غذائی قلت کے خاتمہ کی ضرورت

خوراک کی کمی پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔


Editorial October 18, 2018
خوراک کی کمی پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON DC: اقوام متحدہ کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 821 ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہیں، جن میں سے35 ملین پاکستانی ہیں ۔ پاکستان میں قدرتی وسائل پر انحصار کرنے والوں میں اٹھارہ ملین چھوٹے کسان اور 14.6 ملین چرواہے اور فشر مین شامل ہیں۔ ان اعداد وشمارکو پڑھیں تو برملا کہا جاسکتا ہے کہ یہ صورتحال الارمنگ ہے، سندھ میں تھر کے علاقے میں نومولودوں کی اموات کا تسلسل اس منظرنامے کی بھیانک ترین حقیقت ہے۔

میڈیا تواتر سے ان اموات کی رپورٹنگ کرتا ہے اور صوبائی حکومت اس کی تردید کرتی ہے جب کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو سرے سے دلچسپی ہی نہیں ۔دنیا میں ہر 9 میں سے ایک شخص خوراک کی کمی کا شکار ہے جب کہ پاکستان بالخصوص سندھ میں صورتحال زیادہ خراب ہے، یہاں ہر دوسرا بچہ غذائی قلت کا شکار ہے، خوراک دستیاب ہے لیکن لوگوں تک نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

سندھ میں ایک جانب توگندم کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،لیکن اس کے باوجود بچے بھوک کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب خوراک کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام تک خوراک کی رسائی ممکن نہ ہونا ہے ۔ جدید ترین تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق عالمی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ قدرتی وسائل تباہی سے دوچار ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بھوک اور غذائی قلت کا شکار افرادکی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق فشریز کی صنعت تباہی کے دہانہ پر پہنچ چکی ہے۔پاکستان کے پاس وسائل موجود ہیں لیکن انھیں بہتر طریقے سے استعمال کرنے کا طریقہ کار موجود نہیں ہے اور دوسرا محکمانہ کرپشن اور غفلت پرکوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ حکومتی سطح پر اعلانات ، بیانات، دعوے اور صرف وعدے ہیں۔ خوراک کی کمی پر قابو پانے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، ہمیں زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانی پڑے گی،تاکہ ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور ملک سے غذائی قلت کا خاتمہ کیا جاسکے۔

مقبول خبریں