نصف شہر میں پانی کا بحران لاکھوں مکین پریشان

شہر کے مختلف علاقوں مین پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم وچوری سے بحران بدترہوگیا۔


Staff Reporter August 28, 2018
بلک لائنوں سے پانی چوری کرکے غیرقانونی ہائیڈرینٹس کودیاجاتاہے،ٹینکرمافیاچوری کا پانی ہی شہریوں کومہنگابیچنے لگی۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی کی آدھی آبادی کو 15 روز سے پا نی کی فر اہمی بند ہے جب کہ مختلف علاقوں میں پانی نایاب ہوگیا۔

کراچی میں پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم اور چوری کے باعث قلت آب کا بدترین بحران جاری ہے، شہر کے 40 فیصد سے زائد علاقوں میں 2 ہفتے سے پانی کی فر اہمی شدید متاثرہے،پانی کی عدم فراہمی کے باعث مختلف شہری علاقوں میں مکین احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

ادارہ فراہمی و نکاسی آب کراچی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ واٹر بورڈ کے محکمہ بلک کے افسران کی پانی چور اور ٹینکر مافیا سے ملی بھگت سے شہر میں پانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے قلت آب کا بحران پیدا ہوا ہے، گلشن اقبال،کورنگی،گلستان جوہر، بفرزون ، اورنگی ٹاؤن، ملیر، شاہ فیصل کالونی، سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، بلدیہ ٹاؤن،کیماڑی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ محکمہ بلک کے افسران شہر میں قائم غیرقانونی ہائیڈرینٹس کو پانی فراہم کررہے ہیں، گلشن اقبال، ماڑی پور، حب ریور روڈ، اتحاد ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں قائم غیرقانونی ہائیڈرینٹس کو فراہمی آب کی مرکزی بلک لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہا ہے بعدازاں اس پانی چوری کیے گئے پانی کو ٹینکرمافیا مہنگے داموں کھلے عام بیچ رہی ہے۔

کراچی میں یومیہ 4 سے 5 کروڑ گیلن پانی چوری کیا جارہا ہے ، پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم اور چوری سے شہر میں پانی کی فراہمی کا ناغہ نظام اور فری واٹر ٹینکر سروس کا نظام درہم برہم ہے۔ جن علاقوں میں اب تک پانی کی فراہمی جاری تھی وہاں بھی پانی کا بحران شروع ہوگیا ہے ، شہری اپنے حصے کا پانی چوری کرنے والے پانی چور مافیا اور واٹر ٹینکر مافیا سے خریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

قلت آب سے پریشان شہریوں نے نومنتخب وزیر بلدیات سندھ سعید غنی سے اپیل کی ہے کہ واٹر بورڈ کے جو اعلیٰ افسران پانی چوری میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور قلت آب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی معمول پر لائی جائے۔