اختیارات کی بلدیاتی اداروں کو منتقلی سے ہی شہر بہتر ہوگا ورلڈ بینک

ضلعی بلدیاتی اداروں کے ریونیومیں اضافے کیلیے اربن پراپرٹی ٹیکس ایکسائزسے بلدیاتی اداروں کے سپرد کرنا ہوگا، وفد کاسروے


Staff Reporter October 18, 2018
ٹیکس منتقلی،کچراٹھکانے لگانے،انفراسٹرکچرکی بحالی اوربس ریپڈ نظام کے حوالے سے رپورٹس پرکابینہ میں بحث ہوگی،سعید غنی۔ فوٹو: فائل

ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ اختیارات کی بلدیاتی اداروں کو منتقلی سے ہی شہر بہتر ہوگا۔

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے اپنے دفتر میں ورلڈ بینک کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ سندھ حکومت ورلڈ بینک کے تعاون سے صوبے بھر میں سیلابی پانی کی نکاسی کا نظام بنانے، کچرے کو ٹھکانے لگانے اور کراچی کے انفرااسٹرکچر کو درست کرنے کے پروگرام میں بھرپور تعاون کرے گی اور اس سلسلے میں ورلڈ بینک کی مشاورت سے جلد صوبے بھر میں کام شروع کیا جائے گا۔

ورلڈ بینک کے وفد میں سینئر اربن اکنامسٹ مس یون ہی کیم، رینولڈ وائٹ (گلوبل لیڈآن سٹی مینجمنٹ اینڈ فنانسنگ) راجول اوستھی، گلوبل لیڈ آن ٹیکسیشن، شعیب اطہر (اربن ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ) شامل تھے۔

اس موقع پر ورلڈ بینک کے وفد نے صوبائی وزیر کو سروے سے آگاہ کیا اور کہا کہ کراچی اربن انفراسٹرکچر کی بحالی کیلیے انھیں ضلعی بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، اختیارات کی بلدیاتی اداروں کومنتقلی سے ہی شہر بہترہوگا، اور ان کے ریونیو میں اضافے کیلیے اربن پراپرٹی ٹیکس جو اس وقت محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن وصول کررہا ہے وہ ضلعی بلدیاتی اداروں کے سپرد کرنا ہوگا کراچی سمیت صوبے بھر میں سیلابی پانی کی نکاسی کے نظام کی بحالی پر کام کی سخت ضرورت ہے اور اس سے کئی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔

صفائی کا نظام بہتر بنایا جاسکے گا کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے بھی ورلڈ بینک سندھ حکومت سے بھرپور تعاون کرے گی ورلڈ بینک سندھ میں بس ریپڈ ٹرانسپورٹ پر بھی کام کررہی ہے تاکہ عوام کو سستی اور آسان ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ حکومت ورلڈ بینک سے تعاون کو تیار ہے اربن پراپرٹی ٹیکس کی ڈی ایم سیز کو جلدی منتقلی ممکن نہیں ہوسکے گی اس پر کابینہ میں بات کریں گے کچرا ٹھکانے لگانے، انفراسٹرکچر کی بحالی اور بس ریپڈ ٹرانسپورٹ نظام کے حوالے سے رپورٹس سندھ کابینہ میں زیر بحث لائیں گے ۔

دریں اثنا وزیر بلدیات و کچی آبادی سندھ سعید غنی نے ''ریبیز کنٹرول پروگرام ''کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے تحت 2030 تک دنیا بھر میں کتوں کے کاٹنے کے خاتمے کے پروگرام میں ہم ان کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

اس موقع پر وفد نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ تنظیم نے اس حوالے سے کراچی کا سروے مکمل کرلیا ہے کراچی میں کتوں کے کاٹنے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے وفد نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ آرگنائزیشن فار اینیمل ہیلتھ کے تعاون سے ابراہیم حیدری کی تین یونین کونسلوں میں2145 کتوں کی ویکسی نیشن مکمل کرلی گئی ہے۔

وزیر بلدیات سعید غنی نے وفد کی کاوشوں کو سراہا اور تعاون کی پیشکش کی انھوں نے کہا کہ کراچی کی 6 ڈی ایم سیز کی ہر یونین کونسل کے5 ملازمین کو ان کی آرگنائزیشن کے ساتھ ماسٹر ٹرینرزبنایا جائے گا۔