منصفانہ انتخابات وقت کی ضرورت

حکمرانوں کو بھی احساس کر لینا چاہیے کہ قوم منصفانہ انتخابات سے کم...


Editorial August 15, 2012
وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے منصفانہ الیکشن اور سازگار سیاسی ماحول کے لیے منگل کو اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر سیاسی قائدین سے رابطے کیے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے منصفانہ الیکشن اور سازگار سیاسی ماحول کے لیے منگل کو اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر سیاسی قائدین سے رابطے کیے۔ وزیراعظم نے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے گورنرز، وزرائے اعلٰی، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور قائد حزب اختلاف چوہدری نثار سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور یوم آزادی کی مبارکباد دی۔ وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ان رابطوں کا بنیادی مقصد ملک میں صاف و شفاف و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار سیاسی ماحول قائم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے ن لیگ سمیت ہر جماعت سے رابطہ کریں گے۔ وزیر اعظم سے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کی قیادت میں فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ کے وفد، ارکان قومی اسمبلی مفتی اجمل خان' سجادالحسن' مشتاق اعوان' طارق تارڑ' تصدق مسعود خان، سابق ایم این اے نذیر جٹ اور گوجر خان کے عمائدین کے وفد نے الگ الگ ملاقات کی۔ ملک کو درپیش مختلف النوع چیلنجوں اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے عظیم ہدف کے پیش نظر وزیراعظم کا سیاسی جماعتوں سے رابطہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

اس سے نہ صرف باہمی محاذ آرائی، نہ ختم ہونے والی کشیدگی کی شدت کم ہو گی، سیاسی مفاہمت، روادارانہ سیاسی کلچر کو فروغ حاصل ہو گا بلکہ آیندہ انتخابات کے شفاف، منصفانہ، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انعقاد کے بارے میں اعصاب شکن اندیشوں، بلاجواز شکوک و شبہات، گمراہ کن پروپیگنڈے اور رائے دہندگان کے ووٹوں کی قدروقیمت اور جمہوری نظام میں الیکشن کی بے اعتباریت کے حوالے سے کئی ایک غلط فہمیوں، خوش گمانیوں اور ذہنی خلفشار کا بھی خاتمہ ہو گا اس لیے اس مقصد کے حصول کے لیے جہاں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا سیاسی قیادتوں سے رابطہ بروقت ہے وہاں سیاسی ٹمپریچر کے معتدل ہونے، مصلحتوں، گروہی مفادات اور سیاسی رنجشوں سے پیدا شدہ بداعتمادی کی فضا کے سازگار ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ بعض تجزیہ نگار، دانشور حضرات حکومت کی کارکردگی سے نالاں ہیں' اپوزیشن رہنمائوں اور مذہبی حلقوں کے نزدیک محض جمہوری نعرہ زنی کے طرز پر انتخاب برائے انتخاب قومی مسائل کا حل نہیں اور یہ رائے بیک جنبش قلم رد بھی نہیں کی جا سکتی تاہم جب مقصد شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہو ادھر وطن عزیز کو صبر آزما چیلنجوں کا سامنا ہو تو ایسے انتخابی عمل کی صداقت، مقصدیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ امید کرنی چاہیے کہ حکومت اگر آیندہ شفاف الیکشن کو ایک قسم کا عہدوپیماں اور شرط اول قرار دیتے ہوئے اس کی قوم سے سچے وعدے کے طور پر تکمیل کے لیے کمر بستہ ہے تو اس کی ہر سیاسی جماعت کو قدر کرنی چاہیے اور اس کی نتیجہ خیزی کی ہر محب وطن کو دعا کرنی چاہیے جب کہ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ انتخابی عمل کی عدم شفافیت، جعلسازی، قبل از الیکشن دھاندلی اور 'جھرلو' ٹائپ الیکشن نے اس ملک کی جمہوری جڑیں کمزور کیں، آمریت نے انتخابی اور جمہوری تسلسل کے بجائے اسٹیٹس کو، جبر اور ایڈہاک ازم کو قومی زندگی پر مسلط کرکے معاشی اصلاحات اور جمہوری قلب ماہیت کا راستہ روکا، نئے فکری و نظریاتی ابھار اور ناگزیر سماجی تبدیلی کی ہر کوشش کو خاک بسر کر دیا۔

اب جب کہ وقت کے تیور بدلے ہیں، حکمرانوں کو بھی احساس کر لینا چاہیے کہ قوم منصفانہ انتخابات سے کم کسی بات پر رضامند نہیں ہو سکتی۔ موجودہ صورتحال کسی طور مثالی نہیں، ملک سیاسی، اقتصادی اور نفسیاتی زلزلوں کی زد میں ہے، آئے دن دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، فرقہ وارانہ اور لسانی منافرت کے باعث شہروں میں ہلاکتوں کا بازار گرم ہے، شہریوں کو ناقابل بیان مسائل کے طوفانوں نے گھیر رکھا ہے۔ مہنگائی نے نیم جان کر دیا ہے۔ بلاشبہ جمہوریت رویوں کی شفافیت کا بھی نام ہے۔ یہ رویے ملک کے عظیم تر مفاد اور سیاسی جماعتوں کے باہمی بے لوث اشتراک عمل اور خیرسگالی پر مبنی جذبات و احساسات کے مرہون منت ہونے چاہییں۔ یہ طرز فکر توانا ہو جائے تو اسی کی نم مٹی سے عوامی فلاح و بہبود کے حصول کی جستجو کے پھول کھل اٹھیں گے اور ہر پاکستان کو اس عوامی طرز حکومت کے ثمرات سے فیض اٹھانے کا موقع بھی مل سکے گا۔

چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی و جمہوری قوتیں انتخابات کے غیرجانبدارانہ و منصفانہ عمل کے حوالے سے ایک نکاتی فارمولہ پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور ساتھ ساتھ نگران حکومت کے قیام کے لیے اتفاق رائے اور اتحاد کی کوششوں کو بروئے کار لائیں۔ حکمرانوں کو بہرطور وقتی مصلحتوں سے بالاتر رہنا چاہیے تبھی قوم بند گلی اور خود اپنے پیدا کردہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی بھنور سے باہر نکل سکتی ہے۔ ملکی سیاسی منظرنامہ کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ جتنی جلد سیاسی قیادتوں کا انتخابی عمل کی شفافیت پر اعتبار بحال ہو گا قوم کی منزل اتنی ہی سرعت سے قریب آتی جائے گی اور اگر ایک بار منصفانہ انتخابات کا وعدہ پورا ہو گیا تو قوم اپنے بہت سارے غم بھلا دے گی۔

اس کی داخلی و خارجی محاذ پر پیدا شدہ مایوس کن صورتحال اور دہشت گردی کے عذاب سے بھی جان چھوٹ سکے گی۔ اس پس منظر میں جنرل کیانی کا یوم آزادی کی تقریب کے موقع پر وہ خطاب بھی قابل غور ہے جس میں انھوں نے اندرونی خلفشار، باہمی لڑائی جھگڑے، اداروں میں تصادم کے باعث ریاستی ڈھانچے کے لرزہ براندام ہونے کا شکوہ کیا اور کہا کہ ہر طرف مایوسی، ناامیدی، مذہبی منافرت، سیاسی خلفشار اور انتہاپسندی کے سائے ہیں۔ کیا واقعی ہم ایسے ہی روح فرسا اور دلگداز منظرنامہ میں نہیں جی رہے؟ تو سیاست دانوں کو آگے بڑھ کر جمہوریت کی روح کے مطابق اقدامات کرنے چاہییں۔

اب حکومت اور تمام سیاسی قیادتوں پر لازم ہے کہ وہ ساری تلخیاں اور لڑائی جھگڑے ختم کر کے شفاف انتخابات کو اپنا ایجنڈا بنائیں، انتخابی عمل کی جزئیات، تکنیکی نزاکتوں اور باریکیوں پر قومی اتفاق رائے پیدا کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز اشرف نے کہا کہ ہمیں قومی اہمیت کے امور پر سر جوڑ کر اور مل کر کام کرنا ہو گا۔ انھوں نے صوبوں میں بجلی کی منصفانہ تقسیم کے لیے کمیٹی کے قیام میں شہباز شریف کے کردار کو سراہا۔ شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ عام آدمی کی مشکلات کے حل تلاش کرنے کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

وزیراعظم نے یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے ہم اپوزیشن کو اعتماد میں لے رہے ہیں اور نگراں حکومت کے قیام پر مفید بات چیت چاہتے ہیں' ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور امید کرتے ہیں کہ سیاسی قائدین قومی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے حکومت سے تعاون کریں گے' ہم تمام اہم قومی معاملات بشمول نگران حکومت کے قیام میں اپوزیشن کے ساتھ مفید مذاکرات کے قائل ہیں تاکہ اہم قومی امور کو باہمی اتفاق رائے سے حل کیا جائے' آج ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہیں۔

بلوچستان کا مسئلہ پچھلی حکومتوں کی غیردانشمندانہ پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، چند مٹھی بھر ملک دشمن عناصر اور بیرونی قوتوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے صوبے میں کشمکش کی فضا پیدا ہو گئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ امید ہے کہ قومی تشویش کے اسی سلسلہ ہائے دوردراز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمران قوم کو انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے ایک خوش آیند پیغام دیں گے۔