کراچی ٹریفک قوانین کی آڑ میں شہریوں پر ستمگری

قوانین کے اطلاق سے پہلے سرکاری اہلکاروں کی تربیت کا بھی بندوبست ہونا چاہیے۔


Editorial October 23, 2018
قوانین کے اطلاق سے پہلے سرکاری اہلکاروں کی تربیت کا بھی بندوبست ہونا چاہیے۔ فوٹو: فائل

ٹریفک قوانین شہریوں کی حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں جس کی پاسداری کرنا ہر ذی شعور شہری کی ذمے داری ہے، نیز ان قوانین کے موثر نفاذ اور شہریوں کو ان پر عملدرآمد کی جانب راغب کرنے کی ذمے داری ٹریفک پولیس کے سپرد کی جاتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنے دائرہ کار میں اپنے فرائض کی بخوبی انجام دہی کرتا رہے تو سسٹم مثالی رہتا ہے ورنہ یہی صورتحال ہوتی ہے جو آج کل شہر قائد میں دکھائی دے رہی ہے۔

کراچی میں ٹریفک پولیس اہلکار اندھا دھند چالان کاٹنے اور مبینہ طور پر رشوت وصولی میں اس قدر مشغول ہوگئے ہیں کہ وہ کسی شہری کی نہیں سنتے۔ کراچی میں رکشہ ڈرائیور کی خودسوزی اس امر کی کھلی دلیل ہے، بلاشبہ خودکشی کا عمل حرام اور قانوناً جرم ہے لیکن اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قوانین کی آڑ میں شہریوں کو اس حد تک ہراساں کردیا گیا ہے کہ وہ نفسیاتی مریض بن کر خودکشی جیسا انتہائی اقدام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔موٹر سائیکل سوار تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ٹریفک کے قوانین پہلے ہی موجود ہیں لیکن اپنی ''اضافی کارکردگی'' دکھانے کے لیے لایعنی اور ناقابل عمل فرمان جاری کرنا اور انھیں فوری لاگو کردینا مناسب طرز عمل نہیں۔ یقیناً ٹریفک کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل ستائش کہلائے جاسکتے ہیں لیکن شہر کی صورتحال اور ان قوانین کے لاگو ہونے میں حائل رکاوٹیں بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں رانگ وے کی خلاف ورزی پر محض چند روز میں تقریباً 30 ہزار چالان کیے گئے، جب کہ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی ڈیڈ لائن میں توسیع بھی ناقص حکمت عملی اور شہریوں کے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی ظاہر کرتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ڈھائی کروڑ کی آبادی کے لیے پہلے ڈرائیونگ لائسنس برانچز کی تعداد میں اضافہ کیا جاتا جو کہ محض 3 ہی ہیں۔

دوسری جانب یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والے شخص کو سو سوالات پر مشتمل ایک پرچہ تھما دیا جاتا ہے کہ انھیں یاد کرکے آیا جائے، جب شہری یہ سوال کرتے ہیں کہ ایک ان پڑھ شخص جو بائیک چلانا چاہتا ہے وہ کیسے اس پرچہ کو پڑھ پائے گا تو انھیں ''بکواس'' نہ کرنے کا حکم دے کر جھڑک دیا جاتا ہے۔

قوانین کے اطلاق سے پہلے سرکاری اہلکاروں کی تربیت کا بھی بندوبست ہونا چاہیے۔ نیز شہریوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی پولیس چیف کو پابند کیا جائے کہ وہ محض شاہی فرمان جاری نہ کریں بلکہ شہریوں کے مسائل کے حل میں بھی دلچسپی لیں اور خصوصاً اسٹریٹ کرائم سے شہریوں کو نجات دلائیں۔

مقبول خبریں