صنعتی فضلہ شامل ہونے سے کینجھر جھیل کا پانی زہریلا ہو رہا ہےواٹر بورڈ

کے بی فیڈر میں شامل ہو نے والے مضر صحت پانی کی روک تھام کیلیے موثراقدامات کیے جائیں ،مصباح الدین فرید.


Staff Reporter June 19, 2013
کے بی فیڈر میں شامل ہو نے والے مضر صحت پانی کی روک تھام کیلیے موثراقدامات کیے جائیں ،مصباح الدین فرید.فوٹو: فائل

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ حکام کی جانب سے گزشتہ 10 سال سے باربار توجہ دلانے کے باوجود کے بی فیڈر اوردیگر قدرتی نالوں کے ذریعے کوٹری اور نوری آبادکی صنعتوں سے نکلنے والا زہریلا فضلہ کینجھر جھیل میں شامل ہونے کے علاوہ جھیل میں حیدرآباد اور نوری آباد کے رہائشی علاقوں کا سیوریج بھی شامل ہورہا ہے۔

جس سے جھیل مسلسل آلودہ ہورہی ہے، اس کی وجہ سے انسانی زندگی کوشدید خطرات لاحق ہیں، بالخصوص کراچی کے2کروڑ سے زائد شہر یوں کو کسی حد تک خطرناک صنعتی فضلہ سے زہرآلود پانی فراہم ہو نے کے قوی امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، ماحولیات ، آبپاشی، صنعت، صحت کے محکموں اورکوٹری و نوری آبادکی ضلعی انتظامیہ سمیت تمام محکموں کی جانب سے چشم پوشی انتہائی افسوسناک ہے، اس کے تدارک کیلیے اس اہم مسئلے کے حل کی جانب میڈیا خطوط اور اجلاس کے توسط سے حکام کو مسلسل لاحق شدید خطرات سے آگاہ کیا جارہا ہے اور اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ اس اہم انسانی مسئلہ کو حل کر نے کیلیے فوری اقدامات کیے جائیں،اگر فوری بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو دو کروڑ سے زائد آبادی والے کراچی کے لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہوجائیں گے۔



جس سے شہریوں کی زندگی کو شدید خطرت لاحق ہو جائیں گے،یہ بات واٹربورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر مصباح الدین فرید نے کینجھر جھیل کے متا ثرہ مقامات کے تفصیلی دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے صحافیوں کوبریفنگ کے دوران بتایا کہ گزشتہ دس سالوں سے واٹر بورڈ کی جانب سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود متعلقہ محکموں کی جانب سے غفلت، لاپروائی، عدم توجہی اور بے حسی کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے جبکہ اب تک ان محکموں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات عارضی اور معمولی نوعیت کے ہیں۔

صنعتی علاقوں سے آنے والا زہریلا پانی جھیل میں مسلسل شامل ہو رہا ہے ،انھوں نے محکمہ آبپاشی ما حولیات ای پی اے اورصنعت کاروں کے عدم تعاون کے رویہ پر شدید ناراضگی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایاکہ واٹر بورڈ نے کمشنر حیدرآباد سے بھی ملاقاتوں میں انہیں ان تمام معاملات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود کسی قسم کی عملی کوششیں نہیں کی گئیں، انھوں نے ایک بار پھر محکمہ آبپاشی کے حکام سے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ آبپاشی نمائشی طور پر ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے معمولی کارروائی کرتا ہے جو قطعی ناکافی اور اس مسئلہ کا حتمی حل نہیں ہے،لہٰذا کے بی فیڈر میں شامل ہو نے والے مضر صحت پانی کی روک تھام کیلیے فوری نوعیت کے لیکن ٹھوس اور مثبت اقدامات کیے جائیں اور اس کا مستقل، دیرپا اور پائیدار حل نکالا جائے ۔