نہ گھر محفوظ نہ گلیاں لٹیروں نے ایک اور بنگلہ لوٹ لیا

ڈیفنس میں 3 ڈاکوؤں نے بنگلے کے اہلخانہ کو یرغمال بنا کرزیورات، ہیرے کی انگوٹھیاں،رقم ،لیپ ٹاپ اورسامان سے محروم کردیاْ


Staff Reporter August 31, 2018
ایف بی ایریا، گلشن حدید، راشد منہاس روڈ،ناظم آباد،گلشن اقبال اورگلستان جوہر،نارتھ کراچی میں اسٹریٹ کرائمزکی روزانہ وارداتیں۔ فوٹو: فائل

شہرکے پوش علاقوں میں گھروں میں ڈکیتیوں کی وارداتیں نہ رک سکیں، ڈیفنس فیز 6 میں3 ڈاکوؤں نے بنگلے میں داخل ہونے کے بعد اہلخانہ کو یرغمال بنالیا اور بنگلے کا صفایا کردیا۔

درخشاں تھانے کے علاقے ڈیفنس 6 خیابان راحت اسٹریٹ نمبر 9 میں دن دہاڑے3 ڈاکو بنگلہ نمبر 31/1/1 میں داخل ہوئے اور چوکیدارکو قابو پانے کے بعد بنگلے میں داخل ہوگئے اورڈاکو نے بنگلے میں موجود اہلخانہ کو بھی پر یرغمال بنا لیا اور ایک گھنٹے تک بنگلے میں موجود رہے اور لوٹ مار کرتے رہے جس کے بعد ڈاکو لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات ، ہیرے کی انگوٹھیاں ،پرائز بانڈ، نقدی ، 2 لیپ ٹاپ اور دستی گھڑیاں سمیت قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے اور بنگلے سے شواہد اکٹھا کرکے تفتیش شروع کردی ، بعد ازاں بنگلے میں ڈکیتی کا مقدمہ بنگلے کے مالک فضل عمرگوڈیل ولد کریم گوڈیل کی مدعیت میں نامعلوم ڈکیتوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

درخشاں پولیس نے بتایا کہ جس بنگلے میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے۔ وہ بنگلہ کسی کاروباری شخصیت کی ملکیت ہے اور پولیس کو بنگلے میں ڈکیتی کی واردات کی اطلاع کئی گھنٹے تاخیر سے دی گئی،انھوں نے بتایا کہ بنگلے میں ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکو 59 لاکھ روپے کے مالیت کے طلائی ہیرے کی انگوٹھیاں ، نقدی، پرائزبانڈ، لیپ ٹاپ اور دستی گھڑیاں لوٹ کرفرار ہوئے ہیں، ڈاکوؤں کو گھروالوں کے نام تک معلوم تھے جس سے اندازہ ہوتا ہے واردات میں کوئی جاننے والا ملوث ہے، پولیس کے مطابق اہلخانہ کی جانب سے گھریلو ملازموں کا شک کا اظہار کیا گیا جس پر پولیس نے 6 افراد کو حراست میں لیکر پوچھ گچھ شروع کردی۔

ایس ایس پی ساؤتھ عمر شاہد کا کہنا ہے کہ پولیس کو بنگلے میں ڈکیتی کی واردات کے حوالے سے اہم معلومات ملی ہیں جن پر پولیس کام کررہی ہے اور امید ہے پولیس جلد ملزمان تک پہنچ جائے گی۔

واضح رہے کہ ایکسپریس نیوز پوش علاقوں میں گھروں میں ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمزکی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی نشاندہی کرچکا ہے۔

گزشتہ دنوں ریٹائرڈ پولیس افسرسمیت متعدد گھروں میں ڈکیتی کی وارداتیں رونما ہو چکی ہیں۔ روشنیوں کے شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتیوں کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے یومیہ درجنوں شہری مسلح لیٹروںکے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔

شہر قائد کا کوئی ایسا علاقہ نہیں بچا جہاں مسلح لٹیروںنے کوئی واردات نہ کی ہو،مسلح لٹیریاہم مارکیٹوں، بازاروں، گلیوں اور چوہراہوں کے ساتھ ساتھ دکانوں دفاتروںمیں بھی دیدہ دلیری سے لوٹ مار کررہے ہیں لیکن انھیں رنگے ہاتھوں پکڑنے والا کوئی نہیں شہر میں بڑھتی ہوئی وارادتوں کے باعث عام شہری گھروں سے نکلتے ہوئے خوف کا شکارہونے لگے ہیں۔

پولیس حکام کی جانب سے شہرکے54 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں رو نما ہو رہی ہیں جہاں پولیس کے کڑے پہرے کے باوجود واداتوں میں کمی نہ آسکی ہے ،گزشتہ روز گلشن حدید،راشد منہاس روڈ، ناظم آباد اور گلستان جوہر میں اسٹریٹ کرائم کی فوٹیجز بھی منظرعام پرآگئیں ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح لٹیرے اطمینان سے عام شہریوں سے راہ چلتے،دفاتروں اور دکانوں میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔

گلشن حدید میں موبائل فونز شاپ میں اس سے قبل بھی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں،راشد منہاس روڈ پر اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں کی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 3 ڈاکوؤں کے جواب میں اکیلا شہری ان کا بہادری سے مقابلہ کررہا ہے اور شہری نے پتھر مارمار کرمسلح لٹیروں کو بھاگنے پر مجبورکردیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلح لٹیروں کے حوصلے اتنے بلند ہو چکے ہیں پولیس آس پاس موجود بھی ہوتو وہ آرام سے وارداتیں کرتے ہیں اور فرار ہو جاتے ہیں جبکہ پولیس کو کانوںکان خبر تک نہیں ہوتی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کی روک تھام کیلیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرنے کی ضرورت ہے اوراس جرم کے خاتمے کیلیے پولیس کو شہریوں کے ساتھ ملکر ایک موثرحکمت عملی بنانی چاہیے تاکہ اس جرم سے چھٹکارا پایا جا سکے۔