معاشی بحران اور اس کا حل

موجودہ حکومت کے پاس ابھی وقت موجود ہے‘ وہ اگر چاہے تو ان بحرانوں پر قابو پا سکتی ہے۔


Editorial October 11, 2018
موجودہ حکومت کے پاس ابھی وقت موجود ہے‘ وہ اگر چاہے تو ان بحرانوں پر قابو پا سکتی ہے۔ فوٹو:فائل

ملک کا معاشی بحران اب سب پر عیاں ہے' موجودہ حکومت جب برسراقتدار آئی' اس وقت بھی معاشی بحران موجود تھا' عام انتخابات سے پہلے جب انتخابی مہم جاری تھی' تحریک انصاف کی لیڈر شپ کا نعرہ تھا کہ وہ معاشی و اقتصادی بحران پر قابو پالیں گے' اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اچانک بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بہرحال اب حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا ہے' اس لیے امید کی جا سکتی ہے کہ معیشت کسی حد تک سانس لینے کے قابل ہو جائے گی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاشی بحران ختم ہو جائے گا۔ اس وقت روپے کی قیمت بہت زیادہ گرنے سے ڈالر اور دیگر غیرملکی کرنسیوں کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے سے غیرملکی قرضوں میںخود بخود902ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ سونا بھی62ہزار روپے فی تولہ ہو گیا ہے تاہم اسٹاک مارکیٹ میں تھوڑی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ روپیہ ڈی ویلیو ہونے سے مہنگائی کا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔ ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ ڈالر ، پائونڈ اور دیگر غیرملکی کرنسیاں پاکستان سے اسمگل ہو رہی ہے۔ یوں ملکی مارکیٹ میں ڈالر اور دیگر کرنسیوں کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا ہے۔

ادھر ملک کا کاروباری طبقہ بھی محتاط ردعمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ٹیکسوں کی بھرپور اور آئے روز کی کارروائیوں سے کاروباری طبقہ پریشانی سے دوچار ہو گیا ہے اور اس نے سرمایہ کاری روک لی ہے۔ اس وجہ سے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں جب کہ سرکاری ادارے یکطرفہ نوعیت کے قوانین کے سہارے کاروباری اور سرمایہ کار طبقے کو پریشان کر رہے ہیں' اس صورتحال نے معاشی بحران کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا اور حکومتی معاملات اسی طرح چلتے رہے تو معاشی بحران میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

الیکشن کے بعد جب کوئی بھی نئی حکومت برسراقتدار آتی ہے تو عموماً کاروباری سرگرمیوں پر مثبت اثرات پڑتے ہیں کیونکہ قیاس آرائیوں اور افواہوں کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ کاروباری اور سرمایہ کار طبقہ حکومت کو خوش آمدید کہتا ہے اور اس کے سامنے اپنے مسائل اور مشکلات رکھتا ہے اور اس کے بدلے حکومت کو تعاون کی پیشکش کرتا ہے لیکن موجودہ حکومت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔

موجودہ حکومت کے کرتا دھرتائوں کو اس پہلو پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے تحریک انصاف نے پہلے سو دن کا پلان دیا تھا لیکن ابھی اس کے سو دن مکمل ہونے سے پہلے ہی ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس پر ہر جانب سے تنقید ہونا شروع ہو گئی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے اکنامک منیجرز ابھی تک ایسا کوئی منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے ملک کا کاروباری اور سرمایہ کار طبقہ مطمئن ہو سکے۔ ایسی صورت میں مایوسی اور کنفیوژن بڑھ گئی ہے۔ بہرحال حکومت کے پاس ابھی خاصا وقت موجود ہے۔ اگر حکومت کے اکنامک منیجرز درست سمت کا تعین کر لیں تو مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے کاروباری طبقے کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ وفاقی چیمبر آف کامرس اور چاروں صوبوں کے چیمبرز آف کامرس اور دیگر صنعتکاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرے، ان سے تجاویز لے اور مشاورت کرے۔ اس کے ساتھ ملک بھر کی تاجر تنظیموں کے عہدیداروں اور بڑے تاجروں کے ساتھ بات چیت کا عمل مرحلہ وار شروع کرے۔

وزیراعظم' وزیر خزانہ' سیکریٹری خزانہ' وزیر تجارت اور سیکریٹری تجارت اس عمل میں شریک ہوں' ایف بی آر کے نمایندوں کو مشاورت میں شامل کریں۔ اس سے ملک کے صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کو اپنی تجاویز' شکایات اور تحفظات وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام تک پہنچانے کا موقع ملے گا اور اس کے ساتھ سرکاری اداروں کے سربراہوں کو بھی آگاہی ہو گی کہ ان کی پالیسی میں کہاں خرابی موجود ہے۔ صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کو قوانین میں جکڑنے اور سرکاری افسروں اور اہلکاروں کو بے جا اختیارات سے لیس کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ بڑھیں گے۔

پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر سخت مسائل کا سامنا ہے۔ ابھی تک معاشی بحران ایک عذاب بنا ہوا ہے' دہشت گردی کا عفریت بھی تاحال خاموشی سے حکومت کے لیے درد سر بن رہا ہے' ابھی حکومت نے اس جانب آنا ہے' جب حکومت اس جانب آئے گی تو تب اسے پتہ چلے گا کہ اس عفریت پر قابو پانا کتنا مشکل کام ہے' تحریک انصاف کا فکر و فلسفہ کیا ہے' اس کا پتہ بھی تب ہی چلے گا جب وہ دہشت گردوں کے خلاف کوئی پالیسی مرتب کرے گی کیونکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ دہشت گردی ہی ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر جس دبائو اور تنہائی کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ بھی درحقیقت دہشت گردی ہی ہے۔

جب تک پاکستان سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان کی مشکلات میں کمی کا سوچنے والے احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ ابھی تک دہشت گردی کے حوالے سے موجودہ حکومت کا کوئی منصوبہ اور حکمت عملی سامنے نہیں آئی' حکومت نے تاحال ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا ہے' اصل آپریشن تو انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کرنا ہے' دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا حکومت میں اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ کام کر سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ پانی کا بحران سر پر آ چکا ہے۔ یہ اقتصادی بحران سے بھی بڑا بحران ہے۔ ملک کی زراعت تباہ ہو رہی ہے' دیہات میں غربت بڑھ رہی ہے' سرکاری عمال کی چیرہ دستیاں مغلیہ عہد کے آخری دور کی یاد دلا رہی ہیں جب شاہی عمال نے کسانوں اور کاروباری طبقے کا استحصال کئی گنا بڑھا دیا۔

موجودہ حکومت کے پاس ابھی وقت موجود ہے' وہ اگر چاہے تو ان بحرانوں پر قابو پا سکتی ہے' لیکن اس کے لیے حکومت کو ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کے درمیان ایک قابل قبول ارینجمنٹ قائم کرنا ہوگا' اگر حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر ملکی معیشت بھی استحکام کے راستے پر چل پڑے گی اور ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا سفر بھی شروع ہو جائے گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان پر عالمی دبائو بھی ختم ہو گا اور اس کی تنہائی بھی ختم ہو گی۔

مقبول خبریں