کورنگی کا رہائشی لڑکا نگلیریا میں مبتلا 11افراد میں ڈنگی وائرس کی تصدیق

عدیل کو وینٹی لیٹر پرمنتقل کردیا گیا ہے جہاں ماہرین اس کی جان بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔


Staff Reporter May 17, 2013
آلودہ پانی میں یہ بیکٹریا پرورش پاتا ہے جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوکر دماغ کے مرکزی حصے کو شدید متاثرکردیتا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ڈنگی وائرس کے ساتھ ساتھ نگلیریا کا پہلا کیس بھی سامنے آگیا۔

کورنگی کے رہائشی لڑکے میں نگلیریا کے مرض کی تصدیق ای ڈی او ہیلتھ کراچی نے کی،تفصیلات کے مطابق آلودہ پانی سے 14سالہ عدیل کو تیز بخار میں لیاقت نیشنل اسپتال لایا گیا تھا جہاں طبی ٹیسٹوں میں انکشاف ہوا کہ عدیل نگلیریا بیکٹریا کا شکارہے، ہائی گریڈ فیور کیساتھ مریض کودیگر پیچیدگیوں کا بھی سامنا ہے۔

عدیل بلال مسجد یوسی7 کورنگی کا رہائشی ہے، ڈاکٹروں نے مرض کی تصدیق کرتے ہوئے اہلخانہ کو مطلع کردیا، لیاقت نیشنل اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق عدیل کو وینٹی لیٹر پرمنتقل کردیا گیا ہے جہاں ماہرین اس کی جان بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر امداد اللہ صدیقی نے بتایا کہ مریض کی حالت تشویشناک ہے، کراچی میں گزشتہ سال لیاقت نیشنل اسپتال میں نگلیریا جراثیم سے متاثرہ ایک درجن سے زائد افراد داخل ہوئے تھے جس میں 8 مریض زندگی کی بازی ہار گئے تھے، ماہرین طب کے مطابق نگلیریا کا جرثومہ آلودہ پانی میں ہوتا ہے۔



یہ جرثومہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار ڈالنے سے مرجا تا ہے تاہم آلودہ پانی میں یہ بیکٹریا پرورش پاتا ہے جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوکر دماغ کے مرکزی حصے کو شدید متاثرکردیتا ہے اور مریض کوتیزبخار میں مبتلا کرکے مزید پیچیدگیوں میں مبتلا کردیتا ہے، اس مرض کی علامات تیز بخار، شدید سردرد بھی ہوتا ہے جبکہ انسانی جسم میں خون جمانے والے اجزا پلیٹ لیٹ کی شدید کمی واقع ہوجاتی ہے، نگلیریا کے باعث مریض کی موت 2 ہفتوں میں واقع ہوجاتی ہے،محکمہ صحت کی جانب سے نگلیریاجراثیم کے خاتمے کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزاور انفیکشن کنٹرول سوسائٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رفیق خانانی نے بتایا کہ نگلیریاکے مرض سے محفوظ رہنے کے لیے آلودہ پانی والے سوئمنگ پولز میں جانے سے گریزکیاجائے اوروضو کیلیے صاف پانی کا استعمال کیاجائے ،انھوں نے کہاکہ نگلیریا آلودہ پانی میں شامل ہوتا ہے جو ناک کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے جس کی وجہ سے یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے لہٰذاگھروں میں پانی کی لائنوںکوبھی صاف کرانا چاہیے تاکہ اس مرض سے محفوظ رہا جاسکے ،علاوہ ازیں کراچی میں ڈنگی وائرس کی شدت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

مختلف علاقوں سے مزید11مریضوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق کی گئی جس کے بعد ڈنگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد113 ہوگئی،ماہرین کے مطابق کراچی میں ڈنگی وائرس سے متاثرہ افراد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ایک تشویشناک بات ہے جبکہ گرمیوں میں بارش کے دوران وائرس وبائی صورت اختیارکرسکتا ہے،ماہرین نے بلدیہ عظمیٰ سے اپیل کی ہے کہ ڈنگی وائرس سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلیے ہنگامی بنیادوں پر جراثیم کش دواؤں کا اسپرے کرایا جائے۔