کراچی سمیت اندرون سندھ میں موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن بند

مینوفیکچررزکوجاری ای ڈی بی سرٹیفکیٹ کاتقاضہ کیاجانے لگا،خریدار پریشان


Staff Reporter October 02, 2018
فروخت کیساتھ حکومتی ریونیوبھی کم،اوپن لیٹرپررائڈنگ بڑھے گی،فیصلہ واپس لیاجائے،صابرشیخ۔ فوٹو: فائل

WINNIPEG, MANITOBA/OTTAWA: سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ نے یکم اکتوبر سے نئی موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن بند کردی ہے جس سے موٹرسائیکل خریدنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین صابر شیخ کے مطابق موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کے لیے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے مینوفیکچررز کوجاری کردہ سرٹیفکیٹ کا تقاضہ کیا جارہا ہے جو سالانہ مدت ختم ہونے کے بعد 30ستمبر کو اپنی میعاد پوری کرچکے ہیں۔ مینوفیکچررز ای ڈی بی کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تجدیدی سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے جارہے ہیں تاہم ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے فی الفور رجسٹریشن بند کردی ہے۔

صابر شیخ نے کہا کہ رجسٹریشن بند کیے جانے سے خود سندھ حکومت کو بھی یومیہ 80لاکھ روپے ریونیو خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کراچی میں یومیہ 2 ہزار کے لگ بھگ موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ کی جاتی ہیں جن سے فی موٹرسائیکل 4 ہزار روپے فیس اور ٹیکس وصول کیاجاتا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ رجسٹریشن کا عمل فی الفور بحال کیا جائے۔