پولیس کی روایتی بے حسی دہشت گرد چوری اور چھینی گئی گاڑیاں دھماکوں میں استعمال کرنے لگے

گاڑی چوری کی ایف آئی آردرج نہیں کی جاتی ،شہری مہینوں انتظار کرنے پر مجبور،پولیس ’’15‘‘پر انٹری چلاکر جان چھڑانے لگی


Staff Reporter May 17, 2013
قائد آباد دھماکے میں استعمال رکشے کی ایف آئی آردرج کرلی جاتی تو اندوہناک واقعہ رک سکتا تھا،پولیس سنگین غفلت کی مرتکب ہوئی فوٹو: فائل

NEW YORK: پولیس شہر میں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں اور چوری شدہ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی فوری ایف آئی آر کے اندراج اور ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی میں تاخیر کرکے دہشت گردوں کو بم دھماکے اور دیگر کارروائیوں کے لیے کھلا میدان چھوڑ دیتی ہے۔

شہر قائد میں گزشتہ دنوں کیے جانے والے بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں کی تحقیق پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس شہر میں روزانہ کی بنیاد پر اسلحے کے روز پر چھینی چوری کی جانے والی موٹر سائیکلوں اورگاڑیوں کی نہ صرف فوری طور ایف آئی آر درج نہیں کرتی بلکہ چھینی اور چوری کی گئی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی تلاش اور ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے کسی قسم کی کارروائی نہیں بھی نہیں کرتی جب گاڑی چھیننے یا چوری کی واردات ہوتی ہے تو پولیس مدگار 15کے ذریعے پیغام نشر کرکے وائر لیس پر انٹری چلادیتی ہے۔

جس کے بعد اینٹی کارلفٹنگ سیل،سی پی ایل سی،پولیس کے تحقیقاتی شعبوں،تمام تھانوں،گشتی پولیس کوگاڑی یا موٹر سائیکل چھینے جانے یا چوری ہونے کا پیغام موصول ہو جاتا ہے، تاہم پولیس روایتی تساہل سے کام لیتے ہوئے کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھاتی ،جس پر دہشت گرد شہر کی شاہراہوں سے محفوظ طریقے سے گزرتے ہوئے اس گاڑی یا موٹر سائیکل کو اپنے مذموم مقاصد کیلیے باآسانی استعمال کرلیتے ہیں اور پولیس بے خبر رہتی ہے ،پولیس چھینی یا چوری کی گئی گاڑیوں کی ایف آئی آر تک درج نہیں کرتی،اکثر گاڑی کے مالکان کو دو چار روز انتظار کا کہا جاتا ہے اور یہ انتظار ہفتوں اور مہینوں تک پہنچ جاتا ہے۔



لیکن ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہوتا اس کی تازہ مثال قائد آباد بم دھماکے میں استعمال ہونے والے رکشا کی ہے جو5 مئی کو پیر آباد تھانے کی حدود میانوالی کالونی سے اسلحے کے زور پر چھینا گیا تھا، پیر آباد پولیس نے سنگین غفلت برتتے ہوئے رکشا چھینے جانے کی آیف آئی آر درج نہیں کی جس کا فائدہ دہشت گردوں نے اٹھایا اور الیکشن کے دن 11 مئی کو بم دھماکا کرکے قیمتی جانیں ضائع کردیں، اگر پولیس اس رکشے کی سرکردگی سے تلاش کرتی تو بم دھماکے کے ملزمان تک پہنچ سکتی تھی ۔

لیکن پولیس کی روایتی بے حسی کے باعث ایسا نہ ہوسکا اور دائود چالی کے قریب بم دھماکے کا اندوہنا ک واقعہ ہوگیا ،واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے پے درپے بم دھماکوں میں استعمال ہونیوالی چوری اور چھینی گئی گاڑیوں کی تحقیق میں پولیس نے کوئی خاص سنجیدگی نہیں دکھائی ہے جس سے درجنوں شہری پولیس کی روایتی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں،تحقیقی ادارے اور اعلیٰ پولیس افسران اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں چوری اور چھینی گئی گاڑیاں استعمال ہورہی ہیں لیکن نہ تھانہ جات کی سطح پر پولیس اور نہ ہی اعلیٰ افسران روایتی بے حسی کی اس روش کو ترک کرنے کو تیار ہیں جس کا خمیازہ شہریوں کو اپنی جانیں دیکر بھگتنا پڑرہا ہے۔