صوبہ بھر کی نرسوں نے ہڑتال کر دی سیکڑوں آپریشن ملتوی

اسپتالوں میں مریض پریشان،علاج سے محروم ،سرکاری اسپتالوں میں کام کرنیوالی نرسوں نے پریس کلب پر دھرنا کیمپ بنالیا۔


Staff Reporter October 23, 2018
ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس،نرسنگ یونیورسٹی،400 طلبا کاخصوصی امتحان ،نرسز طلبا کا وظیفہ  20 ہزار روپے مقرر،بھرتیاں اورفائیو ٹائر فارمولے کی منظوری کا مطالبہ۔ فوٹو: آن لائن

کراچی سمیت صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں کام کرنیوالی نرسوں نے مطالبات کی منظوری کے لیے کراچی پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دیا،سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال کردی جب کہ اوپی ڈی اور وارڈزکا بائیکاٹ شروع کردیا۔

صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسوں اورمیل نرسوں نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کے بعد پیر سے پریس کلب کے سامنے دھرنا شروع کردیا جس میں بڑی تعداد میں نرسوں نے شرکت کی، احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے،اس موقع پر حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی گئی۔

مظاہرے سے نرسنگ رہنما اعجازکلیری ،شاہداقبال ، سلامتی کھوکھر، حاجی واحد،غلام دستگیر اوڈھانو و دیگر نے خطاب کیااور مطالبہ کیا کہ سندھ میں نرسز کے لیے فائیو ٹائر فارمولے کی منظوری فی الفور دی جائے،صوبے بھر میں ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائے، 400 بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لیے پاکستان نرسنگ کونسل اور صوبائی محتسب اعلیٰ کے خصوصی امتحانات لینے کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے، نرسز طلبا کا وظیفہ 20 ہزار روپے مقرر کیا جائے جیسا کہ پنجاب اور کے پی کے میں ہے، نرسنگ اسکولز کو فی الفور ڈی ڈی او پاور دی جائے، نرسنگ یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر کے اس کے لیے بجٹ مختص کیا جائے، سندھ بھر میں نرسز کی 14 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں، سیکریٹریٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری ٹیکنیکل نرسنگ شعبے سے تعینات کیا جائے اور کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولر کی نشستوں سے متعلق پبلک سروس کمیشن کے اعلان کو من و عن رکھا جائے۔

پاکستان نرسنگ کونسل کے الیکشن جو صوبہ سندھ کے پہلے ہیں، اس میں سلیکشن کو فی الفورمنسوخ کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ 2017 کے احتجاج کے دوران بننے والی کمیٹی کی سفارشات بھی محکمہ صحت نے نہیں مانی جس پر مایوس ہو کر دوبارہ احتجاج شروع کر دیا ہے اور جب تک مطالبات پورے نہیں ہو جاتے احتجاج جاری رہے گا۔

نرسز سے اظہار یکجہتی کیلیے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی بھی مظاہرے میں آئے،اس موقع پر محکمہ صحت کی جانب سے ایڈیشنل سیکریٹری جلال الدین جلالانی نے نرسز سے مذاکرات کیے لیکن مذاکرات ناکام رہے اور نرسز نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔