حکومت سے منظور شدہ اسکول فیس اسٹرکچر ریکارڈ طلب

پرائیویٹ اسکولوں نے اب تک نیا فیس اسٹرکچر کیوں نہیں بنایا؟،کتنے اسکول خلاف ورزی کررہے ہیں؟جسٹس عقیل عباسی۔


Staff Reporter November 13, 2018
ڈی جی اسکولز کے مطابق فیس اسٹرکچر کا ریکارڈ بارش میں ضائع ہوگیا،اسکولز 5 فیصد سے زائد اضافہ کررہے ہیں،درخواست گزار۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سندھ ہائی کورٹ نے پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافے سے متعلق ڈی جی پرائیویٹ اسکولز اور 4 اسکولوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سے منظور شدہ فیس اسٹرکچر کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس عقیل عباسی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اشرف جہاں پر مشتمل بینچ کے روبرو پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت کے روبرو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود اسکولز 5 فیصد سے زائد اضافہ کررہے ہیں،ڈی جی اسکولز کے مطابق فیس اسٹرکچرز کا ریکارڈ بارش میں ضائع ہوگیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس طرح اہم ریکارڈ ضائع کردیا گیا ،سرکاری افسران کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا، عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ لوگ طاقتور لوگ ہیں مگر کمزور لوگوں کے بچے بھی رْل جاتے ہیں،جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ پرائیویٹ اسکولوں نے اب تک نیا فیس اسٹریکچر کیوں نہیں بنایا؟ ہم حکومت سے ریکارڈ مانگ لیتے ہیں ، کتنے اسکول خلاف ورزی کررہے ہیں؟

بینچ نے ڈی جی پرائیویٹ اسکولز اور چار اسکولوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے حکومت سے منظور شدہ فیس اسٹرکچر کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا،عدالت نے اسکولوںکو عدالتی حکم پر مکمل عمل کرنے اور ڈی جی پرائیویٹ اسکولز منسوب صدیقی کو 19 نومبر کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا۔