آخری سیاسی معرکہ بھی تحریک انصاف نے جیت لیا

پی پی پی کو اپوزیشن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا کوئی خفیہ مشن دیا گیا تھا جو انہوں نے پورا کیا۔


Irshad Ansari September 05, 2018
پی پی پی کو اپوزیشن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا کوئی خفیہ مشن دیا گیا تھا جو انہوں نے پورا کیا۔ فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف کی نومنتخب حکومت نے اپنی مدت کا آغاز کردیا ہے لیکن ابتدائی طور پر جو معاملات سامنے آرہے ہیں وہ زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہیں، سو روزہ پلان کے حوالے سے کئے جانیوالے دعوں پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

معاشی و مالی حالات کے ساتھ ساتھ اقتصادی اعشاریئے جو رُخ اختیارکر رہے ہیں اس سے آنے والے دنوں میں حکومت کیلئے مسائل اور چیلنجز گھمبیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ حکومتی ٹیم کو حالات کادرست ادراک نہ ہو جس کی وجہ سے اب آہستہ آہستہ مسائل کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اس دوران ایسی خطائیں سرزد ہو رہی ہیں جن سے بچا جا سکتا تھا۔ دیکھا جا رہا ہے کہ حکومت کی توانائیاں غیرضروری مسائل میں الجھ کر ضائع ہو رہی ہیں۔

بہت سے ایسے واقعات ہوئے جن کا بظاہر انتخابات کے دوران اعلان کردہ حکومت کے اصل ایجنڈے سے کوئی تعلق نظر نہیںآرہا ہے۔ ایک عام آدمی جو حالات کے سدھرنے کا انتظار کر رہا ہے اس کیلئے یہ کوئی خوشگوار تجربہ نہیں تھا کہ اعلیٰ حکومتی اہلکار پرائم ٹائم ٹی وی پر لگاتار وضاحتیں پیش کر رہے تھے، جو مزید الجھاو پھیلارہی تھیں اور معمولی باتیں غیر ضروری طوالت پکڑ رہی تھیں۔

دوسری جانب حقیقی مسائل کے حل کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات ابھی تک سامنے نہیں آئے۔ کہا جا رہا ہے کہ ابھی مختلف متبادل اقدامات کو پرکھا جا رہا ہے اور اس کے بعد آخری انتخاب کیا جائے گا۔ ان حالات میںعام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ یہ وقت واقعی متبادل راستوں کی تحقیق پر لگ رہا ہے یا کسی ذہنی خلفشار اور تذبذب کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس وقت ملک کو درپیش چیلنجز میں اولین چیلنج ملک کی معیشت کا ہے جو زبوں حالی کا شکار ہے اور ہر آنے والا دن ملک کی معاشی بیماری میں اضافہ کر رہا ہے۔ بغیر ٹھوس اقدامات کے اس میں کوئی افاقہ ہونا بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی) کے اقتصادی اعشاریئے سب کے سامنے ہیں۔ بیرونی ادائیگیوں میں دو ارب ڈالر سے زیادہ کا خسارہ ہوا ہے، جو گذشتہ سال کی آخری سہہ ماہی میں ہونے والے دو ارب اوسط خسارہ سے بھی زیادہ ہے جبکہ حال ہی میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں 25 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے جوکہ اگرچہ حوصلہ افزا ہے تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عیدالاضحٰی کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کا تعلق نئی حکومت کے قیام سے نہیں ہے اور پھر تمام تر حکومتی دعووں کے باوجود فی الحال بیرونی سرمایہ کاری میں کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیںآیا ہے۔

اب اطلاعات یہ ہیں کہ موجودہ حکومت رواں مالی سال کے بجٹ پر نظر ثانی کرنے جا رہی ہے اور گذشتہ حکومت کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر دی جانیوالی کھربوں روپے کی ٹیکس مراعات کو کم کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت کو ایسا کرنے پر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ملکی و قومی مفاد اسی میں ہے کہ وسائل کو بڑھانے کیلئے حقیقت پسندی پر مبنی سخت فیصلے کئے جائیں۔ اسی طرح ابھی اسٹیٹ بینک کی جانب سے عدالت عُظمٰی میں رپورٹ پیش ہوئی جس میں بتایا گیا ہے صرف دبئی میں پاکستانیوں نے ایک کھرب پچاس ارب ڈالر کی جائیدایں بنائی ہیں جن کے بارے میں معلومات بھی مل چُکی ہیں۔

یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا اور اگر حکومت بیرون ممالک سے پچیس فیصد بھی اثاثے واپس پاکستان لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ملکی معیشت کیلئے ایک بہترین آکسیجن ثابت ہوگی مگر عوامی و ویاستی ردعمل کے ڈر سے موجودہ حکومت بھی معیشت کو جوں کا توں چلنے کے فارمولے پر سمجھوتہ کرتے دکھائی دے رہی ہے۔ مگر یہ حکمت عملی زیادہ دیر نہیں چل سکتی اور پہلی حکومتوں کی طرح اس حکومت کو وراثت میں ملنے والے مسائل کو حل کرکے معاملات کو درست کرنے کی ذمہ داری بھی اب اسی حکومت کی ہے اور جب تک اس کی درستگی کیلئے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے یہ تفاوت بڑھتا جائیگا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے 9 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی ہے جبکہ وزیر منصوبہ بندی کو کابینہ کی سی پیک کمیٹی کاچیئرمین مقررکیا گیا ہے۔ اس وقت حکومت اور فوج بھی ایک پیج پر نظر آرہے ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تیسری بار وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور ملک کے سیاسی ،سفارتی حلقوں میں اسے بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

ملک کی بڑی خبر صدارتی الیکشن ہے، اپوزیشن کے اختلافات کے باعث نتیجہ سب کو پہلے سے معلوم تھا البتہ اگر اپوزیشن متحد ہوتی تو صورتحال مختلف ہوسکتی تھی مگر اب باضابطہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی ملک کے 13ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

صدارتی انتخاب کے مقابلے میں تین امیدوار سامنے تھے جن میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی، متحدہ اپوزیشن کے امیدوار مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن شامل ہیں،اپوزیشن کو باہمی انتشار کا شکار کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے حکومتی پارٹی کا درپردہ خوب ساتھ دیا اور اپوزیشن متحد نہ رکھ کر پی ٹی آئی کے عارف علوی کو بھاری مارجن سے فتح یاب ہونے کا موقع دیا ہے، اس عمل سے جہاں اپوزیشن کی رہی سہی ساکھ ختم ہوئی وہاں مستقبل میں اپوزیشن میں شدید توڑ پھوڑ اور مسائل کی بھی نشاندہی ہو رہی ہے۔

باخبرحلقوں کا کہناہے کہ پی پی پی کو اپوزیشن کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا کوئی خفیہ مشن دیا گیا تھا جو انہوں نے پورا کیا اور اپوزیشن کی ڈوبتی ناؤکو مزید ڈبونے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں حکومتی پارٹی کے امیدوار باآسانی الیکشن جیت گئے ہیں۔ اور پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عارف علوی کو ملک کا صدر بنوانے کا سہرا بھی پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے سر جاتا ہے اور نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک کی پیپلز پارٹی کی روش کی بنیاد پر بعض حلقوں کی جانب سے پیپلز پارٹی کو پی آئی ٹی کا معاون و غیر اعلانیہ و سٹرٹیجک اتحادی قرار دیا جا رہا ہے۔