افغانستان میں تبدیلی کے اشارے

زلمے خلیلزاد کی طالبان لیڈرشپ سے ملاقات ایک بریک تھرو ہو سکتا ہے۔


Editorial October 15, 2018
زلمے خلیلزاد کی طالبان لیڈرشپ سے ملاقات ایک بریک تھرو ہو سکتا ہے۔ فوٹو : فائل

نیویارک میں ''نائن الیون'' کے بہانے سے افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے جو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بحران سے باہر نہیں نکل سکا۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز بڑی تعداد میں موجود ہیں جنھیں افغان فوج کو تربیت دینے کے بہانے وہاں رکھا ہوا ہے مگر افغانستان کے طالبان امریکیوں کے اپنے وطن سے مکمل انخلاء کے بغیر چین سے بیٹھنے پر تیار نہیں اور ان کی طرف سے غیر ملکی فوج کے ساتھ افغانستان کے سرکاری اہلکاروں پر حملے مسلسل جاری رہتے ہیں۔ تازہ واقعہ میں افغانستان کے شمالی صوبہ تخار میں ایک خاتون پارلیمانی امیدوار کی انتخابی ریلی میں ہونیوالے بم حملے میں ابتدائی اطلاع کے مطابق 14 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہو گئے۔

واضح رہے افغانستان میں 20 اکتوبر کو انتخابات ہونا ہیں۔ دھماکا خیز مواد ایک موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا جسے ضلع روستک میں ہونے والی اْس انتخابی ریلی کے قریب کھڑا کیا گیا جس سے ایک خاتون پارلیمانی امیدوار نے خطاب کرنا تھا۔ ریلی میں شرکت کے لیے کافی زیادہ لوگ جمع تھے تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکا کے وقت خاتون امیدوار وہاں موجود نہیں تھی چنانچہ وہ محفوظ رہی۔

حملے کی ذمے داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم طالبان کی طرف سے دھمکی دی جا چکی ہے کہ وہ انتخابات کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنیوالے ہر شخص کو نشانہ بنائینگے۔ دوسری طرف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے لیے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے قطر میں طالبان رہنماؤں کے نمایندوں سے ملاقات کی ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ گزشتہ سترہ برسوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکی سفارتکار پر واضح کیا گیا کہ غیر ملکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

واضح رہے امریکی حکام نے 4 ماہ کے دوران دوسری بار طالبان نمایندوں سے براہ راست ملاقات کی ہے۔ امریکیوں کی اکثریت جاری17سالہ جنگ سے متاثرہ افغانستان کے معاملات میں امریکا کے ملوث ہونے پربے حد مایوس ہے۔

بہرحال زلمے خلیلزاد کی طالبان لیڈرشپ سے ملاقات ایک بریک تھرو ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی اس پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ افغانستان میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔

مقبول خبریں