’’انزی دی لیجنڈ ‘‘ سے جواب پوچھیں

اچانک پاکستانی ٹیم ٹریک سے کیسے نیچے اتر گئی، یہ سوال ان دنوں ہر کرکٹ شائق کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔


Saleem Khaliq September 25, 2018
اچانک پاکستانی ٹیم ٹریک سے کیسے نیچے اتر گئی، یہ سوال ان دنوں ہر کرکٹ شائق کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت کیخلاف2 بدترین شکستیں، افغانستان پر بمشکل فتح، بیٹنگ، بولنگ نہ ہی فیلڈنگ میں خاص کارکردگی، اچانک پاکستانی ٹیم ٹریک سے کیسے نیچے اتر گئی، یہ سوال ان دنوں ہر کرکٹ شائق کے ذہن میں گردش کر رہا ہے، میرا خیال ہے اس کا جواب چیف سلیکٹر ''انزی دی لیجنڈ'' (ٹویٹرپر انھوں نے اپنا یہی نام لکھا ہے) سے پوچھنا چاہیے۔

جس وقت اسکواڈ منتخب ہوا تب ہی واضح تھا کہ یہ متوازن نہیں ہے، فاسٹ بولرز کی بھرمار تھی جیسے ٹیم کو یو اے ای نہیں بلکہ آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ کی تیز پچز پر میچز کھیلنا ہیں، تجربے کی خاصی کمی نظر آئی، ایک ایک کر کے تمام سینئرز کو باہر کیا جا رہا ہے، شعیب ملک اس لیے بچ گئے کہ وہ باربار اعلان کرتے رہتے ہیں کہ اگلے سال ورلڈکپ کے بعد خود ہی ریٹائر ہو جاؤں گا، شاید سلیکشن کمیٹی سمجھی کہ ایشیا کپ میں بھی نوجوان کھلاڑی بہترین پرفارم کرتے ہوئے ٹیم کو فتوحات دلاتے رہیں گے مگر بدقسمتی سے تاحال ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

انضمام نے کھلاڑیوں کے متبادل تیار نہیں کیے، سرفراز احمد مسلسل کرکٹ کھیل رہے ہیں مگر کوئی ایسا وکٹ کیپر سامنے نہیں لایا گیا جسے کپتان کو آرام دینے کیلیے کبھی موقع دیا جائے، عامر کو ناکامیوں کے باوجود مسلسل کھلایا جا رہا ہے، سلیکٹرزکوئی معیاری اسپنر تک تلاش نہیں کر سکے، یہی انضمام الحق لاہور قلندرز سے کئی لاکھ روپے لے کر شہر شہر گھومتے رہتے ہیں ذرا ان سے پوچھیں کہ آپ نے کبھی پی سی بی کیلیے اتنی تندہی سے ٹیلنٹ تلاش کیوں نہیں کیا؟ سارا کھیل ہی بس پیسے کا ہے۔

بھارت سے دوسرے میچ میں9 وکٹ سے عبرتناک شکست لمحہ فکریہ ہے، ایسی کارکردگی پر ہم کیسے ورلڈکپ جیتیں گے؟ہماری پوری ٹیم نے بمشکل 237 رنز بنائے تو پچ بہت مشکل لگی کہ سنگلز ہی بنا لیں تو غنیمت ہوگی، مگر اسی وکٹ پر بھارتی اوپنرزروہت شرما اور شیکھر دھون نے پاکستانی بولنگ کو کھلونا بنا لیا، اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گرین شرٹس اعتماد سے بالکل عاری ہیں، امام الحق سری لنکا اور زمبابوے جیسی کمزور ٹیموں کیخلاف چار سنچریوں کے بعد آسمان کی بلندیوں پر اڑ رہے تھے مگر بدقسمتی سے بڑی ٹیموں سے میچز میں ان کا اعتماد نجانے کہاں کھو جاتا ہے، بھارت سے دونوں میچز میں وہ فلاپ ثابت ہوئے، فخر زمان بھی ان دنوں جدوجہد کر رہے ہیں۔

گزشتہ میچ میں جب ایسا محسوس ہوا کہ اب قدم جما چکے تو سلپ ہو کر ایل بی ڈبلیو ہو گئے، ایک بھارتی وکٹ کیپر مہندرا سنگھ دھونی ہیں جو وکٹوں کے عقب سے دیکھ کر ریویو لینے کا کہہ دیتے ہیں جس پر ٹیم کو وکٹ بھی مل جاتی ہے، دوسری جانب ہمارے بابر اعظم سامنے سے دیکھ کر بھی فخرزمان سے نہ کہہ سکے کہ گیند شاید گلوز سے لگی ہو لہٰذا تھرڈ امپائر سے رجوع کر لو، پھررن آؤٹ ہو کر وکٹ بھی گنوا دی،اس کے بعد پاکستانی ٹیم نے نائنٹیز والی کرکٹ کھیلی سرفراز اور شعیب دونوں سنگلز پر انحصار کرتے رہے۔

جس سے رن ریٹ بہت کم ہو گیا، پھر جب ایسا لگا کہ سیٹ ہو گئے ہیں تو سرفراز وکٹ گنوا بیٹھے، شعیب نے گوکہ ایک اور اچھی اننگز کھیلی مگر وہ اختتامی اوور تک کریز پر رہتے تو پاکستان کا اسکور زیادہ ہو سکتا تھا، ماضی میں کرکٹ ایسے ہی ہوا کرتی تھی کہ ابتدا میں وکٹیں بچاؤ آخر میں ہٹنگ سے بڑا اسکور بناؤ، مگر اس وقت ہمیں اچھے آل راؤنڈرز کا ساتھ حاصل تھا بدقسمتی سے اب ایسا نہیں ہے کہ کوئی آکر چھکوں چوکوں کی برسات کر دے،گوکہ آصف نے چند اچھے اسٹروکس کھیلے مگر پھر کسی کلب کرکٹر کی طرح رخصت ہو گئے۔

بولنگ میں جس ٹیم کا مین اسٹرائیک بولر پانچ میچز سے کوئی وکٹ نہ لے سکا ہو وہ کیسے حریف کی وکٹیں اڑائے گی،عامر کی کرکٹ میں دلچسپی اب کم لگ رہی ہے، ویسے بھی اب وہ اچھے سیٹ ہو چکے، برطانوی شہریت بھی شاید ملنے والی ہے، ایسے میں ان کے حوالے سے بھی سلیکٹرز کوکوئی فیصلہ کرنا ہوگا، حسن علی کی توجہ اب کرکٹ سے زیادہ سوشل میڈیا اور اسٹائل وغیرہ پر ہو گئی ہے، اسی لیے ان کی کارکردگی بھی زوال پذیر ہے،ان کوسمجھنا ہوگا کہ یہ اسٹارڈم کرکٹ کی وجہ سے ہی ہے، اگر پرفارمنس اچھی نہ ہو تو کچھ اچھا بھی کریں تو بُرا لگتا ہے، سرفراز کی مثال سب کے سامنے ہے، کل تک وہ کسی کو ڈانٹتے بھی تھے تو منہ سے پھول جھڑتے محسوس ہوتے تھے اب وہی ڈانٹ سب کو بری لگتی ہے۔

کل کو پھر فتوحات ملیں تویہ کپتان کی ادا کہلائے گی، شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے کیریئر کا اچھا آغاز کیا مگر بدقسمتی سے ان کی بولنگ پر بہت زیادہ کیچز ڈراپ ہو رہے ہیں، بھارت سے دوسرے میچ میں بھی امام الحق نے روہت شرما کا آسان کیچ گرایا، چچا نے ان کی جگہ پکی کرنے کیلیے اظہر اورحفیظ کو باری باری باہر کیا،امام الحق پر اب زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تسلسل سے اچھا پرفارم کریں، بدقسمتی سے ہماری ٹیم سلیکشن میں پی ایس ایل کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے مگر اب لیگ میں پرفارمنس کی بنیاد پر نمایاں ہونے والے بعض کھلاڑی مسلسل ناکامیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

کپتان سرفراز احمد پرکوچ مکی آرتھر مکمل حاوی دکھائی دیتے ہیں، ٹیم میں اس وقت صرف کوچ کا ہی راج ہے، چیف سلیکٹر ماضی میں بڑوں بڑوں کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اب وہ بھی آرتھر کے سامنے زیادہ بات نہیں کرتے اورکوچ جسے کہیں منتخب اور ڈراپ کر دیتے ہیں،انھیںگھر بیٹھے 15،16 لاکھ روپے ماہانہ مل رہے ہیں۔

اسی لیے اب انا کوکہیں دفن کر آئے ہیں ورنہ ماضی کا انضمام ہوتا تو پی ایس ایل ڈرافٹ کمیٹی سے نکالے جانے کی توہین پر ہی عہدہ چھوڑ دیتا۔ خیر ابھی ایشیا کپ میں کم بیک کا پاکستانی ٹیم کے پاس موقع موجود ہے، پہلا ہدف بنگلہ دیش کو ہرا کر فائنل میں رسائی کا ہونا چاہیے، عامر مسلسل فلاپ ہیں، جنید خان کو کیا پانی پلانے کیلیے یو اے ای لائے ہیں، انھیں موقع دینا چاہیے، پھراگر بھارت کو فائنل میں زیر کر لیا تو ہمارے شائقین کی یادداشت ویسے ہی کمزور ہے، وہ سب کچھ بھول کر ہار پھول لیے استقبال کیلیے ایئرپورٹ پر موجود ہوں گے، امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا کیونکہ ٹیم اب مزید شکستوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

(نوٹ:آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔