نئی ڈیپ سی پالیسی فشریز سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

فیکٹریاں، ایکسپورٹ بند، 62 ارب کی انویسٹمنٹ ڈوبنے، 16لاکھ افرادکی بیروزگاری کا خطرہ


Staff Reporter October 17, 2018
فیکٹریاں، ایکسپورٹ بند، 62 ارب کی انویسٹمنٹ ڈوبنے، 16لاکھ افرادکی بیروزگاری کا خطرہ۔ فوٹو: فائل

نگراں وفاقی حکومت کی جانب سے 3 ماہ قبل فشریز سیکٹر کے اسٹک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیربنائی جانے والی نئی ڈیپ سی پالیسی نے رنگ دکھانا شروع کر دیے۔

گزشتہ 3 ماہ کے دوران فشریز سیکٹر کی آمدنی 80 فیصد سے کم ہو کر صرف 20 فیصد رہ گئی، نئی ڈیپ سی پالیسی ماہی گیروں اور لانچ مالکان کے لیے معاشی قتل ثابت ہو رہی ہے۔

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ نئی ڈیپ سی پالیسی بین الاقوامی ڈیپ ٹرالرز سی فشنگ کے مالکان کو نوازنے کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے اور دوسری جانب یہ پالیسی سندھ فشریز کے سیکٹر کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا باعث بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

بلوچستان فشریز نے پہلے ہی گجے پر پابندی لگا رکھی تھی اور اب وفاقی حکومت نے بھی نئی ڈیپ سی پالیسی کے تحت گجے پر پابندی لگا کر رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔