سپریم کورٹ کا این آئی سی ایل کے 42 کروڑ 2 ہفتے میں وصول کرنے کا حکم

بااثر افرادکوتحفظ دیاجارہا ہے،ایف آئی اے دلچسپی لے،ہم کچھ کہتے ہیںتوکہاجاتا ہے عدالت مداخلت کر رہی ہے،چیف جسٹس


Numainda Express August 18, 2012
بااثر افرادکوتحفظ دیاجارہا ہے،ایف آئی اے دلچسپی لے،ہم کچھ کہتے ہیںتوکہاجاتا ہے عدالت مداخلت کر رہی ہے،چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے این آئی سی ایل کیس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل اعظم خان کی جانب سے پیش کردہ عبوری رپورٹ پرعدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے مستردکردی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم آپ کی انگلی پکڑکرنہیں چلاسکتے، بظاہر لگتاہے کہ بااثر افرادکوتحفظ دیاجارہا ہے، ایف آئی اے کودلچسپی لیناہوگی جب ہم کچھ کہتے ہیںتوکہاجاتا ہے کہ عدالت مداخلت کر رہی ہے اورچیف جسٹس اورججز نے فلاں فلاں ریمارکس دیے ہیں ۔

ایف آئی اے کی42 کروڑ روپے کی ریکوری سے متعلق پیشرفت پر مبنی رپورٹ میںکہا گیاہے کہ مرکزی ملزم محسن حبیب وڑائچ کا پاسپورٹ منسوخ کرکے انھیں بلیک لسٹ کر دیاگیا ہے اور اس کی واپسی کیلیے انٹرپول سے رابطہ بھی کیا گیاہے جبکہ این آئی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکے دو ارکان کے پاسپورٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں اورڈی جی ایف آئی اے نے فیلڈ ڈائریکٹرکوایک ہفتے میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ،سیکریٹری تجارت نے عدالت کوبتایا کہ سابق چیئرمین ایازنیازی کی بطور چیئرمین این آئی سی ایل تقرری کے معاملے کی ایک اور انکوائری کرائی گئی ہے جو وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری نے کی اس کی رپورٹ کے مطابق ایازنیازی کی تقرری قانونی تھی۔

اے پی پی کے مطابق عدالت نے سیکریٹری تجارت کا جواب غیرتسلی بخش قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ سابقہ عدالتی احکامات کی نفی کررہے ہیں جس پرسیکریٹری تجارت نے استدعا کی کہ اس معاملے کی انکوائری کیلیے انھیںمزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے ان کو دوہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ ایازنیازی کی تقرری کے حوالے سے تمام عدالتی احکامات پرمکمل عملدرآمدکرکے رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو این آئی سی ایل کی لاہورمیںخوردبردکی گئی42کروڑ روپے کی رقم دوہفتے میں برآمدکرنے اور اس حوالے سے دوہفتوں میں مثبت پیشرفت کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے مزید سماعت دوہفتوںکیلیے ملتوی کردی ۔