لندن اولمپکس اختتامی تقریب ڈسکوپارٹی میں بدل گئی

برطانوی موسیقی کے 50 برسوں کا احاطہ کیاگیا،4100 افراد نے پرفارم کیا


Sports Desk August 14, 2012
برطانوی موسیقی کے 50 برسوں کا احاطہ کیاگیا،4100 افراد نے پرفارم کیا. فوٹو: اے ایف پی

کھیلوں کا عالمی میلہ لندن اولمپکس اتوار کی شب اختتام پذیر ہوگیا، افتتاح کی طرح گیمز کی اختتامی تقریب میں شائقین اور ناظرین کی آنکھوں کو چکاچوند کرنے کا سامان ثابت ہوئی، مشرقی لندن میں واقع اولمپک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والی رنگارنگ تقریب میں اولمپکس کا پرچم اور علامتی بیٹن2016 کے اولمپکس کے میزبان برازیلی شہر ریو ڈی جنیرو کے حکام کو سونپ دیا گیا، تقریب کا اختتام اولمپکس مشعل بجھا کر کیا گیا۔

لندن اولمپکس کی مشعل جن دو سو چار پتیوں کو جوڑ کر بنائی گئی تھی انھیں تقریب کے اختتام پر ان مقابلوں میں شریک ممالک میں تقسیم کردیاگیا،30ویں اولمپک میں مجموعی طور پر 203 تمغوں کے لیے 10 ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا، اختتامی تقریب کا آغاز برطانوی وقت کے مطابق رات 9 بجے ( پاکستانی وقت اتوار کی شب ایک بجے ) ہوا،

تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں چار ہزار ایک سو افراد اپنے فن کا مظاہرہ کیا،تقریب کا مرکزی خیال برطانوی موسیقی کے 50 سال تھا اور اس میں برطانوی پاپ گروپ اسپائس گرلز کے علاوہ گلوکار جارج مائیکل سمیت برطانوی دنیائے موسیقی کے بڑے بڑے ناموں نے اپنی آوازوں کا جادو جگایا، تقریب کے آرٹسٹک ڈائریکٹر کم گیون کا کہنا ہے کہ یہ تقریب فنون لطیفہ میں برطانوی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاس تھی۔تقریب کا آغاز بگ بین کا گھڑیال بجنے سے ہوا جس کے بعد برطانوی پرچم پر لندن شہر کا منظر پیش کیا گیا،آغاز میں بینڈ بجا کر برطانوی شہزادہ ہیری کی آمد کا اعلان کیا گیا جو اس تقریب میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔

شہزادہ ہیری کے ساتھ عالمی اولمپک کمیٹی کے صدر جیکس روگ بھی اسٹیڈیم میں آئے،تمام 204 ممالک ممالک کے پرچم برداروں کے ساتھ ان ممالک کے ایتھلیٹ مارچ پاسٹ کرنے کی بجائے گروہوں کی شکل میں اسٹیڈیم میں داخل ہوئے،اولمپکس 2016 کا پرچم ریو ڈی جینریو کے میئر ایڈورڈ ڈوپیئس کے سپرد کیاگیا، اختتامی تقریب میں برطانیہ کا پرچم لانے کا اعزاز لندن اولمپکس میں اپنا چوتھا اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے کشتی ران بین اینسلی کو ملا،اسٹیڈیم میں موجود 80 ہزار افراد کے علاوہ ٹی وی اسکرین پر کروڑوں ناظرین نے تقریب کو براہ راست دیکھا،

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لندن اولمپکس کے نگران لارڈ سباستین کوئے نے کہا کہ جب ہمارا وقت آیا تو ہم نے سب کچھ بالکل صحیح کر دکھایا، مشعل بجھائے جانے سے قبل اس سے ایک آتشی مشینی پرندہ نمودار ہوا جس نے اسٹیڈیم کا چکر لگایا،سب سے آخر میں آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا جس نے سارے علاقے کو بقعہ نور بنا دیا۔