیے کیسا دوہرا تعلیمی معیار ترتیب دیا گیا ہے کہ جس میں دعوے تو اسلامی و جدید عصری علوم سے آراستہ کرنے کے کیے جاتے ہیں مگر حقیقتاً نوجوان نسل کو جاہلیت کے رنگ سے آراستہ و پیراستہ کیا جارہا ہے۔

اس دہریت والے دوہرے معیار سے صرف ایک حدیقہ ہی متاثر نہیں بلکہ پاکستانی معاشرے میں اس دہریت کو تفریح کے نام پر دینی تعلیمات میں اس خوبصورتی کے ساتھ ضم کیا گیا ہے کہ نوجوان نسل اسے اپنی روایات کا پرت محسوس کرتی ہے۔

شادی بیاہ، اسکول فنکشن، خاندانی تقاریب غرض خوشی کے ہر موقعے پر اسلامی رسوم و رواج کو پس پشت ڈال کر ایک الگ ہی رنگ کی تہذیب سجائی جاتی ہے۔ اس تہذیب کا عکس چودہ سو سال پہلے کے معاشرے کا عکاس ہے۔

اسی تہذیب کا خاصّہ تها کہ غلاموں سے ستر پوشی کا بنیادی حق تک چهین لیا گیا تها؛ اور یہی غلام مجبور پسا ہوا طبقہ شراب نوشی کے نشے میں مست ہوئے سرداران قریش کے لیے رقص و سرود کی محافل سجاتا تها۔

اسی کلچرکی تردید کے لیے قرآن عظیم کی واضح آیت موجود ہے کہ:
(ترجمہ:) ''اور (رحمان کے بندے) وہ ہیں جو ناحق کاموں (الزُّوْرَ) میں شامل نہیں ہوتے اور جب کسی لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔'' (سورۃ الفرقان، آیت 72)

اس آیت کے اصل عربی متن میں میں ''الزُّوْرَ'' کا لفظ لغویات (بیہودہ باتوں، ناحق کاموں) کےلیے استعمال ہوا ہے۔ رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کا مطلب مشرکین کے میلے ٹهیلے و تہوار لیا ہے جب کہ مفسر القرآن حضرت عبداللہ بن مسعود کے نزدیک الزُّوْرَ کا مطلب موسیقی اور گانا بجانا ہے۔ عصر حاضرکی روایات کو مدنظر رکهتے ہوئے تفسیر ماجدی میں مزید تشریح کرتے ہوئے مفسر نے آج کل کے سینما، تهیٹر، میلے، تہوار سب کو الزُّوْرَ میں شامل فرمایا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عربوں پر تو زمانہ جاہلیت کے جاہلانہ رسوم و رواج کا رنگ چڑها تها جسے محمد عربیﷺ کے تربیتی مراحل نے رنگ کاٹ کر، اذیت طلب مراحل سے گزار کر، ماڈرن اور تہذیب یافتہ قوم بنا دیا تها۔ مگر دور حاضر میں جدیدیت و لبرل ازم، جو جاہلیت کے متبادل نام ہیں، انہیں فروغ دینے والا کون ہے؟

کیا یہ دین دار طبقہ ہے، جو اپنے علم سے عوام الناس کو فیض یاب کرنا نہیں چاہتا؟ یا وہ ماں باپ ہیں جو خود بهی قرآن کی رسماً تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اولاد کو بهی رسمی تعلیمات تک محدود رکهتے ہیں؟ یا اس کا ذمہ دار وہ میڈیا ہے جس کے مارننگ شوز، ڈرامے، فلمیں دن رات اسی تہذیب کا پرچار کرنے میں مصروف عمل ہیں؟ یا اس کا قصور وار وہ تعلیمی نظام ہے جسے ہمارے آباء نے اسلامی خطوط پر استوار کرنے کا سوچا تو تھا مگر بدقسمتی سے اسلامی نظام کے قیام کی طرح تعلیمی نظام کا قیام بهی عوام کی ناقص رائے کے سبب ستر سال سے ناقابل نفاذ ہے۔ یا پهر قصور وار اسکول کی وہ انتظامیہ ہے جس کے دعوے تو بلند بانگ مگر عمل ناقص ہے۔

اگر میں اپنی عاجزانہ رائے کا بے لاگ اظہار کروں تو میرے نزدیک چاروں محرکات ہی لبرل ازم (جدید جاہلیت) کے پرچار میں برابر کے شریک ہیں۔

جانے عقل و شعور کی وہ کون سی سطح ہے جس کے اوجِ کمال تک پہنچ کر والدین خود اولاد کو نیم برہنہ لباس میں ملبوس کرکے رقص و سرود کےلیے پیش کرتے ہیں؟ سب سے قابل رحم عمل تو یہ ہے کہ خود مائیں اپنی بیٹیوں کےلیے نامناسب لباس منتخب کرتی ہیں۔ یہ نام نہاد جدید تہذیب کے مقلد والدین بڑے فخر سے مداحوں کو بتاتے ہیں کہ میوزک کی لے پر رقص کرنے والی ان کی اپنی صاحبزادی یا صاحبزادہ ہے۔ یہی عقل و خرد کی انتہا کو پہنچے والدین اپنی اولاد کو ظاہراً جدیدیت جبکہ حقیقتاً غلامی کی زنجیروں میں جکڑتے دکهائی دیتے ہیں۔

وہ غلامی جو جذبات کی غلامی ہے، ابلیسی چالوں کی غلامی ہے، جو رفتہ رفتہ نوجوان طبقے کو ہوس کی دلدل میں دهنساتی چلی جاتی ہے، تب اس گندگی کے لتهڑے ڈهیر سے نابالغ لڑکیاں بن بیاہی مائیں بنتی ہیں اور اسی کے نتیجے میں کتنی ہی زینب کچرے کے ڈهیر میں بربریت کاشکار ہونے کے بعد مردہ حالت میں پائی جاتی ہیں۔

سچ کہوں تو زینب کی لاش کسی نفس کی لاش نہیں، یہ غیرت ایمانی کی لاش تهی جو ہم میں سے ہر فرد کے کندهے پر لدی ہے۔ کچھ نے تو اسے دفنا دیا مگر کچھ لوگ اسی لاش کو اٹهائے ماتم و گریہ زاری میں مصروف ہیں۔

زیر بحث موضوع سے مزید ایک سوال جنم لیتا ہے کہ نوجوان نسل ہی اس تہذیب سے کیوں سب سے زیادہ متاثر ہے؟ تو اس کا جواب نہایت سادہ و آسان ہے: جوانی ہی عمر کا ایسا حساس دور ہے جس میں رنگینیاں عقل و شعور پر چها جاتی ہیں۔ نت نئی ایجادات و اختراعات کے بے جا استعمال اور والدین کی عدم توجہی نے عیاشی و تفریح کےلیے یوں بهی کئی اسباب فراہم کردیئے ہیں۔ موبائل، انٹرنیٹ، کیبل، فلمیں، سینما اور اب تو تعلیمی اداروں میں فن فئیر، اینول پرائز ڈسٹری بیوشن جیسی کی تقاریب بهی معمول کا حصہ بنتی جارہی ہیں، جن کے سبب خواب سے حقیقت تک کا سفر نہایت آسان و قابل رسا ہوگیا ہے۔ حیرت ہے کہ تعلیمی ادارے تفریح کے لیبل میں آتش دوزخ بهڑکانے کے کُل اسباب بهی مہیا کرتے ہیں اور نسل کی بے راہ روی کا رونا بهی روتے ہیں۔

مگر چشم کشا حقیقت تو یہ ہے کہ ڈانس کلچر کی تشہیر کے بعد آپ جتنے چاہے بند باندھ لیجیے، یہ ہوس کا طوفان ہر بند کو توڑنے کی ناقابل یقین صلاحیت رکهتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اسٹیج پر لیلی مجنوں کی الف لیلوی داستان ڈرامائی انداز میں پیش بھی کی جائے اور توقع رکهی جائے کہ نوجوانوں کا کردار حضرت یوسف جیسا ہوگا۔

اس کی تمثیل تو یوں ہوئی کہ پیٹرول پر جلتی تیلی ڈال کر توقع کی جائے کہ آگ نہیں لگےگی۔ پهر یہ آگ لگتی ہے، اور بلاشبہ لگتی ہے، جو اردگرد کے ماحول کو بهی جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔

میں نے بحیثیت استاد جب تعلیمی ادارے میں ڈانس گانے کے کلچر پر بین لگانے کی بات کی تو انتظامیہ نے بلاکم و کاست و شک و شبہ اس کلچر کے نقصانات کو تسلیم کیا۔ لیکن چونکہ عوام کی کثیر تعداد، بشمول انتظامیہ، ڈانس گانے کے بغیر تفریح کے تصور کو ادهورا اور بے معنی سمجهتی لہذا اس کلچر کو اپنی مجبوری قرار دیتے ہوئے کبوتر کی طرح آنکهیں بند کرلینے کو ہی علاج آخر سمجهتی ہے۔

آخر مضمرات تسلیم کرلینے کے باوجود عملی اقدامات سے گریز کرنے والے باشعور طبقے کو عملی جہد میں اتارنے کی کیا ترکیب ہو سکتی ہے؟

یہ اور ایسی بہت سی گہری سوچیں میرے دل کو مزید بوجهل کرگئیں۔ شام کا سورج ڈھل چکا تھا، مغرب کی اذان شروع ہوئی، پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ چکے تھے، اندھیرا چھانے لگا۔ میں نے روٹھی حدیقہ کو منانے کا عزم کیا اور مضطرب دل کے ساته جائے نماز تهام لی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔